🏠 👥 🔍 🧩 🅰️ 📌 ↩️

Join Whatsapp Channel
مشكوة المصابيح سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
حدیث کتب میں نمبر سے حدیث تلاش کریں:

مشکوۃ المصابیح میں ترقیم شاملہ سے تلاش کل احادیث (6294)
حدیث نمبر لکھیں:
حدیث میں اردو لفظ/الفاظ تلاش کریں
اردو لفظ / الفاظ لکھیں:
حدیث میں اردو لفظ/الفاظ تلاش کریں
اردو لفظ / الفاظ لکھیں:

--. (لَا وَصِيَّةَ لِلْوَارِثِ)
وارث کے لیے وصیت نہیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 3073
3073 - وَعَنْ أَبِي أُمَامَةَ - رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ - قَالَ: سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - يَقُولُ فِي خُطْبَتِهِ عَامَ حَجَّةِ الْوَدَاعِ: إِنِ اللَّهَ قَدْ أَعْطَى كُلَّ ذِي حَقٍّ حَقَّهُ،فَلَا وَصِيَّةَ لِوَارِثٍ  . رَوَاهُ أَبُو دَاوُدَ، وَابْنُ مَاجَهْ، وَزَادَ التِّرْمِذِيُّ:"الْوَلَدُ لِلْفَرَاشِ وَلِلْعَاهِرِ الْحَجَرُ، وَحِسَابُهُمْ عَلَى اللَّهِ".
ابوامامہ رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں، میں نے رسول اللہ صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کو خطبہ حجۃ الوداع کے موقع پر فرماتے ہوئے سنا: اللہ نے ہر حق دار کو اس کا حق دے دیا، وارث کے لیے وصیت کرنے کا کوئی حق نہیں۔ ابوداؤد، ابن ماجہ۔ اور امام ترمذی رحمہ اللہ نے یہ اضافہ نقل کیا: بچہ بیوی کے مالک کا ہے جبکہ زانی کے لیے پتھر (یعنی رجم) ہے، اور ان کا حساب اللہ کے ذمہ ہے۔ صحیح، رواہ ابوداؤد وابن ماجہ والترمذی۔ [مشكوة المصابيح/كتاب الفرائض والوصايا/حدیث: 3073]
تخریج الحدیث: ´تحقيق و تخريج: محدث العصر حافظ زبير على زئي رحمه الله` «صحيح، رواه أبو داود (2870) و ابن ماجه (2713) و الترمذي (2120 وقال: حسن)»
قال الشيخ الألباني: صَحِيح
قال الشيخ زبير على زئي:صحيح

مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں