مشكوة المصابيح سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
--. (حُكْمُ العَبْدِ لِسَيِّدَتِهِ)
مالکن کے لئے اپنے غلام کا حکم
حدیث نمبر: 3120
[ ص: 2057 ] 3120 - وَعَنْ أَنَسٍ: أَنَّ النَّبِيَّ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - أَتَى فَاطِمَةَ بِعَبْدٍ قَدْ وَهَبَهُ لَهَا، وَعَلَى فَاطِمَةَ ثَوْبٌ إِذَا قَنَّعَتْ بِهِ رَأْسَهَا لَمْ يَبْلُغْ رِجْلَيْهَا ، وَإِذَا غَطَّتْ بِهِ رِجْلَيْهَا لَمْ يَبْلُغْ رَأْسَهَا، فَلَمَّا رَأَى رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - مَا تَلْقَى قَالَ: إِنَّهُ لَيْسَ عَلَيْكِ بَأْسٌ إِنَّمَا هُوَ أَبُوكِ وَغُلَامُكِ. رَوَاهُ أَبُو دَاوُدَ.
انس رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم ایک غلام لے کر فاطمہ رضی اللہ عنہا کے پاس تشریف لائے جسے آپ نے انہیں ہبہ کر دیا تھا، فاطمہ رضی اللہ عنہا پر ایک کپڑا تھا، جب فاطمہ رضی اللہ عنہا اس سے اپنا سر ڈھانپتیں تو وہ آپ کے پاؤں تک نہ پہنچتا، اور جب وہ اس سے اپنے پاؤں ڈھانپتیں تو وہ ان کے سر تک نہ پہنچتا، جب رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے ان کی اس پریشانی اور تکلیف کو دیکھا تو فرمایا: ”تم پر کوئی حرج نہیں، ان میں سے ایک تمہارے والد ہیں اور دوسرا تمہارا غلام ہے۔“ اسنادہ حسن، رواہ ابوداؤد۔ [مشكوة المصابيح/كتاب النكاح/حدیث: 3120]
تخریج الحدیث: ´تحقيق و تخريج: محدث العصر حافظ زبير على زئي رحمه الله` «إسناده حسن، رواه أبو داود (4106)»
قال الشيخ الألباني: صَحِيح
قال الشيخ زبير على زئي:إسناده حسن