صحيح البخاري سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
15. بَابُ إِذَا بَعَثَ بِهَدْيِهِ لِيُذْبَحَ لَمْ يَحْرُمْ عَلَيْهِ شَيْءٌ:
باب: اگر کوئی شخص اپنی قربانی کا جانور حرم میں کسی کے ساتھ ذبح کرنے کے لیے بھیجے تو اس پر کوئی چیز حرام نہیں ہوئی۔
حدیث نمبر: 5566
حَدَّثَنَا أَحْمَدُ بْنُ مُحَمَّدٍ، أَخْبَرَنَا عَبْدُ اللَّهِ، أَخْبَرَنَا إِسْمَاعِيلُ، عَنْ الشَّعْبِيِّ، عَنْ مَسْرُوقٍ أَنَّهُ أَتَى عَائِشَةَ، فَقَالَ لَهَا: يَا أُمَّ الْمُؤْمِنِينَ إِنَّ رَجُلًا يَبْعَثُ بِالْهَدْيِ إِلَى الْكَعْبَةِ، وَيَجْلِسُ فِي الْمِصْرِ، فَيُوصِي أَنْ تُقَلَّدَ بَدَنَتُهُ فَلَا يَزَالُ مِنْ ذَلِكِ الْيَوْمِ مُحْرِمًا حَتَّى يَحِلَّ النَّاسُ، قَالَ: فَسَمِعْتُ تَصْفِيقَهَا مِنْ وَرَاءِ الْحِجَابِ، فَقَالَتْ:" لَقَدْ كُنْتُ أَفْتِلُ قَلَائِدَ هَدْيِ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَيَبْعَثُ هَدْيَهُ إِلَى الْكَعْبَةِ، فَمَا يَحْرُمُ عَلَيْهِ مِمَّا حَلَّ لِلرِّجَالِ مِنْ أَهْلِهِ حَتَّى يَرْجِعَ النَّاسُ".
ہم سے احمد بن محمد نے بیان کیا، کہا ہم کو عبداللہ نے خبر دی، انہیں اسماعیل نے خبر دی، انہیں شعبی نے، انہیں مسروق نے کہ وہ عائشہ رضی اللہ عنہا کی خدمت میں آئے اور عرض کیا کہ ام المؤمنین! اگر کوئی شخص قربانی کا جانور کعبہ میں بھیج دے اور خود اپنے شہر میں مقیم ہو اور جس کے ذریعے بھیجے اسے اس کی وصیت کر دے کہ اس کے جانور کے گلے میں (نشانی کے طور پر) ایک قلادہ پہنا دیا جائے تو کیا اس دن سے وہ اس وقت تک کے لیے محرم ہو جائے گا جب تک حاجی اپنا احرام نہ کھول لیں۔ بیان کیا کہ اس پر میں نے پردے کے پیچھے ام المؤمنین کے اپنے ایک ہاتھ سے دوسرے ہاتھ پر مارنے کی آواز سنی اور انہوں نے کہا میں خود نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے قربانی کے جانوروں کے قلادے باندھتی تھی، نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم اسے کعبہ بھیجتے تھے لیکن لوگوں کے واپس ہونے تک نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم پر کوئی چیز حرام نہیں ہوتی تھی جو ان کے گھر کے دوسرے لوگوں کے لیے حلال ہو۔ [صحيح البخاري/كتاب الأضاحي/حدیث: 5566]
حضرت مسروق رحمہ اللہ سے روایت ہے کہ وہ حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا کی خدمت میں حاضر ہوئے اور عرض کی: ”ام المومنین! اگر کوئی شخص اپنی قربانی کعبہ بھیجے اور خود اپنے شہر میں ٹھہرا رہے، لے جانے والے کو وصیت کر دے کہ جانور کے گلے میں قلادہ (ہار) ڈال دیا جائے تو کیا وہ محرم ہو جائے گا یہاں تک کہ دوسرے لوگ احرام کھول دیں؟“ مسروق رحمہ اللہ کہتے ہیں کہ میں نے پسِ پردہ آپ کے ہاتھ مارنے کی آواز سنی۔ حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا نے فرمایا: ”میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی قربانی کے ہار بنایا کرتی تھی، آپ صلی اللہ علیہ وسلم جب اپنی قربانی کعبہ بھیجتے لیکن لوگوں کے واپس آنے تک آپ صلی اللہ علیہ وسلم پر کوئی چیز حرام نہ ہوتی تھی جو ان کے گھر کے دوسرے افراد پر حلال ہو۔“ [صحيح البخاري/كتاب الأضاحي/حدیث: 5566]
تخریج الحدیث: «أحاديث صحيح البخاريّ كلّها صحيحة»
الحكم على الحديث: أحاديث صحيح البخاريّ كلّها صحيحة