مشكوة المصابيح سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
--. (رِسْمُ الامْتِنَاعِ عِنْدَ الرُّخْصَةِ)
رخصتی کے وقت انکار کا رسم و رواج
حدیث نمبر: 3155
3155 - وَعَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ قَالَ أَنْكَحَتْ عَائِشَةُ ذَاتَ قَرَابَةٍ لَهَا مِنَ الْأَنْصَارِ فَجَاءَ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - فَقَالَ"أَهَدَيْتُمُ الْفَتَاةَ". قَالُوا نَعَمْ. قَالَ"أَرْسَلْتُمْ مَعَهَا مَنْ يُغَنِّى قَالَتْ لَا. فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ"إِنَّ الْأَنْصَارَ قَوْمٌ فِيهِمْ غَزَلٌ فَلَوْ بَعَثْتُمْ مَعَهَا مَنْ يَقُولُ أَتَيْنَاكُمْ أَتَيْنَاكُمْ فَحَيَّانَا وَحَيَّاكُمْ".. رَوَاهُ ابْنُ مَاجَهْ.
ابن عباس رضی اللہ عنہما بیان کرتے ہیں کہ عائشہ رضی اللہ عنہا نے انصار میں سے اپنی ایک عزیزہ کی شادی کی تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم تشریف لائے اور فرمایا: ”کیا تم نے لڑکی کو بھیج دیا؟“ انہوں نے عرض کیا: جی ہاں، آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: ”کیا تم نے اشعار پڑھنے والوں کو اس کے ساتھ بھیجا ہے؟“ عائشہ رضی اللہ عنہا نے عرض کیا: نہیں، تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: ”انصار ایسے لوگ ہیں جو گانے کا رجحان رکھتے ہیں، اگر تم اس کے ساتھ کسی ایسے شخص کو بھیجتی جو کہتا: «أَتَيْنَاكُمْ أَتَيْنَاكُمْ، فَحَيَّانَا وَحَيَّاكُمْ» ”ہم تمہارے پاس آئے، ہم تمہارے پاس آئے ہمیں بھی مبارک ہو اور تمہیں بھی مبارک ہو۔““ (سندہ ضعیف، رواہ ابن ماجہ)۔ [مشكوة المصابيح/كتاب النكاح/حدیث: 3155]
تخریج الحدیث: ´تحقيق و تخريج: محدث العصر حافظ زبير على زئي رحمه الله` «سنده ضعيف، رواه ابن ماجه (1900)
٭ أبو الزبير عنعن و أصل الحديث عند البخاري في صحيحه (5162)»
٭ أبو الزبير عنعن و أصل الحديث عند البخاري في صحيحه (5162)»
قال الشيخ الألباني: لم تتمّ دراسته
قال الشيخ زبير على زئي:سنده ضعيف