مشكوة المصابيح سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
--. (تَقْسِيمُ الأَيَّامِ بَيْنَ الزَّوْجَاتِ)
بیویوں کے درمیان دنوں کی تقسیم
حدیث نمبر: 3233
3233 - وَعَنْ أَبِي قِلَابَةَ، عَنْ أَنَسٍ قَالَ: مِنَ السُّنَّةِ إِذَا تَزَوَّجَ الرَّجُلُ الْبِكْرَ عَلَى الثَّيِّبِ أَقَامَ عِنْدَهَا سَبْعًا وَقَسَمَ، وَإِذَا تَزَوَّجَ الثَّيِّبَ أَقَامَ عِنْدَهَا ثَلَاثًا ثُمَّ قَسَمَ، قَالَ أَبُو قِلَابَةَ: وَلَوْ شِئْتُ لَقُلْتُ: إِنَّ أَنَسًا رَفَعَهُ إِلَى النَّبِيِّ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ -. مُتَّفَقٌ عَلَيْهِ.
ابوقلابہ، انس رضی اللہ عنہ سے روایت کرتے ہیں، انہوں نے فرمایا: ”مسنون طریقہ یہ ہے کہ جب آدمی مطلقہ / بیوہ کے ہوتے ہوئے کسی کنواری سے شادی کرے تو وہ اس (کنواری) کے ہاں سات راتیں قیام کرے اور پھر باری تقسیم کرے، اور جب بیوہ / مطلقہ سے شادی کرے تو اس کے ہاں تین راتیں قیام کرے اور پھر باری تقسیم کرے۔“ ابوقلابہ نے کہا: اگر میں چاہوں تو میں کہہ سکتا ہوں کہ انس رضی اللہ عنہ نے اسے نبی صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم سے مرفوع روایت کیا ہے۔ متفق علیہ۔ [مشكوة المصابيح/كتاب النكاح/حدیث: 3233]
تخریج الحدیث: ´تحقيق و تخريج: محدث العصر حافظ زبير على زئي رحمه الله` «متفق عليه، رواه البخاري (5214) و مسلم (1461/44)»
قال الشيخ الألباني: مُتَّفق عَلَيْهِ
قال الشيخ زبير على زئي:متفق عليه