مشكوة المصابيح سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
--. (اخْتِيَارُ السَّيِّدَةِ أُمِّ سَلَمَةَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهَا فِي نَوْبَةِ ثَلَاثِ لَيَالٍ)
حضرت ام سلمہ رضی اللہ عنہا کو تین راتوں کی باری میں اختیار
حدیث نمبر: 3234
3234 - وَعَنْ أَبِي بَكْرِ بْنِ عَبْدِ الرَّحْمَنِ أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - حِينَ تَزَوَّجَ أُمَّ سَلَمَةَ وَأَصْبَحَتْ عِنْدَهُ قَالَ لَهَا: لَيْسَ بِكِ عَلَى أَهْلِكِ هَوَانٌ، إِنْ شِئْتِ سَبَّعْتُ عِنْدَكِ وَسَبَّعْتُ عِنْدَهُنَّ ، وَإِنْ شِئْتِ ثَلَّثْتُ عِنْدَكِ وَدُرْتُ، قَالَتْ: ثَلِّثْ. وَفِي رِوَايَةٍ إِنَّهُ قَالَ: لَهَا لِلْبِكْرِ سَبْعٌ وَلِلثَّيِّبِ ثَلَاثٌ. رَوَاهُ مُسْلِمٌ.
ابوبکر بن عبدالرحمٰن رحمہ اللہ سے روایت ہے کہ جب رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے ام سلمہ رضی اللہ عنہا سے شادی کی اور وہ آپ کے ہاں اقامت گزیں ہوئیں تو آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے انہیں فرمایا: ”ایسی بات نہیں ہے کہ تمہاری میرے ہاں عزت نہیں ہے، بلکہ اگر تم چاہو تو میں تمہارے ہاں سات راتیں قیام کرتا ہوں اور پھر میں ان کے ہاں بھی سات راتیں قیام کروں گا، اور اگر تم چاہو تو میں تمہارے ہاں تین راتیں قیام کرتا ہوں اور پھر باقیوں کے پاس جاتا ہوں۔“ انہوں نے (ام سلمہ رضی اللہ عنہا) عرض کیا: آپ تین راتیں قیام کریں۔ اور ایک دوسری روایت میں ہے کہ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے انہیں فرمایا: ”کنواری کے لیے سات راتیں ہیں اور بیوہ / مطلقہ کے لیے تین راتیں ہیں۔“ رواہ مسلم۔ [مشكوة المصابيح/كتاب النكاح/حدیث: 3234]
تخریج الحدیث: ´تحقيق و تخريج: محدث العصر حافظ زبير على زئي رحمه الله` «رواه مسلم (41. 1460/42)»
قال الشيخ الألباني: صَحِيح
قال الشيخ زبير على زئي:صحيح