🏠 👥 🔍 🧩 🅰️ 📌 ↩️

Join Our Whatsapp Channel
صحيح البخاري سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
حدیث کتب میں نمبر سے حدیث تلاش کریں:

صحیح بخاری میں ترقیم شاملہ سے تلاش کل احادیث (7563)
حدیث نمبر لکھیں:
حدیث میں عربی لفظ/الفاظ تلاش کریں
عربی لفظ / الفاظ لکھیں:
حدیث میں اردو لفظ/الفاظ تلاش کریں
اردو لفظ / الفاظ لکھیں:

13. بَابُ اسْتِعْذَابِ الْمَاءِ:
باب: میٹھا پانی ڈھونڈنا۔
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 5611
حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ مَسْلَمَةَ، عَنْ مَالِكٍ، عَنْ إِسْحَاقَ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ أَنَّهُ سَمِعَ أَنَسَ بْنَ مَالِكٍ، يَقُولُ:" كَانَ أَبُو طَلْحَةَ أَكْثَرَ أَنْصَارِيٍّ بِالْمَدِينَةِ مَالًا مِنْ نَخْلٍ، وَكَانَ أَحَبُّ مَالِهِ إِلَيْهِ بَيْرُحَاءَ، وَكَانَتْ مُسْتَقْبِلَ الْمَسْجِدِ، وَكَانَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَدْخُلُهَا وَيَشْرَبُ مِنْ مَاءٍ فِيهَا طَيِّبٍ، قَالَ أَنَسٌ: فَلَمَّا نَزَلَتْ لَنْ تَنَالُوا الْبِرَّ حَتَّى تُنْفِقُوا مِمَّا تُحِبُّونَ سورة آل عمران آية 92. قَامَ أَبُو طَلْحَةَ، فَقَالَ: يَا رَسُولَ اللَّهِ، إِنَّ اللَّهَ يَقُولُ: لَنْ تَنَالُوا الْبِرَّ حَتَّى تُنْفِقُوا مِمَّا تُحِبُّونَ سورة آل عمران آية 92 وَإِنَّ أَحَبَّ مَالِي إِلَيَّ بَيْرُحَاءَ، وَإِنَّهَا صَدَقَةٌ لِلَّهِ أَرْجُو بِرَّهَا وَذُخْرَهَا عِنْدَ اللَّهِ، فَضَعْهَا يَا رَسُولَ اللَّهِ حَيْثُ أَرَاكَ اللَّهُ، فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: بَخٍ ذَلِكَ مَالٌ رَابِحٌ أَوْ رَايِحٌ، شَكَّ عَبْدُ اللَّهِ، وَقَدْ سَمِعْتُ مَا قُلْتَ، وَإِنِّي أَرَى أَنْ تَجْعَلَهَا فِي الْأَقْرَبِينَ، فَقَالَ أَبُو طَلْحَةَ: أَفْعَلُ يَا رَسُولَ اللَّهِ: فَقَسَمَهَا أَبُو طَلْحَةَ فِي أَقَارِبِهِ، وَفِي بَنِي عَمِّهِ، وَقَالَ إِسْمَاعِيلُ، وَيَحْيَى بْنُ يَحْيَى: رَايِحٌ".
ہم سے عبداللہ بن مسلمہ نے بیان کیا، کہا ہم سے امام مالک نے، ان سے اسحاق بن عبداللہ نے، انہوں نے انس بن مالک رضی اللہ عنہ سے سنا، انہوں نے بیان کیا کہ ابوطلحہ رضی اللہ عنہ کے پاس مدینہ کے تمام انصار میں سب سے زیادہ کھجور کے باغات تھے اور ان کا سب سے پسندیدہ مال بیرحاء کا باغ تھا۔ یہ مسجد نبوی کے سامنے ہی تھا اور رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم وہاں تشریف لے جاتے تھے اور اس کا عمدہ پانی پیتے تھے۔ انس رضی اللہ عنہ نے بیان کیا کہ پھر جب آیت «لن تنالوا البر حتى تنفقوا مما تحبون‏» ”تم ہرگز نیکی نہیں پاؤ گے جب تک وہ مال نہ خرچ کرو جو تمہیں عزیز ہو۔“ نازل ہوئی تو ابوطلحہ رضی اللہ عنہ کھڑے ہوئے اور عرض کیا: یا رسول اللہ! اللہ تعالیٰ فرماتا ہے «لن تنالوا البر حتى تنفقوا مما تحبون‏» ”تم ہرگز نیکی کو نہیں پاؤ گے جب تک وہ مال نہ خرچ کرو جو تمہیں عزیز ہو۔“ اور مجھے اپنے مال میں سب سے زیادہ عزیز بیرحاء کا باغ ہے اور وہ اللہ تعالیٰ کے راستہ میں صدقہ ہے، اس کا ثواب اور اجر میں اللہ کے یہاں پانے کی امید رکھتا ہوں، اس لیے یا رسول اللہ! آپ جہاں اسے مناسب خیال فرمائیں خرچ کریں۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ خوب یہ بہت ہی فائدہ بخش مال ہے یا (اس کے بجائے آپ نے) «رايح» (یاء کے ساتھ فرمایا)۔ راوی حدیث عبداللہ کو اس میں شک تھا (نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے ان سے مزید فرمایا کہ) جو کچھ تو نے کہا ہے میں نے سن لیا میرا خیال ہے کہ تم اسے اپنے رشتہ داروں کو دے دو۔ ابوطلحہ رضی اللہ عنہ نے عرض کیا کہ ایسا ہی کروں گا یا رسول اللہ! چنانچہ انہوں نے اپنے رشتہ داروں اپنے چچا کے لڑکوں میں اسے تقسیم کر دیا۔ اور اسماعیل اور یحییٰ بن یحییٰ نے «رايح‏.‏» کا لفظ نقل کیا ہے۔ [صحيح البخاري/كِتَاب الْأَشْرِبَةِ/حدیث: 5611]
حضرت انس بن مالک رضی اللہ عنہ سے روایت ہے، انہوں نے کہا کہ حضرت ابو طلحہ رضی اللہ عنہ مدینہ طیبہ میں کھجوروں کے باغات کے لحاظ سے تمام انصار سے زیادہ مال دار تھے۔ ان کا محبوب ترین مال «بَيْرُحَاءَ» تھا اور وہ مسجد نبوی کے بالکل سامنے واقع تھا۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم وہاں تشریف لے جاتے اور اس میں میٹھا پانی نوش فرماتے تھے۔ حضرت انس رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں: جب یہ آیت ﴿لَنْ تَنَالُوا الْبِرَّ حَتّٰى تُنْفِقُوْا مِمَّا تُحِبُّوْنَ﴾ [سورة آل عمران: 92] ”تم ہرگز بھلائی نہیں پاؤ گے حتٰی کہ تم اپنے محبوب مال سے خرچ کرو“ نازل ہوئی تو حضرت ابو طلحہ رضی اللہ عنہ کھڑے ہوئے اور عرض کی: ”اللہ کے رسول! اللہ تعالیٰ فرماتا ہے: ﴿لَنْ تَنَالُوا الْبِرَّ حَتّٰى تُنْفِقُوْا مِمَّا تُحِبُّوْنَ﴾ [سورة آل عمران: 92] ”تم ہرگز نیکی نہیں پاؤ گے حتیٰ کہ اپنی محبوب ترین چیز خرچ کرو“ اور میرا محبوب ترین مال «بَيْرُحَاءَ» ہے، وہ اللہ کے لیے صدقہ ہے۔ میں اس کا اجر و ثواب اللہ کے ہاں پانے کی امید رکھتا ہوں۔ اللہ کے رسول! آپ جہاں مناسب سمجھیں اسے خرچ کر دیں۔“ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”خوب! یہ بہت فائدہ بخش مال ہے۔“ (آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے مزید فرمایا:) ”جو کچھ تو نے کہا میں نے اسے سن لیا ہے، لہٰذا میری رائے ہے کہ تم اسے اپنے رشتے داروں میں تقسیم کر دو۔“ حضرت ابو طلحہ رضی اللہ عنہ نے کہا: ”اللہ کے رسول! میں ایسا ہی کروں گا“، چنانچہ انہوں نے وہ (مال) اپنے رشتے داروں اور چچا کے بیٹوں میں تقسیم کر دیا۔ اسماعیل اور یحییٰ بن یحییٰ نے «رَابِحٌ» کے الفاظ نقل کیے ہیں۔ [صحيح البخاري/كِتَاب الْأَشْرِبَةِ/حدیث: 5611]
تخریج الحدیث: «أحاديث صحيح البخاريّ كلّها صحيحة»

الحكم على الحديث:
أحاديث صحيح البخاريّ كلّها صحيحة
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں