🏠 👥 🔍 🧩 🅰️ 📌 ↩️

Join Whatsapp Channel
صحيح البخاري سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
حدیث کتب میں نمبر سے حدیث تلاش کریں:

صحیح بخاری میں ترقیم شاملہ سے تلاش کل احادیث (7563)
حدیث نمبر لکھیں:
حدیث میں عربی لفظ/الفاظ تلاش کریں
عربی لفظ / الفاظ لکھیں:
حدیث میں اردو لفظ/الفاظ تلاش کریں
اردو لفظ / الفاظ لکھیں:

12. بَابُ شُرْبِ اللَّبَنِ:
باب: دودھ پینا۔
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: Q5603
وَقَوْلِ اللَّهِ تَعَالَى: {مِنْ بَيْنِ فَرْثٍ وَدَمٍ لَبَنًا خَالِصًا سَائِغًا لِلشَّارِبِينَ}.
‏‏‏‏ اور اللہ تعالیٰ نے سورۃ النحل میں فرمایا «من بين فرث ودم لبنا خالصا سائغا للشاربين» اللہ تعالیٰ پاک لید اور خون کے درمیان سے خالص دودھ پیدا کرتا ہے جو پینے والوں کو خوب رچتا پچتا (حلق سے آسانی سے اتر جانے والا) ہے۔ [صحيح البخاري/كِتَاب الْأَشْرِبَةِ/حدیث: Q5603]

اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 5603
حَدَّثَنَا عَبْدَانُ، أَخْبَرَنَا عَبْدُ اللَّهِ، أَخْبَرَنَا يُونُسُ، عَنْ الزُّهْرِيِّ، عَنْ سَعِيدِ بْنِ الْمُسَيِّبِ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ، قَالَ:" أُتِيَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ لَيْلَةَ أُسْرِيَ بِهِ بِقَدَحِ لَبَنٍ وَقَدَحِ خَمْرٍ".
ہم سے عبدان نے بیان کیا، انہوں نے کہا ہم کو عبداللہ بن مبارک نے خبر دی، انہوں نے کہا ہم کو یونس نے خبر دی، انہیں زہری نے، انہیں سعید بن مسیب نے اور ان سے ابوہریرہ رضی اللہ عنہ نے بیان کیا کہ شب معراج میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو دودھ اور شراب کے دو پیالے پیش کئے گئے۔ [صحيح البخاري/كِتَاب الْأَشْرِبَةِ/حدیث: 5603]
حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے، انہوں نے فرمایا کہ شبِ معراج میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو دودھ کا ایک پیالہ اور شراب کا ایک پیالہ پیش کیا گیا۔ [صحيح البخاري/كِتَاب الْأَشْرِبَةِ/حدیث: 5603]
تخریج الحدیث: «أحاديث صحيح البخاريّ كلّها صحيحة»

الحكم على الحديث: أحاديث صحيح البخاريّ كلّها صحيحة
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 5604
حَدَّثَنَا الْحُمَيْدِيُّ، سَمِعَ سُفْيَانَ، أَخْبَرَنَا سَالِمٌ أَبُو النَّضْرِ أَنَّهُ سَمِعَ عُمَيْرًا مَوْلَى أُمِّ الْفَضْلِ يُحَدِّثُ، عَنْ أُمِّ الْفَضْلِ، قَالَتْ:" شَكَّ النَّاسُ فِي صِيَامِ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَوْمَ عَرَفَةَ فَأَرْسَلْتُ إِلَيْهِ بِإِنَاءٍ فِيهِ لَبَنٌ فَشَرِبَ"، فَكَانَ سُفْيَانُ رُبَّمَا قَالَ: شَكَّ النَّاسُ فِي صِيَامِ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَوْمَ عَرَفَةَ فَأَرْسَلَتْ إِلَيْهِ أُمُّ الْفَضْلِ فَإِذَا وُقِّفَ عَلَيْهِ، قَالَ: هُوَ عَنْ أُمِّ الْفَضْلِ.
ہم سے حمیدی نے بیان کیا، انہوں نے سفیان بن عیینہ سے سنا، انہوں نے کہا کہ ہم کو سالم ابوالنضر نے خبر دی، انہوں نے ام الفضل (والدہ عبداللہ بن عباس) کے غلام عمیر سے سنا، وہ ام الفضل رضی اللہ عنہا سے بیان کرتے ہیں، انہوں نے بیان کیا کہ عرفہ کے دن رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے روزہ کے بارے میں صحابہ کرام رضی اللہ عنہم کو شبہ تھا۔ اس لیے میں نے آپ کے لیے ایک برتن میں دودھ بھیجا اور نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے اسے پی لیا۔ حمیدی کہتے ہیں کبھی سفیان اس حدیث کو یوں بیان کرتے تھے کہ عرفہ کے دن رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے روزہ کے بارے میں لوگوں کو شبہ تھا اس لیے ام الفضل نے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے لیے (دودھ) بھیجا۔ کبھی سفیان اس حدیث کو مرسلاً ام الفضل سے روایت کرتے تھے سالم اور عمیر کا نام نہ لیتے۔ جب ان سے پوچھتے کہ یہ حدیث مرسل ہے یا مرفوع متصل تو وہ اس وقت کہتے (مرفوع متصل ہے) ام فضل سے مروی ہے (جو صحابیہ تھیں)۔ [صحيح البخاري/كِتَاب الْأَشْرِبَةِ/حدیث: 5604]
حضرت ام فضل رضی اللہ عنہا سے روایت ہے، انہوں نے کہا: لوگوں نے عرفہ کے دن رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے روزے کے متعلق شک کیا، تو میں نے آپ کے لیے ایک برتن میں دودھ بھیجا جسے آپ نے نوش فرمایا۔ سفیان کبھی اس حدیث کو یوں بیان کرتے ہیں کہ عرفہ کے دن رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے روزے کے متعلق لوگوں کو شبہ تھا، اس لیے ام فضل رضی اللہ عنہا نے آپ کے لیے دودھ بھیجا۔ جب (سفیان) سے پوچھا جاتا (کہ یہ روایت موصول ہے یا مرسل) تو وہ کہتے: (مرفوع متصل ہے کیونکہ) یہ ام فضل رضی اللہ عنہا کی روایت ہے (جو صحابیہ تھیں)۔ [صحيح البخاري/كِتَاب الْأَشْرِبَةِ/حدیث: 5604]
تخریج الحدیث: «أحاديث صحيح البخاريّ كلّها صحيحة»

الحكم على الحديث: أحاديث صحيح البخاريّ كلّها صحيحة
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 5605
حَدَّثَنَا قُتَيْبَةُ، حَدَّثَنَا جَرِيرٌ، عَنْ الْأَعْمَشِ، عَنْ أَبِي صَالِحٍ وَأَبِي سُفْيَانَ، عَنْ جَابِرِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ، قَالَ:" جَاءَ أَبُو حُمَيْدٍ بِقَدَحٍ مِنْ لَبَنٍ مِنَ النَّقِيعِ، فَقَالَ لَهُ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ:" أَلَّا خَمَّرْتَهُ، وَلَوْ أَنْ تَعْرُضَ عَلَيْهِ عُودًا".
ہم سے قتیبہ بن سعید نے بیان کیا، کہا ہم سے جریر نے بیان کیا، ان سے اعمش نے، ان سے ابوصالح (ذکوان) اور ابوسفیان (طلحہ بن نافع قرشی) نے اور ان سے جابر بن عبداللہ رضی اللہ عنہما نے بیان کیا کہ ابو حمید ساعدی مقام نقیع سے دودھ کا ایک پیالہ (کھلا ہوا) لائے تو نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے ان سے فرمایا کہ اسے ڈھک کر کیوں نہیں لائے ایک لکڑی ہی اس پر رکھ لیتے۔ [صحيح البخاري/كِتَاب الْأَشْرِبَةِ/حدیث: 5605]
حضرت جابر بن عبداللہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے، انہوں نے کہا کہ حضرت ابو حمید ساعدی رضی اللہ عنہ مقام نقیع سے دودھ کا ایک پیالہ لائے تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ان سے فرمایا: تو نے اسے ڈھانپا کیوں نہیں؟ اگرچہ اس کے عرض کے بل ایک لکڑی ہی رکھ دیتے۔ [صحيح البخاري/كِتَاب الْأَشْرِبَةِ/حدیث: 5605]
تخریج الحدیث: «أحاديث صحيح البخاريّ كلّها صحيحة»

الحكم على الحديث: أحاديث صحيح البخاريّ كلّها صحيحة
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 5606
حَدَّثَنَا عُمَرُ بْنُ حَفْصٍ، حَدَّثَنَا أَبِي، حَدَّثَنَا الْأَعْمَشُ، قَالَ: سَمِعْتُ أَبَا صَالِحٍ يَذْكُرُ أُرَاهُ، عَنْ جَابِرٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ، قَالَ:" جَاءَ أَبُو حُمَيْدٍ رَجُلٌ مِنَ الْأَنْصَارِ مِنَ النَّقِيعِ بِإِنَاءٍ مِنْ لَبَنٍ إِلَى النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَقَالَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ:" أَلَّا خَمَّرْتَهُ، وَلَوْ أَنْ تَعْرُضَ عَلَيْهِ عُودًا". وَحَدَّثَنِي أَبُو سُفْيَانَ، عَنْ جَابِرٍ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بِهَذَا.
ہم سے عمر بن حفص بن غیاث نے بیان کیا، کہا ہم سے ہمارے والد نے بیان کیا، کہا ہم سے اعمش نے بیان کیا، کہا میں نے ابوصالح سے سنا، جیسا کہ مجھے یاد ہے وہ جابر بن عبداللہ انصاری رضی اللہ عنہما سے بیان کرتے تھے کہ انہوں نے بیان کیا کہ ایک انصاری صحابی ابو حمید ساعدی رضی اللہ عنہ مقام نقیع سے ایک برتن میں دودھ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے لیے لائے۔ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے ان سے فرمایا کہ اسے ڈھک کر کیوں نہیں لائے، اس پر لکڑی ہی رکھ دیتے۔ اور اعمش نے کہا کہ مجھ سے ابوسفیان نے بیان کیا، ان سے جابر رضی اللہ عنہ نے اور ان سے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے یہی حدیث بیان کی۔ [صحيح البخاري/كِتَاب الْأَشْرِبَةِ/حدیث: 5606]
حضرت جابر رضی اللہ عنہ سے روایت ہے، انہوں نے کہا کہ ایک انصاری صحابی حضرت ابو حمید ساعدی رضی اللہ عنہ مقام نقیع سے نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے لیے دودھ سے بھرا ایک برتن لائے۔ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے ان سے فرمایا: تم اسے ڈھانپ کر کیوں نہیں لائے؟ اگرچہ اس پر ایک لکڑی ہی رکھ دیتے۔ (اعمش کہتے ہیں کہ) مجھے سفیان نے بیان کیا، ان سے حضرت جابر رضی اللہ عنہ نے اور انہوں نے نبی صلی اللہ علیہ وسلم سے یہ حدیث بیان کی۔ [صحيح البخاري/كِتَاب الْأَشْرِبَةِ/حدیث: 5606]
تخریج الحدیث: «أحاديث صحيح البخاريّ كلّها صحيحة»

الحكم على الحديث: أحاديث صحيح البخاريّ كلّها صحيحة
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 5607
حَدَّثَنِي مَحْمُودٌ، أَخْبَرَنَا النَّضْرُ، أَخْبَرَنَا شُعْبَةُ، عَنْ أَبِي إِسْحَاقَ، قَالَ: سَمِعْتُ الْبَرَاءَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ، قَالَ:" قَدِمَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ مِنْ مَكَّةَ، وَأَبُو بَكْرٍ مَعَهُ، قَالَ أَبُو بَكْرٍ: مَرَرْنَا بِرَاعٍ وَقَدْ عَطِشَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، قَالَ أَبُو بَكْرٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ: فَحَلَبْتُ كُثْبَةً مِنْ لَبَنٍ فِي قَدَحٍ، فَشَرِبَ حَتَّى رَضِيتُ، وَأَتَانَا سُرَاقَةُ بْنُ جُعْشُمٍ عَلَى فَرَسٍ، فَدَعَا عَلَيْهِ فَطَلَبَ إِلَيْهِ سُرَاقَةُ أَنْ لَا يَدْعُوَ عَلَيْهِ وَأَنْ يَرْجِعَ، فَفَعَلَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ.
مجھ سے محمود نے بیان کیا، کہا ہم کو ابوالنضر نے خبر دی، کہا ہم کو شعبہ نے خبر دی، ان سے ابواسحاق نے بیان کیا کہ میں نے براء بن عازب رضی اللہ عنہ سے سنا، انہوں نے بیان کیا کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم مکہ مکرمہ سے تشریف لائے تو ابوبکر رضی اللہ عنہ آپ کے ساتھ تھے۔ ابوبکر رضی اللہ عنہ نے کہا کہ (راستہ میں) ہم ایک چرواہے کے قریب سے گزرے۔ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم پیاسے تھے پھر میں نے ایک پیالے میں (چرواہے سے پوچھ کر) کچھ دودھ دوہا۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے وہ دودھ پیا اور اس سے مجھے خوشی حاصل ہوئی اور سراقہ بن جعشم گھوڑے پر سوار ہمارے پاس (تعاقب کرتے ہوئے) پہنچ گیا۔ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے اس کے لیے بددعا کی۔ آخر اس نے کہا کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم اس کے حق میں بددعا نہ کریں اور وہ واپس ہو جائے گا۔ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے ایسا ہی کیا۔ [صحيح البخاري/كِتَاب الْأَشْرِبَةِ/حدیث: 5607]
حضرت براء رضی اللہ عنہ سے روایت ہے، انہوں نے کہا کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم مکہ مکرمہ سے تشریف لائے تو حضرت ابوبکر صدیق رضی اللہ عنہ آپ کے ہمراہ تھے۔ حضرت ابوبکر صدیق رضی اللہ عنہ نے بیان کیا کہ ہم راستے میں ایک چرواہے کے قریب سے گزرے جبکہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو پیاس لگی تھی۔ حضرت ابوبکر صدیق رضی اللہ عنہ نے فرمایا کہ میں ایک پیالے میں تھوڑا سا دودھ لایا، رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے وہ نوش فرمایا تو مجھے راحت محسوس ہوئی۔ اس دوران میں سراقہ بن جعشم گھوڑے پر سوار ہو کر ہمارے پاس پہنچ گیا۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے اس کے لیے بددعا کی۔ سراقہ نے آپ صلی اللہ علیہ وسلم سے التجا کی کہ آپ بددعا نہ کریں وہ واپس چلا جائے گا۔ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے ایسا ہی کیا۔ [صحيح البخاري/كِتَاب الْأَشْرِبَةِ/حدیث: 5607]
تخریج الحدیث: «أحاديث صحيح البخاريّ كلّها صحيحة»

الحكم على الحديث: أحاديث صحيح البخاريّ كلّها صحيحة
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 5608
حَدَّثَنَا أَبُو الْيَمَانِ، أَخْبَرَنَا شُعَيْبٌ، حَدَّثَنَا أَبُو الزِّنَادِ، عَنْ عَبْدِ الرَّحْمَنِ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ: أَنّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، قَالَ:" نِعْمَ الصَّدَقَةُ اللِّقْحَةُ الصَّفِيُّ مِنْحَةً" وَالشَّاةُ الصَّفِيُّ: مِنْحَةً تَغْدُو بِإِنَاءٍ وَتَرُوحُ بِآخَرَ.
ہم سے ابوالیمان نے بیان کیا، کہا ہم کو شعیب نے خبر دی، کہا ہم سے ابوالزناد نے بیان کیا، ان سے عبدالرحمٰن اعرج نے اور ان سے ابوہریرہ رضی اللہ عنہ نے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ کیا ہی عمدہ صدقہ ہے خوب دودھ دینے والی اونٹنی جو کچھ دنوں کے لیے کسی کو عطیہ کے طور پر دی گئی ہو اور خوب دودھ دینے والی بکری جو کچھ دنوں کے لیے عطیہ کے طور پر دی گئی ہو جس سے صبح و شام دودھ برتن بھربھر کر نکالا جائے۔ [صحيح البخاري/كِتَاب الْأَشْرِبَةِ/حدیث: 5608]
حضرت ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: بہترین صدقہ دودھ دینے والی اونٹنی یا دودھ دینے والی بکری کا عطیہ دینا ہے جو ایک برتن صبح بھر کر دودھ دے اور ایک برتن شام کو بھر دے۔ [صحيح البخاري/كِتَاب الْأَشْرِبَةِ/حدیث: 5608]
تخریج الحدیث: «أحاديث صحيح البخاريّ كلّها صحيحة»

الحكم على الحديث: أحاديث صحيح البخاريّ كلّها صحيحة
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 5609
حَدَّثَنَا أَبُو عَاصِمٍ، عَنْ الْأَوْزَاعِيِّ، عَنْ ابْنِ شِهَابٍ، عَنْ عُبَيْدِ اللَّهِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ، عَنْ ابْنِ عَبَّاسٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُمَا" أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ شَرِبَ لَبَنًا فَمَضْمَضَ، وَقَالَ: إِنَّ لَهُ دَسَمًا"
ہم سے ابوعاصم نے بیان کیا، ان سے امام اوزاعی نے بیان کیا، ان سے ابن شہاب نے بیان کیا، ان سے عبیداللہ بن عبداللہ نے اور ان سے عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما نے بیان کیا کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے دودھ پیا پھر کلی کی اور فرمایا کہ اس میں چکناہٹ ہوتی ہے۔ [صحيح البخاري/كِتَاب الْأَشْرِبَةِ/حدیث: 5609]
حضرت ابن عباس رضی اللہ عنہما سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے دودھ نوش فرمایا، پھر آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے کلی کی اور فرمایا: اس میں چکناہٹ ہوتی ہے۔ [صحيح البخاري/كِتَاب الْأَشْرِبَةِ/حدیث: 5609]
تخریج الحدیث: «أحاديث صحيح البخاريّ كلّها صحيحة»

الحكم على الحديث: أحاديث صحيح البخاريّ كلّها صحيحة
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 5610
وَقَالَ إِبْرَاهِيمُ بْنُ طَهْمَانَ، عَنْ شُعْبَةَ، عَنْ قَتَادَةَ، عَنْ أَنَسِ بْنِ مَالِكٍ، قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ:" رُفِعْتُ إِلَى السِّدْرَةِ فَإِذَا أَرْبَعَةُ أَنْهَارٍ نَهَرَانِ ظَاهِرَانِ وَنَهَرَانِ بَاطِنَانِ، فَأَمَّا الظَّاهِرَانِ: النِّيلُ وَالْفُرَاتُ، وَأَمَّا الْبَاطِنَانِ فَنَهَرَانِ فِي الْجَنَّةِ، فَأُتِيتُ بِثَلَاثَةِ أَقْدَاحٍ قَدَحٌ فِيهِ لَبَنٌ، وَقَدَحٌ فِيهِ عَسَلٌ، وَقَدَحٌ فِيهِ خَمْرٌ، فَأَخَذْتُ الَّذِي فِيهِ اللَّبَنُ فَشَرِبْتُ، فَقِيلَ لِي: أَصَبْتَ الْفِطْرَةَ أَنْتَ وَأُمَّتُكَ"، قَالَ هِشَامٌ، وَسَعِيدٌ، وَهَمَّامٌ: عَنْ قَتَادَةَ، عَنْ أَنَسِ بْنِ مَالِكٍ، عَنْ مَالِكِ بْنِ صَعْصَعَةَ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: فِي الْأَنْهَارِ نَحْوَهُ، وَلَمْ يَذْكُرُوا، ثَلَاثَةَ أَقْدَاحٍ.
اور ابراہیم بن طہمان نے کہا کہ ان سے شعبہ نے، ان سے قتادہ نے اور ان سے انس بن مالک رضی اللہ عنہ نے بیان کیا، ان سے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ جب مجھے سدرۃ المنتہیٰ تک لے جایا گیا تو وہاں میں نے چار نہریں دیکھیں۔ دو ظاہری نہریں اور دو باطنی۔ ظاہری نہریں تو نیل اور فرات ہیں اور باطنی نہریں جنت کی دو نہریں ہیں۔ پھر میرے پاس تین پیالے لائے گئے ایک پیالے میں دودھ تھا، دوسرے میں شہد تھا اور تیسرے میں شراب تھی۔ میں نے وہ پیالہ لیا جس میں دودھ تھا اور پیا۔ اس پر مجھ سے کہا گیا کہ تم نے اور تمہاری امت نے اصل فطرت کو پا لیا۔ ہشام، سعید اور ہمام نے قتادہ سے، انہوں نے انس بن مالک رضی اللہ عنہ سے، انہوں نے مالک بن صعصعہ رضی اللہ عنہ سے یہ حدیث روایت کی ہے۔ اس میں ندیوں کا ذکر تو ایسا ہی ہے لیکن تین پیالوں کا ذکر نہیں ہے۔ [صحيح البخاري/كِتَاب الْأَشْرِبَةِ/حدیث: 5610]
حضرت انس بن مالک رضی اللہ عنہ سے روایت ہے انہوں نے کہا کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: مجھے جب سدرۃ المنتہیٰ کی طرف اٹھایا گیا تو میں نے وہاں چار نہریں دیکھیں: ان میں سے دو ظاہری تھیں اور دو باطنی۔ ظاہری نہریں تو نیل اور فرات ہیں اور باطنی نہریں جنت میں تھیں۔ پھر مجھے تین پیالے پیش کیے گئے۔ ایک پیالے میں دودھ اور دوسرے میں شہد تھا جبکہ تیسرے پیالے میں شراب تھی، میں نے وہ پیالہ لیا جس میں دودھ تھا اور اسے میں نے نوشِ جاں کیا، اس لیے انتخاب پر مجھے کہا گیا: آپ نے اور آپ کی امت نے اصل فطرت کو پالیا ہے۔ ہشام، سعید اور ہمام نے حضرت قتادہ سے، انہوں نے حضرت انس رضی اللہ عنہ سے، انہوں نے مالک بن صعصعہ رضی اللہ عنہ سے یہ حدیث بیان کی ہے، اس میں نہروں کا ذکر تو اسی طرح ہے لیکن تین پیالوں کا ذکر نہیں ہے۔ [صحيح البخاري/كِتَاب الْأَشْرِبَةِ/حدیث: 5610]
تخریج الحدیث: «أحاديث صحيح البخاريّ كلّها صحيحة»

الحكم على الحديث: أحاديث صحيح البخاريّ كلّها صحيحة
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں