صحيح البخاري سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
21. بَابُ خِدْمَةِ الصِّغَارِ الْكِبَارَ:
باب: بچوں کا بڑوں بوڑھوں کی خدمت کرنا ضروری ہے۔
حدیث نمبر: 5622
حَدَّثَنَا مُسَدَّدٌ، حَدَّثَنَا مُعْتَمِرٌ، عَنْ أَبِيهِ، قَالَ: سَمِعْتُ أَنَسًا رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ، قَالَ:" كُنْتُ قَائِمًا عَلَى الْحَيِّ أَسْقِيهِمْ عُمُومَتِي وَأَنَا أَصْغَرُهُمُ الْفَضِيخَ، فَقِيلَ: حُرِّمَتِ الْخَمْرُ، فَقَالَ: اكْفِئْهَا، فَكَفَأْنَا، قُلْتُ لِأَنَسٍ: مَا شَرَابُهُمْ؟، قَالَ: رُطَبٌ وَبُسْرٌ، فَقَالَ أَبُو بَكْرِ بْنُ أَنَسٍ: وَكَانَتْ خَمْرَهُمْ، فَلَمْ يُنْكِرْ أَنَسٌ، وَحَدَّثَنِي بَعْضُ أَصْحَابِي، أَنَّهُ سَمِعَ أَنَسًا يَقُولُ: كَانَتْ خَمْرَهُمْ يَوْمَئِذٍ.
ہم سے مسدد نے بیان کیا، کہا ہم سے معتمر نے، ان سے ان کے والد نے، کہ میں نے انس رضی اللہ عنہ سے سنا، انہوں نے بیان کیا کہ میں کھڑا ہوا اپنے قبیلہ میں اپنے چچاؤں کو کھجور کی شراب پلا رہا تھا۔ میں ان میں سے سب سے چھوٹا تھا، اتنے میں کسی نے کہا کہ شراب حرام کر دی گئی (ابوطلحہ رضی اللہ عنہ نے) کہا کہ شراب پھینک دو۔ چنانچہ ہم نے پھینک دی۔ سلیمان نے کہا کہ میں نے انس رضی اللہ عنہ سے پوچھا اس وقت لوگ کس چیز کی شراب پیتے تھے کہا کہ پکی اور کچی کھجور کی۔ ابوبکر بن انس نے کہا کہ یہی ان کی شراب ہوتی تھی انس رضی اللہ عنہ نے اس کا انکار نہیں کیا، بکر بن عبداللہ مزنی یا قتادہ نے کہا اور مجھ سے بعض لوگوں نے بیان کیا کہ انہوں نے انس رضی اللہ عنہ سے سنا، انہوں نے بیان کیا کہ ”ان کی ان دنوں یہی (فضیح) ان کی شراب تھی۔“ [صحيح البخاري/كِتَاب الْأَشْرِبَةِ/حدیث: 5622]
حضرت انس رضی اللہ عنہ سے روایت ہے، انہوں نے کہا: ”میں کھڑا اپنے قبیلے میں اپنے چچاؤں کو کھجور کی شراب پلا رہا تھا کیونکہ میں سب سے چھوٹا تھا۔ اس دوران میں کہا گیا کہ شراب حرام کر دی گئی ہے، انہوں نے کہا: اسے پھینک دو، تو ہم نے اسے الٹ دیا۔“ میں نے حضرت انس رضی اللہ عنہ سے پوچھا: ”اس وقت لوگ کس چیز سے تیار شدہ شراب پیتے تھے؟“ انہوں نے فرمایا: ”وہ پکی اور کچی کھجوروں کی تھی۔“ حضرت ابوبکر بن انس نے کہا: ”یہی ان کی شراب ہوتی تھی“ تو حضرت انس رضی اللہ عنہ نے اس کا انکار نہیں کیا (راویِ حدیث کہتا ہے) کہ مجھ سے بعض لوگوں نے بیان کیا، انہوں نے حضرت انس رضی اللہ عنہ سے سنا، انہوں نے فرمایا کہ ”ان دنوں ان کی یہی شراب ہوتی تھی۔“ [صحيح البخاري/كِتَاب الْأَشْرِبَةِ/حدیث: 5622]
تخریج الحدیث: «أحاديث صحيح البخاريّ كلّها صحيحة»
الحكم على الحديث: أحاديث صحيح البخاريّ كلّها صحيحة