🏠 👥 🔍 🧩 🅰️ 📌 ↩️

Join Whatsapp Channel
صحيح البخاري سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
حدیث کتب میں نمبر سے حدیث تلاش کریں:

صحیح بخاری میں ترقیم شاملہ سے تلاش کل احادیث (7563)
حدیث نمبر لکھیں:
حدیث میں عربی لفظ/الفاظ تلاش کریں
عربی لفظ / الفاظ لکھیں:
حدیث میں اردو لفظ/الفاظ تلاش کریں
اردو لفظ / الفاظ لکھیں:

20. بَابُ الْكَرْعِ فِي الْحَوْضِ:
باب: حوض سے منہ لگا کر پانی پینا جائز ہے۔
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 5621
حَدَّثَنَا يَحْيَى بْنُ صَالِحٍ، حَدَّثَنَا فُلَيْحُ بْنُ سُلَيْمَانَ، عَنْ سَعِيدِ بْنِ الْحَارِثِ، عَنْ جَابِرِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُمَا، أَنّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ:" دَخَلَ عَلَى رَجُلٍ مِنَ الْأَنْصَارِ وَمَعَهُ صَاحِبٌ لَهُ، فَسَلَّمَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَصَاحِبُهُ، فَرَدَّ الرَّجُلُ، فَقَالَ: يَا رَسُولَ اللَّهِ بِأَبِي أَنْتَ وَأُمِّي، وَهِيَ سَاعَةٌ حَارَّةٌ وَهُوَ يُحَوِّلُ فِي حَائِطٍ لَهُ يَعْنِي الْمَاءَ فَقَالَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: إِنْ كَانَ عِنْدَكَ مَاءٌ بَاتَ فِي شَنَّةٍ وَإِلَّا كَرَعْنَا، وَالرَّجُلُ يُحَوِّلُ الْمَاءَ فِي حَائِطٍ، فَقَالَ الرَّجُلُ: يَا رَسُولَ اللَّهِ عِنْدِي مَاءٌ بَاتَ فِي شَنَّةٍ فَانْطَلَقَ إِلَى الْعَرِيشِ، فَسَكَبَ فِي قَدَحٍ مَاءً، ثُمَّ حَلَبَ عَلَيْهِ مِنْ دَاجِنٍ لَهُ، فَشَرِبَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ثُمَّ أَعَادَ، فَشَرِبَ الرَّجُلُ الَّذِي جَاءَ مَعَهُ".
ہم سے یحییٰ بن صالح نے بیان کیا، کہا ہم سے فلیح بن سلیمان نے بیان کیا، ان سے سعید بن حارث نے اور ان سے جابر بن عبداللہ انصاری رضی اللہ عنہما نے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم قبیلہ انصار کے ایک صحابی کے یہاں تشریف لے گئے۔ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ آپ کے ایک رفیق بھی تھے۔ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم اور آپ کے رفیق نے انہیں سلام کیا اور انہوں نے سلام کا جواب دیا۔ پھر عرض کیا کہ یا رسول اللہ! میرے ماں باپ آپ پر نثار ہوں یہ بڑی گرمی کا وقت ہے وہ اپنے باغ میں پانی دے رہے تھے۔ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ اگر تمہارے پاس مشک میں رات کا رکھا ہوا پانی ہے (تو وہ پلا دو) ورنہ ہم منہ لگا کر پی لیں گے۔ وہ صاحب اس وقت بھی باغ میں پانی دے رہے تھے۔ انہوں نے عرض کیا: یا رسول اللہ! میرے پاس مشک میں رات کا رکھا ہوا باسی پانی ہے پھر وہ چھپر میں گئے اور ایک پیالے میں باسی پانی لیا پھر اپنی ایک دودھ دینے والی بکری کا دودھ اس میں نکالا۔ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے اسے پیا پھر وہ دوبارہ لائے اور اس مرتبہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے رفیق ابوبکر رضی اللہ عنہ نے پیا۔ [صحيح البخاري/كِتَاب الْأَشْرِبَةِ/حدیث: 5621]
حضرت جابر بن عبداللہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم قبیلہ انصار کے ایک صحابی کے ہاں تشریف لے گئے، آپ کے ساتھ آپ کے ایک رفیق (صدیق اکبر رضی اللہ عنہ) بھی تھے، نبی صلی اللہ علیہ وسلم اور آپ کے ساتھی نے انہیں سلام کیا، انہوں نے سلام کا جواب دیا، پھر عرض کی: اے اللہ کے رسول! میرے ماں باپ آپ پر قربان ہوں، یہ بڑی گرمی کا وقت ہے اور وہ اپنے باغ کو پانی دے رہے تھے، نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے انہیں فرمایا: اگر تمہارے پاس مشکیزے میں رات کا رکھا ہوا پانی ہے تو پلاؤ ورنہ ہم (اس حوض سے) «نَكْرَعُ» منہ لگا کر پی لیں گے۔ وہ اس وقت بھی باغ کو پانی دے رہے تھے، انہوں نے کہا: اے اللہ کے رسول! میرے پاس مشکیزے میں رات کا رکھا ہوا پانی ہے، پھر وہ اپنی جھونپڑی کی طرف گئے، پیالے میں پانی لائے اور اس پر اپنی گھریلو بکری کا دودھ دوہا، نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے اسے نوش فرمایا، پھر وہ دوبارہ (دودھ اور پانی) لائے تو جو صاحب آپ کے ساتھ تھے انہوں نے پیا۔ [صحيح البخاري/كِتَاب الْأَشْرِبَةِ/حدیث: 5621]
تخریج الحدیث: «أحاديث صحيح البخاريّ كلّها صحيحة»

الحكم على الحديث: أحاديث صحيح البخاريّ كلّها صحيحة
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں