مشكوة المصابيح سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
--. (الْعَبْدُ السَّعِيدُ الَّذِي نَالَ شَرَفَ خِدْمَةِ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ)
رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت کی سعادت پانے والا خوش بخت غلام
حدیث نمبر: 3398
3398 - وَعَنْ سَفِينَةَ - رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ - قَالَ: كُنْتُ مَمْلُوكًا لِأُمِّ سَلَمَةَ، فَقَالَتْ: أُعْتِقُكَ وَأَشْتَرِطُ عَلَيْكَ أَنْ تَخْدُمَ رَسُولَ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - مَا عِشْتَ فَقُلْتُ: إِنْ لَمْ تَشْتَرِطِي عَلَيَّ مَا فَارَقْتُ رَسُولَ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - مَا عِشْتُ. فَأَعْتَقَتْنِي وَاشْتَرَطَتْ عَلَيَّ. رَوَاهُ أَبُو دَاوُدَ، وَابْنُ مَاجَهْ.
سفینہ رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں، میں ام سلمہ رضی اللہ عنہا کا غلام تھا، انہوں نے فرمایا: میں تمہیں آزاد کرتی ہوں اور تم پر شرط عائد کرتی ہوں کہ تم زندگی بھر رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی خدمت کرو گے، میں نے کہا: اگر آپ مجھ پر شرط نہ بھی عائد کرتیں تب بھی میں زندگی بھر رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم سے الگ نہ ہوتا۔ انہوں نے مجھے آزاد کر دیا اور مجھ پر شرط عائد کر دی۔ «إِسْنَادُهُ حَسَنٌ»، اسے ابوداؤد اور ابن ماجہ نے روایت کیا ہے۔ [مشكوة المصابيح/كتاب العتق/حدیث: 3398]
تخریج الحدیث: ´تحقيق و تخريج: محدث العصر حافظ زبير على زئي رحمه الله` «إسناده حسن، رواه أبو داود (3932) و مسلم (2526)»
قال الشيخ الألباني: جيد
قال الشيخ زبير على زئي:إسناده حسن