🏠 👥 🔍 🧩 🅰️ 📌 ↩️

مشكوة المصابيح سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
حدیث کتب میں نمبر سے حدیث تلاش کریں:

مشکوۃ المصابیح میں ترقیم شاملہ سے تلاش کل احادیث (6294)
حدیث نمبر لکھیں:
حدیث میں اردو لفظ/الفاظ تلاش کریں
اردو لفظ / الفاظ لکھیں:
حدیث میں اردو لفظ/الفاظ تلاش کریں
اردو لفظ / الفاظ لکھیں:

--. (خِطَابُ عُثْمَانَ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ مَعَ البُغَاةِ)
حضرت عثمان رضی اللہ عنہ کا باغیوں سے خطاب
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 3466
3466 - وَعَنْ أَبِي أُمَامَةَ بْنِ سَهْلِ بْنِ حُنَيْفٍ، أَنَّ عُثْمَانَ بْنَ عَفَّانَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ، أَشْرَفَ يَوْمَ الدَّارِ، فَقَالَ: أَنْشُدُكُمْ بِاللَّهِ أَتَعْلَمُونَ أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ:"لَا يَحِلُّ دَمُ امْرِئٍ مُسْلِمٍ إِلَّا بِإِحْدَى ثَلَاثٍ  : زِنًا بَعْدَ إِحْصَانٍ، أَوْ كُفْرٍ بَعْدَ إِسْلَامٍ، أَوْ قَتْلِ نَفْسٍ بِغَيْرِ حَقٍّ فَقُتِلَ بِهِ". فَوَاللَّهِ مَا زَنَيْتُ فِي جَاهِلِيَّةٍ وَلَا إِسْلَامٍ، وَلَا ارْتَدَدْتُ مُنْذُ بَايَعْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، وَلَا قَتَلْتُ النَّفْسَ الَّتِي حَرَّمَ اللَّهُ فَبِمَ تَقْتُلُونَنِي؟ رَوَاهُ التِّرْمِذِيُّ، وَالنَّسَائِيُّ وَابْنُ مَاجَهْ، وَلِلدَّارَقُطْنِيِّ لَفْظُ الْحَدِيثِ.
ابوامامہ بن سہل بن حنیف سے روایت ہے کہ عثمان بن عفان رضی اللہ عنہ نے یوم الدار (جن دنوں باغیوں نے عثمان رضی اللہ عنہ کو محصور کر رکھا تھا) لوگوں کو دیکھ کر فرمایا کہ میں تمہیں اللہ کی قسم دے کر پوچھتا ہوں: کیا تم اللہ کے رسول صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کے اس فرمان سے آگاہ نہیں ہو؟ کہ کسی مسلمان شخص کا خون تین میں سے کسی ایک وجہ پر درست ہے: شادی شدہ ہونے کے بعد زنا کرنا یا اسلام کے بعد کفر کرنا یا کسی جان کو ناحق قتل کرنا، اور وہ اس کے باعث قتل کیا جائے گا۔ اللہ کی قسم! میں نے نہ تو دورِ جاہلیت میں زنا کیا اور نہ زمانہ اسلام میں، میں نے جب سے رسول اللہ صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کی بیعت کی اس وقت سے آج تک کبھی مرتد نہیں ہوا، اور میں نے کسی ایسی جان کو قتل نہیں کیا جسے اللہ نے حرام قرار دیا ہے، تو پھر تم مجھے کیوں قتل کرتے ہو؟ ترمذی، نسائی، ابن ماجہ۔ اور دارمی میں صرف حدیث کے الفاظ ہیں۔ صحیح، رواہ الترمذی و النسائی و ابن ماجہ و الدارمی۔ [مشكوة المصابيح/كتاب القصاص/حدیث: 3466]
تخریج الحدیث: ´تحقيق و تخريج: محدث العصر حافظ زبير على زئي رحمه الله` «صحيح، رواه الترمذي (2158 وقال: حسن) و النسائي (91/7. 92 ح 4024) و ابن ماجه (2533) والدارمي (171/2. 172 ح 2302 مختصرًا)»
قال الشيخ زبير على زئي:صحيح

مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں