مشكوة المصابيح سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
--. (بَيَانُ قَتْلِ المُعْتَدِي دِفَاعًا)
دفاع کے لئے حملہ آور کو قتل کرنے کا بیان
حدیث نمبر: 3513
3513 - وَعَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ قَالَ: جَاءَ رَجُلٌ فَقَالَ: يَا رَسُولَ اللَّهِ أَرَأَيْتَ إِنْ جَاءَ رَجُلٌ يُرِيدُ أَخْذَ مَالِي؟ قَالَ: (فَلَا تُعْطِهِ مَالَكَ ) قَالَ: أَرَأَيْتَ إِنْ قَاتَلَنِي؟ قَالَ: (قَاتِلْهُ) . قَالَ: أَرَأَيْتَ إِنْ قَتَلَنِي؟ قَالَ: (فَأَنْتَ شَهِيدٌ) . قَالَ: أَرَأَيْتَ إِنْ قَتَلْتُهُ؟ قَالَ: (هُوَ فِي النَّارِ) رَوَاهُ مُسْلِمٌ.
ابوہریرہ رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں، ایک آدمی آیا تو اس نے عرض کیا: اللہ کے رسول! مجھے بتائیں اگر کوئی آدمی (ناحق طور پر) میرا مال لینے کے ارا��ے سے آئے (تو میں کیا کروں؟) آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: ”تم اپنا مال اسے مت لینے دو۔ “ اس نے عرض کیا، مجھے بتائیں اگر وہ مجھ سے جھگڑا کرے تو؟ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: ”تم بھی اس سے جھگڑا کرو۔ “ اس نے عرض کیا: مجھے بتائیں اگر وہ مجھے قتل کر دے؟ تو آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: ”تم شہید ہو۔ “ اس نے عرض کیا: مجھے بتائیں اگر میں اسے قتل کر دوں؟ تو آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: ”وہ جہنمی ہے۔ “ (تم پر کوئی مؤاخذہ نہیں)۔ رواہ مسلم۔ [مشكوة المصابيح/كتاب القصاص/حدیث: 3513]
تخریج الحدیث: ´تحقيق و تخريج: محدث العصر حافظ زبير على زئي رحمه الله` «رواه مسلم (225/ 124)»
قال الشيخ زبير على زئي:صحيح