🏠 👥 🔍 🧩 🅰️ 📌 ↩️

صحيح البخاري سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
حدیث کتب میں نمبر سے حدیث تلاش کریں:

صحیح بخاری میں ترقیم شاملہ سے تلاش کل احادیث (7563)
حدیث نمبر لکھیں:
حدیث میں عربی لفظ/الفاظ تلاش کریں
عربی لفظ / الفاظ لکھیں:
حدیث میں اردو لفظ/الفاظ تلاش کریں
اردو لفظ / الفاظ لکھیں:

5. بَابُ الدَّوَاءِ بِأَلْبَانِ الإِبِلِ:
باب: اونٹ کے دودھ سے علاج کرنے کا بیان۔
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 5685
حَدَّثَنَا مُسْلِمُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ، حَدَّثَنَا سَلَّامُ بْنُ مِسْكِينٍ، حَدَّثَنَا ثَابِتٌ، عَنْ أَنَسٍ: أَنَّ نَاسًا كَانَ بِهِمْ سَقَمٌ، قَالُوا:" يَا رَسُولَ اللَّهِ آوِنَا وَأَطْعِمْنَا فَلَمَّا صَحُّوا، قَالُوا: إِنَّ الْمَدِينَةَ وَخِمَةٌ، فَأَنْزَلَهُمُ الْحَرَّةَ فِي ذَوْدٍ لَهُ، فَقَالَ: اشْرَبُوا أَلْبَانَهَا، فَلَمَّا صَحُّوا قَتَلُوا رَاعِيَ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، وَاسْتَاقُوا ذَوْدَهُ، فَبَعَثَ فِي آثَارِهِمْ فَقَطَعَ أَيْدِيَهُمْ وَأَرْجُلَهُمْ وَسَمَرَ أَعْيُنَهُمْ، فَرَأَيْتُ الرَّجُلَ مِنْهُمْ يَكْدِمُ الْأَرْضَ بِلِسَانِهِ حَتَّى يَمُوتَ، قَالَ سَلَّامٌ: فَبَلَغَنِي أَنَّ الْحَجَّاجَ، قَالَ لِأَنَسٍ: حَدِّثْنِي بِأَشَدِّ عُقُوبَةٍ عَاقَبَهُ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَحَدَّثَهُ بِهَذَا فَبَلَغَ الْحَسَنَ، فَقَالَ: وَدِدْتُ أَنَّهُ لَمْ يُحَدِّثْهُ بِهَذَا".
ہم سے مسلم بن ابراہیم نے بیان کیا، کہا ہم سے سلام بن مسکین ابوالروح بصریٰ نے بیان کیا، کہا کہ ہم سے ثابت نے بیان کیا ان سے انس رضی اللہ عنہ نے کہ کچھ لوگوں کو بیماری تھی، انہوں نے کہا: یا رسول اللہ! ہمیں قیام کی جگہ عنایت فرما دیں اور ہمارے کھانے کا انتظام کر دیں پھر جب وہ لوگ تندرست ہو گئے تو انہوں نے کہا کہ مدینہ کی آب و ہوا خراب ہے چنانچہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے مقام حرہ میں اونٹوں کے ساتھ ان کے قیام کا انتظام کر دیا اور فرمایا کہ ان کا دودھ پیو جب وہ تندرست ہو گئے تو انہوں نے آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے چرواہے کو قتل کر دیا اور اونٹوں کو ہانک کر لے گئے۔ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے ان کے پیچھے آدمی دوڑائے اور وہ پکڑے گئے (جیسا کہ انہوں نے چرواہے کے ساتھ کیا تھا) آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے بھی ویسا ہی کیا ان کے ہاتھ پاؤں کٹوا دیئے اور ان کی آنکھوں میں سلائی پھروا دی۔ میں نے ان میں سے ایک شخص کو دیکھا کہ زبان سے زمین چاٹتا تھا اور اسی حالت میں وہ مر گیا۔ سلام نے بیان کیا کہ مجھے معلوم ہوا کہ حجاج نے انس رضی اللہ عنہ سے کہا تم مجھ سے وہ سب سے سخت سزا بیان کرو جو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے کسی کو دی ہو تو انہوں نے یہی واقعہ بیان کیا جب امام حسن بصری تک یہ بات پہنچی تو انہوں نے کہا کاش وہ یہ حدیث حجاج سے نہ بیان کرتے۔ [صحيح البخاري/كِتَاب الطِّبِّ/حدیث: 5685]
حضرت انس رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ کچھ لوگ بیمار تھے، انہوں نے عرض کی: اللہ کے رسول! ہمیں قیام کے لیے جگہ دے دیں اور ہمارے کھانے کا بندوبست فرما دیں۔ پھر جب وہ تندرست ہو گئے تو انہوں نے کہا کہ مدینہ طیبہ کی آب و ہوا خراب ہے جو ہمارے موافق نہیں، تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے مقام حرہ میں اونٹوں کے ساتھ ان کے قیام کا بندوبست کر دیا اور فرمایا: اونٹنیوں کا دودھ پیو۔ جب وہ تندرست ہو گئے تو انہوں نے نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے چرواہے کو قتل کر دیا اور آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے اونٹ ہانک کر لے گئے۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے ان کے پیچھے آدمی بھیجے تو وہ انہیں پکڑ لائے، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے ان کے ہاتھ اور پاؤں کاٹ ڈالے اور ان کی آنکھوں میں گرم سلائیاں پھیریں۔ میں نے ان میں سے ایک آدمی کو دیکھا، وہ اپنی زبان سے زمین چاٹتا تھا اور وہ اسی حالت میں مر گیا۔ (راوی حدیث) اسلام نے کہا: مجھے یہ خبر پہنچی ہے کہ حجاج نے حضرت انس رضی اللہ عنہ سے کہا: تم مجھ سے سخت ترین سزا بیان کرو جو نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے کسی کو دی ہو، تو انہوں نے یہی واقعہ بیان کیا۔ یہ بات امام حسن بصری رحمہ اللہ کو پہنچی تو انہوں نے کہا: کاش! وہ یہ حدیث اس (حجاج) سے بیان نہ کرتے۔ [صحيح البخاري/كِتَاب الطِّبِّ/حدیث: 5685]
تخریج الحدیث: «أحاديث صحيح البخاريّ كلّها صحيحة»

الحكم على الحديث: أحاديث صحيح البخاريّ كلّها صحيحة
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں