مشكوة المصابيح سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
--. (بَيَانُ مُشِيرِ الأَمِيرِ)
امیر کے مشیر کا بیان
حدیث نمبر: 3707
3707 - وَعَنْ عَائِشَةَ قَالَتْ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ -: إِذَا أَرَادَ اللَّهُ بِالْأَمِيرِ خَيْرًا ; جَعَلَ لَهُ وَزِيرَ صِدْقٍ إِنْ نَسِيَ ذَكَّرَهُ، وَإِنْ ذَكَرَ أَعَانَهُ، وَإِذَا أَرَادَ بِهِ غَيْرَ ذَلِكَ، جَعَلَ لَهُ وَزِيرَ سُوءٍ ; إِنْ نَسِيَ لَمْ يُذَكِّرْهُ، وَإِنْ ذَكَرَ لَمْ يُعِنْهُ. رَوَاهُ أَبُو دَاوُدَ وَالنَّسَائِيُّ.
عائشہ رضی اللہ عنہا بیان کرتی ہیں، رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: ”جب اللہ کسی حکمران کے ساتھ بھلائی کا ارادہ فرماتا ہے تو اسے سچا وزیر عنایت فرما دیتا ہے، اگر وہ بھول جائے تو وہ (وزیر) اسے یاد کرا دیتا ہے اور اگر اسے خود ہی یاد ہو تو وہ اس کی مدد کرتا ہے، اور جب وہ اس کے ساتھ اس کے برعکس ارادہ فرماتا ہے تو اس کے لیے بُرا وزیر مقرر کر دیتا ہے، اگر وہ بھول جائے تو وہ (وزیر) اسے یاد نہیں کراتا، اور اگر اسے یاد ہو تو پھر وہ اس کی مدد نہیں کرتا۔“ صحیح، رواہ ابوداؤد والنسائی۔ [مشكوة المصابيح/كتاب الإمارة والقضاء/حدیث: 3707]
تخریج الحدیث: ´تحقيق و تخريج: محدث العصر حافظ زبير على زئي رحمه الله` «صحيح، رواه أبو داود (2932) و النسائي (159/7 ح 4209 مختصرًا)»
قال الشيخ الألباني: لم تتمّ دراسته
قال الشيخ زبير على زئي:صحيح