صحيح البخاري سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
9. بَابُ جَيْبِ الْقَمِيصِ مِنْ عِنْدِ الصَّدْرِ وَغَيْرِهِ:
باب: قمیص کا گریبان سینے پر یا اور کہیں مثلاً (کندھے پر) لگانا۔
حدیث نمبر: 5797
حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ مُحَمَّدٍ، حَدَّثَنَا أَبُو عَامِرٍ، حَدَّثَنَا إِبْرَاهِيمُ بْنُ نَافِعٍ، عَنْ الْحَسَنِ، عَنْ طَاوُسٍ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ، قَالَ:" ضَرَبَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ مَثَلَ الْبَخِيلِ وَالْمُتَصَدِّقِ، كَمَثَلِ رَجُلَيْنِ عَلَيْهِمَا جُبَّتَانِ مِنْ حَدِيدٍ، قَدِ اضْطُرَّتْ أَيْدِيهِمَا إِلَى ثُدِيِّهِمَا وَتَرَاقِيهِمَا، فَجَعَلَ الْمُتَصَدِّقُ كُلَّمَا تَصَدَّقَ بِصَدَقَةٍ انْبَسَطَتْ عَنْهُ حَتَّى تَغْشَى أَنَامِلَهُ، وَتَعْفُوَ أَثَرَهُ، وَجَعَلَ الْبَخِيلُ كُلَّمَا هَمَّ بِصَدَقَةٍ قَلَصَتْ وَأَخَذَتْ كُلُّ حَلْقَةٍ بِمَكَانِهَا"، قَالَ أَبُو هُرَيْرَةَ: فَأَنَا رَأَيْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، يَقُولُ: بِإِصْبَعِهِ هَكَذَا فِي جَيْبِهِ فَلَوْ رَأَيْتَهُ يُوَسِّعُهَا وَلَا تَتَوَسَّعُ، تَابَعَهُ ابْنُ طَاوُسٍ، عَنْ أَبِيهِ، وَأَبُو الزِّنَادِ، عَنْ الْأَعْرَجِ، فِي الْجُبَّتَيْنِ، وَقَالَ حَنْظَلَةُ، سَمِعْتُ طَاوُسًا، سَمِعْتُ أَبَا هُرَيْرَةَ يَقُولُ: جُبَّتَانِ، وَقَالَ جَعْفَرُ بْنُ حَيَّانَ، عَنْ الْأَعْرَجِ، جُبَّتَانِ.
ہم سے عبداللہ بن محمد نے بیان کیا، انہوں نے کہا ہم سے ابوعامر نے بیان کیا، کہا ہم سے ابراہیم بن نافع نے بیان کیا، ان سے امام حسن بصری نے، ان سے طاؤس نے اور ان سے ابوہریرہ رضی اللہ عنہ نے بیان کیا کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے بخیل اور صدقہ دینے والے کی مثال بیان کیا کہ دو آدمیوں جیسی ہے جو لوہے کے جبے ہاتھ، سینہ اور حلق تک پہنے ہوئے ہیں۔ صدقہ دینے والا جب بھی صدقہ کرتا ہے تو اس کے جبہ میں کشادگی ہو جاتی ہے اور وہ اس کی انگلیوں تک بڑھ جاتا ہے اور قدم کے نشانات کو ڈھک لیتا ہے اور بخیل جب بھی کبھی صدقہ کا ارادہ کرتا ہے تو اس کا جبہ اسے اور چمٹ جاتا ہے اور ہر حلقہ اپنی جگہ پر جم جاتا ہے۔ ابوہریرہ رضی اللہ عنہ نے بیان کیا کہ میں نے دیکھا کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم اس طرح اپنی مبارک انگلیوں سے اپنے گریبان کی طرف اشارہ کر کے بتا رہے تھے کہ تم دیکھو گے کہ وہ اس میں وسعت پیدا کرنا چاہے گا لیکن وسعت پیدا نہیں ہو گی۔ اس کی متابعت ابن طاؤس نے اپنے والد سے کی ہے اور ابوالزناد نے اعرج سے کی ”دو جبوں“ کے ذکر کے ساتھ اور حنظلہ نے بیان کیا کہ میں نے طاؤس سے سنا، انہوں نے ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے سنا، انہوں نے کہا «جبتان.» اور جعفر نے اعرج کے واسطہ سے «جبتان.» کا لفظ بیان کیا ہے۔ [صحيح البخاري/كِتَاب اللِّبَاسِ/حدیث: 5797]
حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے انہوں نے کہا کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے بخیل اور صدقہ کرنے والے کی مثال بیان کرتے ہوئے فرمایا: ”ان کی مثال دو آدمیوں جیسی ہے جنہوں نے لوہے کی دو زرہیں پہنی ہوئی ہوں اور ان کے ہاتھ سینے اور حلق تک پہنچے ہوئے ہوں۔ صدقہ دینے والا جب بھی صدقہ کرتا ہے تو وہ زرہ کشادہ ہوتی جاتی ہے، حتیٰ کہ اس کی انگلیوں کے پورے چھپ جاتے ہیں اور قدموں کے نشانات بھی مٹ جاتے ہیں اور بخیل جب بھی صدقہ کرنے کا ارادہ کرتا ہے تو زرہ تنگ ہو جاتی ہے اور ہر حلقہ اپنی جگہ پر جم جاتا ہے۔“ حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ نے کہا: ”میں نے دیکھا کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم اس طرح اپنی مبارک انگلیوں سے اپنے گریبان کی طرف اشارہ کر کے بتا رہے تھے کہ تم دیکھو وہ اس زرہ میں وسعت پیدا کرنے کی کوشش کرتا ہے لیکن وہ کشادہ نہیں ہوتی۔“ ابن طاؤس نے اپنے باپ سے اور ابوزناد نے اعرج سے «جُبَّتَانِ» ”دو چغے“ بیان کرنے میں حسن کی متابعت کی ہے۔ حنظلہ نے کہا: میں نے طاؤس سے سنا، انہوں نے کہا: ”میں نے حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ کو «جُنَّتَانِ» ”دو ڈھالیں“ کہتے ہوئے سنا“ اور جعفر نے اعرج سے «جُبَّتَانِ» ”دو چغے“ روایت کیا ہے۔ [صحيح البخاري/كِتَاب اللِّبَاسِ/حدیث: 5797]
تخریج الحدیث: «أحاديث صحيح البخاريّ كلّها صحيحة»
الحكم على الحديث: أحاديث صحيح البخاريّ كلّها صحيحة