🏠 👥 🔍 🧩 🅰️ 📌 ↩️

صحيح البخاري سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
حدیث کتب میں نمبر سے حدیث تلاش کریں:

صحیح بخاری میں ترقیم شاملہ سے تلاش کل احادیث (7563)
حدیث نمبر لکھیں:
حدیث میں عربی لفظ/الفاظ تلاش کریں
عربی لفظ / الفاظ لکھیں:
حدیث میں اردو لفظ/الفاظ تلاش کریں
اردو لفظ / الفاظ لکھیں:

16. بَابُ التَّقَنُّعِ:
باب: سر پر کپڑا ڈال کر سر چھپانا۔
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: Q5807
وَقَالَ ابْنُ عَبَّاسٍ خَرَجَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَعَلَيْهِ عِصَابَةٌ دَسْمَاءُ وَقَالَ أَنَسٌ عَصَبَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ عَلَى رَأْسِهِ حَاشِيَةَ بُرْدٍ
اور ابن عباس رضی اللہ عنہما نے کہا کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم باہر نکلے اور سر مبارک پر ایک سیاہ پٹی لگا ہوا عمامہ تھا اور انس رضی اللہ عنہ نے بیان کیا کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنے سر پر چادر کا کونا لپیٹ لیا تھا۔ [صحيح البخاري/كِتَاب اللِّبَاسِ/حدیث: Q5807]

اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 5807
حَدَّثَنَا إِبْرَاهِيمُ بْنُ مُوسَى، أَخْبَرَنَا هِشَامٌ، عَنْ مَعْمَرٍ، عَنْ الزُّهْرِيِّ، عَنْ عُرْوَةَ، عَنْ عَائِشَةَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهَا، قَالَتْ:" هَاجَرَ نَاسٌ إِلَى الْحَبَشَةِ مِنَ الْمُسْلِمِينَ، وَتَجَهَّزَ أَبُو بَكْرٍ مُهَاجِرًا، فَقَالَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: عَلَى رِسْلِكَ فَإِنِّي أَرْجُو أَنْ يُؤْذَنَ لِي، فَقَالَ أَبُو بَكْرٍ: أَوَ تَرْجُوهُ بِأَبِي أَنْتَ، قَالَ: نَعَمْ، فَحَبَسَ أَبُو بَكْرٍ نَفْسَهُ عَلَى النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، لِصُحْبَتِهِ وَعَلَفَ رَاحِلَتَيْنِ كَانَتَا عِنْدَهُ، وَرَقَ السَّمُرِ أَرْبَعَةَ أَشْهُرٍ، قَالَ عُرْوَةُ: قَالَتْ عَائِشَةُ: فَبَيْنَا نَحْنُ يَوْمًا جُلُوسٌ فِي بَيْتِنَا فِي نَحْرِ الظَّهِيرَةِ، فَقَالَ قَائِلٌ لِأَبِي بَكْرٍ: هَذَا رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ مُقْبِلًا مُتَقَنِّعًا، فِي سَاعَةٍ لَمْ يَكُنْ يَأْتِينَا فِيهَا، قَالَ أَبُو بَكْرٍ: فِدًا لَكَ أَبِي وَأُمِّي، وَاللَّهِ إِنْ جَاءَ بِهِ فِي هَذِهِ السَّاعَةِ إِلَّا لِأَمْرٍ، فَجَاءَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَاسْتَأْذَنَ، فَأَذِنَ لَهُ، فَدَخَلَ، فَقَالَ حِينَ دَخَلَ لِأَبِي بَكْرٍ: أَخْرِجْ مَنْ عِنْدَكَ، قَالَ: إِنَّمَا هُمْ أَهْلُكَ بِأَبِي أَنْتَ يَا رَسُولَ اللَّهِ، قَالَ: فَإِنِّي قَدْ أُذِنَ لِي فِي الْخُرُوجِ، قَالَ: فَالصُّحْبَةُ بِأَبِي أَنْتَ وَأُمِّي يَا رَسُولَ اللَّهِ، قَالَ: نَعَمْ، قَالَ: فَخُذْ بِأَبِي أَنْتَ يَا رَسُولَ اللَّهِ إِحْدَى رَاحِلَتَيَّ هَاتَيْنِ، قَالَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بِالثَّمَنِ قَالَتْ: فَجَهَّزْنَاهُمَا أَحَثَّ الْجِهَازِ، وَضَعْنَا لَهُمَا سُفْرَةً فِي جِرَابٍ فَقَطَعَتْ أَسْمَاءُ بِنْتُ أَبِي بَكْرٍ قِطْعَةً مِنْ نِطَاقِهَا، فَأَوْكَأَتْ بِهِ الْجِرَابَ، وَلِذَلِكَ كَانَتْ تُسَمَّى ذَاتَ النِّطَاقِ، ثُمَّ لَحِقَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَأَبُو بَكْرٍ بِغَارٍ فِي جَبَلٍ، يُقَالُ لَهُ ثَوْرٌ، فَمَكُثَ فِيهِ ثَلَاثَ لَيَالٍ، يَبِيتُ عِنْدَهُمَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ أَبِي بَكْرٍ وَهُوَ غُلَامٌ شَابٌّ، لَقِنٌ ثَقِفٌ فَيَرْحَلُ مِنْ عِنْدِهِمَا سَحَرًا، فَيُصْبِحُ مَعَ قُرَيْشٍ بِمَكَّةَ كَبَائِتٍ، فَلَا يَسْمَعُ أَمْرًا يُكَادَانِ بِهِ إِلَّا وَعَاهُ حَتَّى يَأْتِيَهُمَا بِخَبَرِ ذَلِكَ حِينَ يَخْتَلِطُ الظَّلَامُ، وَيَرْعَى عَلَيْهِمَا عَامِرُ بْنُ فُهَيْرَةَ مَوْلَى أَبِي بَكْرٍ مِنْحَةً مِنْ غَنَمٍ فَيُرِيحُهَا عَلَيْهِمَا حِينَ تَذْهَبُ سَاعَةٌ مِنَ الْعِشَاءِ، فَيَبِيتَانِ فِي رِسْلِهِمَا حَتَّى يَنْعِقَ بِهَا عَامِرُ بْنُ فُهَيْرَةَ، بِغَلَسٍ يَفْعَلُ ذَلِكَ كُلَّ لَيْلَةٍ مِنْ تِلْكَ اللَّيَالِي الثَّلَاثِ".
ہم سے ابراہیم بن موسیٰ نے بیان کیا، کہا ہم کو ہشام بن عروہ نے خبر دی، انہیں معمر نے، انہیں زہری نے، انہیں عروہ نے اور ان سے عائشہ رضی اللہ عنہا نے بیان کیا کہ بہت سے مسلمان حبشہ ہجرت کر کے چلے گئے اور ابوبکر رضی اللہ عنہ بھی ہجرت کی تیاریاں کرنے لگے لیکن نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ ابھی ٹھہر جاؤ کیونکہ مجھے بھی امید ہے کہ مجھے (ہجرت کی) اجازت دی جائے گی۔ ابوبکر رضی اللہ عنہ نے عرض کیا: کیا آپ کو بھی امید ہے؟ میرا باپ آپ پر قربان۔ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ ہاں۔ چنانچہ ابوبکر رضی اللہ عنہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ رہنے کے خیال سے رک گئے اور اپنی دو اونٹنیوں کو ببول کے پتے کھلا کر چار مہینے تک انہیں خوب تیار کرتے رہے۔ عروہ نے بیان کیا کہ عائشہ رضی اللہ عنہا نے کہا ہم ایک دن دوپہر کے وقت اپنے گھر میں بیٹھے ہوئے تھے کہ ایک شخص نے ابوبکر رضی اللہ عنہ سے کہا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سر ڈھکے ہوئے تشریف لا رہے ہیں۔ اس وقت عموماً نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم ہمارے یہاں تشریف نہیں لاتے تھے۔ ابوبکر رضی اللہ عنہ نے کہا میرے ماں باپ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم پر قربان ہوں، نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم ایسے وقت کسی وجہ ہی سے تشریف لا سکتے ہیں۔ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے مکان پر پہنچ کر اجازت چاہی اور ابوبکر صدیق رضی اللہ عنہ نے انہیں اجازت دی۔ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم اندر تشریف لائے اور اندر داخل ہوتے ہی ابوبکر رضی اللہ عنہ سے فرمایا کہ جو لوگ تمہارے پاس اس وقت ہیں انہیں اٹھا دو۔ ابوبکر صدیق رضی اللہ عنہ نے عرض کی میرا باپ آپ پر قربان ہو یا رسول اللہ! یہ سب آپ کے گھر ہی کے افراد ہیں۔ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ مجھے ہجرت کی اجازت مل گئی ہے۔ ابوبکر صدیق رضی اللہ عنہ نے عرض کی پھر یا رسول اللہ! مجھے رفاقت کا شرف حاصل رہے گا؟ آپ نے فرمایا کہ ہاں۔ عرض کی یا رسول اللہ! میرے باپ آپ پر قربان ہوں ان دو اونٹنیوں میں سے ایک آپ لے لیں۔ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا لیکن قیمت سے۔ عائشہ رضی اللہ عنہا نے بیان کیا کہ پھر ہم نے بہت جلدی جلدی سامان سفر تیار کیا اور سفر کا ناشتہ ایک تھیلے میں رکھا۔ اسماء بنت ابی بکر رضی اللہ عنہا نے اپنے پٹکے کے ایک ٹکڑے سے تھیلہ کے منہ کو باندھا۔ اسی وجہ سے انہیں ذات النطاق (پٹکے والی) کہنے لگے۔ پھر نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم اور ابوبکر رضی اللہ عنہ ثور نامی پہاڑ کی ایک غار میں جا کر چھپ گئے اور تین دن تک اسی میں ٹھہرے رہے۔ عبداللہ بن ابی بکر رضی اللہ عنہما رات آپ حضرات کے پاس ہی گزارتے تھے۔ وہ نوجوان ذہین اور سمجھدار تھے۔ صبح تڑکے میں وہاں سے چل دیتے تھے اور صبح ہوتے ہوتے مکہ کے قریش میں پہنچ جاتے تھے۔ جیسے رات میں مکہ ہی میں رہے ہوں۔ مکہ مکرمہ میں جو بات بھی ان حضرات کے خلاف ہوتی اسے محفوظ رکھتے اور جوں ہی رات کا اندھیرا چھا جاتا غار ثور میں ان حضرات کے پاس پہنچ کر تمام تفصیلات کی اطلاع دیتے۔ ابوبکر رضی اللہ عنہ کے مولیٰ عامر بن فہیرہ رضی اللہ عنہ دودھ دینے والی بکریاں چراتے تھے اور جب رات کا ایک حصہ گزر جاتا تو ان بکریوں کو غار ثور کی طرف ہانک لاتے تھے۔ آپ حضرات بکریوں کے دودھ پر رات گزارتے اور صبح کی پو پھٹتے ہی عامر بن فہیرہ رضی اللہ عنہ وہاں سے روانہ ہو جاتے۔ ان تین راتوں میں انہوں نے ہر رات ایسا ہی کیا۔ [صحيح البخاري/كِتَاب اللِّبَاسِ/حدیث: 5807]
ام المومنین حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا سے روایت ہے انہوں نے کہا کہ چند مسلمانوں نے حبشہ کی طرف ہجرت کی اور حضرت ابو بکر صدیق رضی اللہ عنہ بھی ہجرت کی تیاری کرنے لگے تو نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ابھی ٹھہر جاؤ، مجھے امید ہے کہ ہجرت کی اجازت مجھے بھی دی جائے گی۔ حضرت ابو بکر صدیق رضی اللہ عنہ نے عرض کی: میرے ماں باپ آپ پر قربان ہوں! کیا آپ کو بھی ہجرت کی امید ہے؟ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ہاں۔ چنانچہ حضرت ابو بکر صدیق رضی اللہ عنہ نے نبی صلی اللہ علیہ وسلم کی رفاقت کے لیے خود کو روک لیا اور اپنی دو اونٹنیوں کو چار ماہ تک کیکر کے پتے کھلاتے رہے۔ حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا نے فرمایا: ہم ایک دن دوپہر کے وقت اپنے گھر میں بیٹھے ہوئے تھے کہ کسی نے حضرت ابو بکر صدیق رضی اللہ عنہ سے کہا: یہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم جو سر، منہ ڈھانپے اس طرف تشریف لا رہے ہیں، عام طور پر آپ صلی اللہ علیہ وسلم اس وقت ہمارے گھر تشریف نہیں لاتے تھے، حضرت ابو بکر صدیق رضی اللہ عنہ نے کہا: میرے ماں باپ آپ پر قربان ہوں! اللہ کی قسم! آپ صلی اللہ علیہ وسلم کسی اہم کام کے لیے اس وقت تشریف لائے ہیں، بہرحال نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے مکان پر پہنچ کر اجازت طلب کی۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم اندر تشریف لائے اور آتے ہی حضرت ابو بکر صدیق رضی اللہ عنہ سے فرمایا: جو لوگ اس وقت تمہارے پاس ہیں انہیں یہاں سے اٹھا دو۔ حضرت ابو بکر صدیق رضی اللہ عنہ نے کہا: میرا باپ آپ پر قربان ہو، اے اللہ کے رسول! یہ سب آپ کے گھر کے افراد ہیں۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: مجھے ہجرت کی اجازت مل گئی ہے۔ حضرت ابو بکر صدیق رضی اللہ عنہ نے عرض کی: میرے ماں باپ آپ پر قربان ہوں اے اللہ کے رسول! پھر مجھے رفاقت کی سعادت حاصل رہے گی؟ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ہاں۔ انہوں نے عرض کی: اللہ کے رسول! میرا باپ آپ پر قربان ہو، ان دو اونٹنیوں میں سے ایک آپ صلی اللہ علیہ وسلم لے لیں۔ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: میں یہ قیمت سے لیتا ہوں۔ حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا نے فرمایا: پھر ہم نے جلدی جلدی دونوں سواریوں کا سامان تیار کیا، پھر دونوں کے لیے کھانا تیار کر کے توشہ دان میں رکھ دیا۔ حضرت اسماء بنت ابی بکر رضی اللہ عنہا نے اپنے پٹکے کے ایک ٹکڑے سے اس توشہ دان کا منہ باندھ دیا۔ اس بنا پر انہیں «ذَاتُ النِّطَاقَيْنِ» ذات النطاقین کہا جاتا ہے۔ اس کے بعد نبی صلی اللہ علیہ وسلم اور حضرت ابو بکر صدیق رضی اللہ عنہ غارِ ثور میں جا کر چھپ گئے۔ وہاں تین راتیں قیام فرمایا۔ حضرت ابو بکر صدیق رضی اللہ عنہ کا بیٹا عبد اللہ رضی اللہ عنہ رات کے وقت ان کے پاس رہتا تھا۔ وہ نوجوان، ذہین اور سمجھدار تھا، وہ ان کے پاس سے سحری کے وقت روانہ ہوتا اور مکہ مکرمہ میں صبح ہوتے ہی قریش کے ہاں پہنچ جاتا جیسا کہ وہ مکہ ہی میں رات کے وقت رہا ہو۔ مکہ مکرمہ میں جو بات بھی ان حضرات کے خلاف ہوتی اسے محفوظ کر لیتا پھر جونہی رات کا اندھیرا چھا جاتا غارِ ثور میں ان حضرات کے پاس پہنچ کر تمام تفصیلات سے آگاہ کر دیتا۔ حضرت ابو بکر صدیق رضی اللہ عنہ کا آزاد کردہ غلام عامر بن فہیرہ رضی اللہ عنہ دودھ دینے والی بکریاں چراتا تھا اور جب رات کا ایک حصہ گزر جاتا تو ان بکریوں کو غارِ ثور کی طرف ہانک کر لے جاتا۔ وہ دونوں (رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم اور حضرت ابو بکر صدیق رضی اللہ عنہ) بکریوں کا دودھ پی کر رات بسر کرتے، پھر عامر بن فہیرہ رضی اللہ عنہ صبح اندھیرے وہاں سے روانہ ہو جاتا۔ ان تین راتوں میں اس نے ہر رات ایسا ہی کیا۔ [صحيح البخاري/كِتَاب اللِّبَاسِ/حدیث: 5807]
تخریج الحدیث: «أحاديث صحيح البخاريّ كلّها صحيحة»

الحكم على الحديث: أحاديث صحيح البخاريّ كلّها صحيحة
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں