مشكوة المصابيح سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
--. (تَجْمِيلُ شَعْرِ ٱلرَّأْسِ)
سر کے بال سنوار کر رکھے جائیں
حدیث نمبر: 4486
4486 - وَعَنْ عَطَاءِ بْنِ يَسَارٍ - رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ - قَالَ: كَانَ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - فِي الْمَسْجِدِ، فَدَخَلَ رَجُلٌ ثَائِرُ الرَّأْسِ وَاللِّحْيَةِ، فَأَشَارَ إِلَيْهِ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - بِيَدِهِ، كَأَنَّهُ يَأْمُرُهُ بِإِصْلَاحِ شَعْرِهِ وَلِحْيَتِهِ ، فَفَعَلَ، ثُمَّ رَجَعَ. فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ:"أَلَيْسَ هَذَا خَيْرًا مِنْ أَنْ يَأْتِيَ أَحَدُكُمْ وَهُوَ ثَائِرُ الرَّأْسِ كَأَنَّهُ شَيْطَانٌ". رَوَاهُ مَالِكٌ.
عطا بن یسار رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں، رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم مسجد میں تشریف فرما تھے کہ ایک آدمی آیا جس کے سر اور داڑھی کے بال پراگندہ تھے، رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے اپنے دست مبارک سے اس کی طرف اشارہ فرمایا، گویا آپ اسے اپنے بال اور داڑھی سنوارنے کا حکم فرما رہے ہیں، اس نے ویسے ہی کر لیا اور پھر وہ آپ کی خدمت میں حاضر ہوا تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: ”یہ اس سے بہتر ہے کہ تم میں سے کوئی اس حال میں آئے کہ اس کے سر کے بال پراگندہ ہوں گویا وہ شیطان ہے۔“ اسنادہ ضعیف، رواہ مالک۔ [مشكوة المصابيح/كتاب اللباس/حدیث: 4486]
تخریج الحدیث: ´تحقيق و تخريج: محدث العصر حافظ زبير على زئي رحمه الله` «إسناده ضعيف، رواه مالک (949/2 ح 1834)
٭ السند مرسل .»
٭ السند مرسل .»
قال الشيخ الألباني: لم تتمّ دراسته
قال الشيخ زبير على زئي:إسناده ضعيف