مشكوة المصابيح سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
--. (سَلَامُ وَاحِدٍ وَجَوَابُ وَاحِدٍ فِي الْجَمَاعَةِ كَافٍ)
جماعت میں ایک کا سلام اور ایک کا جواب کافی ہے
حدیث نمبر: 4648
4648 - وَعَنْ عَلِيِّ بْنِ أَبِي طَالِبٍ - رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ - قَالَ: يُجْزِئُ عَنِ الْجَمَاعَةِ إِذَا مَرُّوا أَنْ يُسَلِّمَ أَحَدُهُمْ ، وَيُجْزِئُ عَنِ الْجُلُوسِ أَنْ يَرُدَّ أَحَدُهُمْ. رَوَاهُ الْبَيْهَقِيُّ فِي"شُعَبِ الْإِيمَانِ"مَرْفُوعًا. وَرَوَى أَبُو دَاوُدَ، وَقَالَ: رَفَعَهُ الْحَسَنُ بْنُ عَلِيٍّ، وَهُوَ شَيْخُ أَبِي دَاوُدَ.
علی بن ابی طالب رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں، جب لوگوں کی جماعت کا گزر ہو تو ان کی طرف سے ایک آدمی کا سلام کرنا کافی ہے اور جو بیٹھے ہوئے ہیں ان کی طرف سے ایک آدمی کا جواب دینا کافی ہے۔ “ بیہقی نے شعب الایمان میں اسے مرفوع روایت کیا ہے۔ اور ابوداؤد نے اس حدیث کو روایت کرنے کے بعد کہا: حسن بن علی نے اسے مرفوع روایت کیا ہے، اور وہ ابوداؤد کے استاد ہیں۔ حسن، رواہ البیھقی فی شعب الایمان و ابوداؤد۔ [مشكوة المصابيح/كتاب الآداب/حدیث: 4648]
تخریج الحدیث: ´تحقيق و تخريج: محدث العصر حافظ زبير على زئي رحمه الله` «حسن، رواه البيھقي في شعب الإيمان (8922) و أبو داود (5210)»
قال الشيخ زبير على زئي:حسن