مشكوة المصابيح سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
--. (زَعْمٌ اسْمٌ سَيِّئٌ)
زعمو برا نام ہے
حدیث نمبر: 4777
4777 - وَعَنْ أَبِي مَسْعُودٍ الْأَنْصَارِيِّ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ قَالَ لِأَبِي عَبْدِ اللَّهِ - أَوْ قَالَ أَبُو عَبْدِ اللَّهِ لِأَبِي مَسْعُودٍ -: مَا سَمِعْتَ رَسُولَ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - يَقُولُ فِي (زَعَمُوا؟) قَالَ: سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - يَقُولُ:"بِئْسَ مَطِيَّةُ الرَّجُلِ ". رَوَاهُ أَبُو دَاوُدَ وَقَالَ: إِنَّ أَبَا عَبْدِ اللَّهِ حُذَيْفَةُ.
ابومسعود انصاری رضی اللہ عنہ سے روایت ہے، انہوں نے ابو عبداللہ سے یا ابو عبداللہ نے ابو مسعود سے کہا: تم نے لفظ ”زَعَمُوْا“ (لوگوں کا خیال ہے) کے بارے میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کو کیا فرماتے ہوئے سنا؟ انہوں نے کہا: میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کو فرماتے ہوئے سُنا: ”آدمی کا ایسے انداز میں گفتگو کرنا بُرا ہے۔ “ ابوداؤد، اور انہوں نے کہا: ابو عبداللہ سے مراد حذیفہ ہیں۔ صحیح، رواہ ابوداؤد۔ [مشكوة المصابيح/كتاب الآداب/حدیث: 4777]
تخریج الحدیث: ´تحقيق و تخريج: محدث العصر حافظ زبير على زئي رحمه الله` «صحيح، رواه أبو داود (4972)»
قال الشيخ زبير على زئي:صحيح