صحيح البخاري سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
82. بَابُ الْمُتَفَلِّجَاتِ لِلْحُسْنِ:
باب: حسن کے لیے جو عورتیں دانت کشادہ کرائیں۔
حدیث نمبر: 5931
حَدَّثَنَا عُثْمَانُ، حَدَّثَنَا جَرِيرٌ، عَنْ مَنْصُورٍ، عَنْ إِبْرَاهِيمَ، عَنْ عَلْقَمَةَ، قَالَ عَبْدُ اللَّهِ" لَعَنَ اللَّهُ الْوَاشِمَاتِ وَالْمُتَنَمِّصَاتِ وَالْمُتَفَلِّجَاتِ لِلْحُسْنِ الْمُغَيِّرَاتِ خَلْقَ اللَّهِ تَعَالَى"، مَالِي لَا أَلْعَنُ مَنْ لَعَنَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَهُوَ فِي كِتَابِ اللَّهِ وَمَا آتَاكُمُ الرَّسُولُ فَخُذُوهُ سورة الحشر آية 7.
ہم سے عثمان بن ابی شیبہ نے بیان کیا، کہا ہم سے جریر بن عبدالحمید نے بیان کیا، ان سے منصور بن معتمر نے، ان سے ابراہیم نخعی نے، ان سے علقمہ نے اور ان سے عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ نے کہ اللہ تعالیٰ نے حسن کے لیے گودنے والیوں، گدوانے والیوں پر اور چہرے کے بال اکھاڑنے والیوں پر اور دانتوں کے درمیان کشادگی پیدا کرنے والیوں پر، جو اللہ کی خلقت کو بدلیں ان سب پر لعنت بھیجی ہے، میں بھی کیوں نہ ان لوگوں پر لعنت کروں جن پر رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے لعنت کی ہے اور اس کی دلیل کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی لعنت خود قرآن مجید میں موجود ہے۔ آیت «وما آتاكم الرسول فخذوه» ہے۔ [صحيح البخاري/كِتَاب اللِّبَاسِ/حدیث: 5931]
حضرت عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ سے روایت ہے: ”اللہ تعالیٰ نے ان عورتوں پر لعنت کی ہے جو اپنے حسن کو دوبالا کرنے کے لیے جسم کے کسی حصہ میں سرمہ بھرتی یا بھرواتی ہیں، چہرے کے بال اکھاڑتی ہیں اور اپنے دانتوں کے درمیان کشادگی پیدا کرتی ہیں۔ ایسا کرنے والی عورتیں اللہ کی خلقت کو بدلتی ہیں۔“ میں ایسی عورتوں پر لعنت کیوں نہ کروں جن پر نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے لعنت کی ہے؟ اور یہ ارشاد باری تعالیٰ ہے: ﴿وَمَآ اٰتٰىكُمُ الرَّسُوْلُ فَخُذُوْهُ وَمَا نَهٰىكُمْ عَنْهُ فَانْتَهُوْا﴾ [سورة الحشر: 7] ”جو چیز تمہیں رسول دے۔۔۔۔ رک جاؤ۔“ [صحيح البخاري/كِتَاب اللِّبَاسِ/حدیث: 5931]
تخریج الحدیث: «أحاديث صحيح البخاريّ كلّها صحيحة»
الحكم على الحديث: أحاديث صحيح البخاريّ كلّها صحيحة