🏠 👥 🔍 🧩 🅰️ 📌 ↩️

مشكوة المصابيح سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
حدیث کتب میں نمبر سے حدیث تلاش کریں:

مشکوۃ المصابیح میں ترقیم شاملہ سے تلاش کل احادیث (6294)
حدیث نمبر لکھیں:
حدیث میں اردو لفظ/الفاظ تلاش کریں
اردو لفظ / الفاظ لکھیں:
حدیث میں اردو لفظ/الفاظ تلاش کریں
اردو لفظ / الفاظ لکھیں:

--. (أُسْلُوبٌ مَحَبَّةٌ مِنَ النَّبِيِّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ مَعَ رَجُلٍ بَدَوِيٍّ)
ایک دیہاتی سے آپ صلی اللہ علیہ وسلم کا محبت بھرا انداز
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 4889
4889 - وَعَنْهُ، أَنَّ رَجُلًا مِنْ أَهْلِ الْبَادِيَةِ كَانَ اسْمُهُ زَاهِرَ بْنَ حَرَامٍ، وَكَانَ يُهْدِي لِلنَّبِيِّ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - مِنَ الْبَادِيَةِ، فَيُجَهِّزُهُ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - إِذَا أَرَادَ أَنْ يَخْرُجَ، فَقَالَ النَّبِيُّ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ:"إِنَّ زَاهِرًا بَادِيَتُنَا وَنَحْنُ حَاضِرُوهُ". وَكَانَ النَّبِيُّ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - يُحِبُّهُ، وَكَانَ دَمِيمًا، فَأَتَى النَّبِيُّ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - يَوْمًا وَهُوَ يَبِيعُ مَتَاعَهُ، فَاحْتَضَنَهُ مِنْ خَلْفِهِ وَهُوَ لَا يُبْصِرُهُ  . قَالَ: أَرْسِلْنِي، مَنْ هَذَا؟ فَالْتَفَتَ فَعَرَفَ النَّبِيَّ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - فَجَعَلَ لَا يَأْلُو مَا أَلْزَقَ ظَهْرَهُ بِصَدْرِ النَّبِيِّ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - حِينَ عَرَفَهُ، وَجَعَلَ النَّبِيُّ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - يَقُولُ:"مَنْ يَشْتَرِي الْعَبْدَ؟"فَقَالَ: يَا رَسُولَ اللَّهِ إِذًا وَاللَّهِ تَجِدُنِي كَاسِدًا، فَقَالَ النَّبِيُّ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ:"لَكِنْ عِنْدَ اللَّهِ لَسْتَ بِكَاسِدٍ"رَوَاهُ فِي"شَرْحِ السُّنَّةِ".
انس رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ زاہر بن حرام نامی ایک گنوار شخص جنگل سے نبی صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کے لیے تحائف لایا کرتا تھا، اور جب وہ واپسی کا ارادہ کرتا تو رسول اللہ صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم اسے (سامان) دیا کرتے تھے، نبی صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: زاہر جنگل میں ہمارا کارندہ ہے اور ہم شہر میں اس کے کار پرداز ہیں۔ اور نبی صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم اس سے محبت کیا کرتے تھے، حالانکہ وہ کوئی خوبصورت نہیں تھا، چنانچہ ایک روز نبی صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم تشریف لائے تو وہ اپنا سامان فروخت کر رہا تھا، آپ نے اس کے پیچھے سے اپنے حصار میں لے لیا اور وہ آپ کو نہیں دیکھتا تھا، اس نے عرض کیا: مجھے چھوڑ دو، یہ کون ہے؟ اس نے ایک طرف سے دیکھا تو پہچان لیا کہ وہ نبی صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم ہیں، جب اس نے آپ کو پہچان لیا تو وہ بڑے اہتمام کے ساتھ اپنی پشت نبی صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کے سینہ مبارک کے ساتھ لگانے لگا، اور نبی صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم فرمانے لگے: اس غلام کو کون خریدے گا؟ اس نے عرض کیا: اللہ کے رسول! اللہ کی قسم! میری بہت کم قیمت آپ کو ملے گی، نبی صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: لیکن تم اللہ کے ہاں کم قیمت کے نہیں ہو۔ اسنادہ صحیح، رواہ فی شرح السنہ۔ [مشكوة المصابيح/كتاب الآداب/حدیث: 4889]
تخریج الحدیث: ´تحقيق و تخريج: محدث العصر حافظ زبير على زئي رحمه الله` «إسناده صحيح، رواه البغوي في شرح السنة (181/13 ح 3604) [و أحمد (161/3) والترمذي في الشمائل (238) ] و أخطأ من ضعفه.»
قال الشيخ زبير على زئي:إسناده صحيح

مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں