مشكوة المصابيح سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
--. (الإِحْسَانُ مَعَ الوَالِدَيْنِ المُتَوَفَّيَيْنِ)
فوت شدہ والدین کے ساتھ نیکی
حدیث نمبر: 4936
4936 - وَعَنْ أَبِي أُسَيْدٍ السَّاعِدِيِّ - رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ - قَالَ: بَيْنَا نَحْنُ عِنْدَ رَسُولِ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - إِذْ جَاءَ رَجُلٌ مِنْ بَنِي سَلَمَةَ، فَقَالَ: يَا رَسُولَ اللَّهِ هَلْ بَقِيَ مِنْ بِرِّ أَبَوَيَّ أَبَرُّهُمَا بِهِ بَعْدَ مَوْتِهِمَا ؟ قَالَ:"نَعَمْ، الصَّلَاةُ عَلَيْهِمَا، وَالِاسْتِغْفَارُ لَهُمَا، وَإِنْفَاذُ عَهْدِهِمَا مِنْ بَعْدِهِمَا، وَصِلَةُ الرَّحِمِ الَّتِي لَا تُوصَلُ إِلَّا بِهِمَا، وَإِكْرَامُ صَدِيقِهِمَا". رَوَاهُ أَبُو دَاوُدَ، وَابْنُ مَاجَهْ.
ابواسید ساعدی رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں، اس اثنا میں کہ ہم رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی خدمت میں حاضر تھے کہ اتنے میں بنو سلمہ (کے قبیلے) سے ایک آدمی آپ کی خدمت میں حاضر ہوا اور اس نے عرض کیا: اللہ کے رسول! کیا والدین کے ساتھ حسن سلوک کی کوئی ایسی صورت ہے جس کے ذریعے میں ان کی وفات کے بعد ان سے حسن سلوک کر سکوں؟ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: ”ہاں! ان کے لیے دعا کرو، ان کے لیے مغفرت طلب کرو، ان کے بعد ان کی وصیت پر عمل کرو، وہ جو صلہ رحمی کیا کرتے تھے اسے جاری رکھو اور ان کے دوستوں کی تکریم کرو۔ “ اسنادہ حسن، رواہ ابوداؤد و ابن ماجہ۔ [مشكوة المصابيح/كتاب الآداب/حدیث: 4936]
تخریج الحدیث: ´تحقيق و تخريج: محدث العصر حافظ زبير على زئي رحمه الله` «إسناده حسن، رواه أبو داود (5142) و ابن ماجه (3664)»
قال الشيخ زبير على زئي:إسناده حسن