مشكوة المصابيح سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
--. (أَهَمِّيَّةُ شَهَادَةِ ٱلْجَارِ)
ہمسائے کی گواہی کی اہمیت
حدیث نمبر: 4988
4988 - وَعَنِ ابْنِ مَسْعُودٍ - رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ - قَالَ: قَالَ رَجُلٌ لِلنَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: يَا رَسُولَ اللَّهِ! كَيْفَ لِي أَنْ أَعْلَمَ إِذَا أَحْسَنْتُ أَوْ إِذَا أَسَأْتُ؟ فَقَالَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ:"إِذَا سَمِعْتَ جِيرَانَكَ يَقُولُونَ: قَدْ أَحْسَنْتَ؟ فَقَدْ أَحْسَنْتَ، وَإِذَا سَمِعْتَهُمْ يَقُولُونَ: قَدْ أَسَأْتَ فَقَدْ أَسَأْتَ"رَوَاهُ ابْنُ مَاجَهْ.
ابن مسعود رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ ایک آدمی نے نبی صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم سے عرض کیا: اللہ کے رسول! مجھے کیسے پتا چلے کہ میں اچھا ہوں یا برا؟ نبی صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: ”جب تم اپنے پڑوسیوں کو کہتے ہوئے سنو کہ تم اچھے ہو تو تم اچھے ہو اور جب تم انہیں کہتے ہوئے سنو کہ تم برے ہو تو تم برے ہو۔“ (اسنادہ صحیح، رواہ ابن ماجہ)۔ [مشكوة المصابيح/كتاب الآداب/حدیث: 4988]
تخریج الحدیث: ´تحقيق و تخريج: محدث العصر حافظ زبير على زئي رحمه الله` «إسناده صحيح، رواه ابن ماجه (4223)»
قال الشيخ الألباني: صَحِيح
قال الشيخ زبير على زئي:إسناده صحيح