مشكوة المصابيح سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
--. (مَنْ هُوَ الصَّاحِبُ الْخَيْرُ وَالْجَارُ الْحَسَنُ؟)
بہتر ساتھی اور اچھا پڑوسی کون؟
حدیث نمبر: 4987
4987 - وَعَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عَمْرٍو - رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُمَا - قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ:"خَيْرُ الْأَصْحَابِ عِنْدَ اللَّهِ خَيْرُهُمْ لِصَاحِبِهِ، وَخَيْرُ الْجِيرَانِ عِنْدَ اللَّهِ خَيْرُهُمْ لِجَارِهِ ". رَوَاهُ التِّرْمِذِيُّ، وَالدَّارِمِيُّ، وَقَالَ التِّرْمِذِيُّ: هَذَا حَدِيثٌ حَسَنٌ غَرِيبٌ.
عبداللہ بن عمرو رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں، رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: ”اللہ کے نزدیک بہترین ساتھی وہ ہے جو ان میں اپنے ساتھی کے لیے بہتر ہے اور اللہ کے نزدیک بہترین پڑوسی وہ ہے جو اپنے پڑوسی کے لیے بہتر ہے۔ “ ترمذی، دارمی، اور ترمذی نے فرمایا: یہ حدیث حسن غریب ہے۔ اسنادہ صحیح، رواہ الترمذی و الدارمی۔ [مشكوة المصابيح/كتاب الآداب/حدیث: 4987]
تخریج الحدیث: ´تحقيق و تخريج: محدث العصر حافظ زبير على زئي رحمه الله` «إسناده صحيح، رواه الترمذي (1944) و الدارمي (215/2 ح 2442)»
قال الشيخ زبير على زئي:إسناده صحيح