مشكوة المصابيح سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
--. (أَعْظَمُ الظُّلْمِ؟)
سب سے بڑا ظلم؟
حدیث نمبر: 5131
الْفَصْلُ الثَّالِثُ 5131 - عَنِ ابْنِ مَسْعُودٍ - رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ - قَالَ لَمَّا نَزَلَتْ: الَّذِينَ آمَنُوا وَلَمْ يَلْبِسُوا إِيمَانَهُمْ بِظُلْمٍ . شَقَّ ذَلِكَ عَلَى أَصْحَابِ رَسُولِ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - قَالُوا: يَا رَسُولَ اللَّهِ! أَيُّنَا لَمْ يَظْلِمْ نَفْسَهُ؟ فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ:"لَيْسَ ذَاكَ؟ إِنَّمَا هُوَ الشِّرْكُ، أَلَمْ تَسْمَعُوا قَوْلَ لُقْمَانَ لِابْنِهِ: يَابُنَيَّ لَا تُشْرِكْ بِاللَّهِ إِنَّ الشِّرْكَ لَظُلْمٌ عَظِيمٌ. وَفِي رِوَايَةٍ:"لَيْسَ هُوَ كَمَا تَظُنُّونَ، إِنَّمَا هُوَ كَمَا قَالَ لُقْمَانُ لِابْنِهِ". مُتَّفَقٌ عَلَيْهِ.
ابن مسعود رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں، جب یہ آیت نازل ہوئی: ”جو لوگ ایمان لائے اور انہوں نے اپنے ایمان کے ساتھ ظلم کی آمیزش نہیں کی۔ “ یہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے صحابہ رضی اللہ عنہ پر گراں گزری اور انہوں نے عرض کیا: اللہ کے رسول! ہم میں سے کون ہے جس نے اپنے آپ پر ظلم نہیں کیا، رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: ”اس سے یہ مراد نہیں، بلکہ اس سے مراد شرک ہے، کیا تم نے لقمان ؑ کا قول نہیں سنا جو انہوں نے اپنے بیٹے سے کہا: ”بیٹے! اللہ کے ساتھ شرک نہ کرنا، کیونکہ شرک ظلم عظیم ہے۔ “ ایک دوسری روایت میں ہے: ”ایسے نہیں جو تم گمان کرتے ہو، یہ تو وہ ہے جیسے لقمان ؑ نے اپنے بیٹے سے فرمایا تھا۔ “ متفق علیہ۔ [مشكوة المصابيح/كتاب الآداب/حدیث: 5131]
تخریج الحدیث: ´تحقيق و تخريج: محدث العصر حافظ زبير على زئي رحمه الله` «متفق عليه، رواه البخاري (4776) و مسلم (124/197)»
قال الشيخ زبير على زئي:متفق عليه