صحيح البخاري سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
59. بَابُ مَا يَكُونُ مِنَ الظَّنِّ:
باب: گمان سے کوئی بات کہنا۔
حدیث نمبر: 6067
حَدَّثَنَا سَعِيدُ بْنُ عُفَيْرٍ، حَدَّثَنَا اللَّيْثُ، عَنْ عُقَيْلٍ، عَنِ ابْنِ شِهَابٍ، عَنْ عُرْوَةَ، عَنْ عَائِشَةَ، قَالَتْ: قَالَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ:" مَا أَظُنُّ فُلَانًا وَفُلَانًا يَعْرِفَانِ مِنْ دِينِنَا شَيْئًا" قَالَ اللَّيْثُ: كَانَا رَجُلَيْنِ مِنَ الْمُنَافِقِينَ.
ہم سے سعید بن عفیر نے بیان کیا، کہا ہم سے لیث بن سعد نے بیان کیا، ان سے عقیل نے، ان سے ابن شہاب نے، ان سے عروہ نے اور ان سے عائشہ رضی اللہ عنہا نے بیان کیا کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا ”میں گمان کرتا ہوں کہ فلاں اور فلاں ہمارے دین کی کوئی بات نہیں جانتے ہیں۔“ لیث بن سعد نے بیان کیا کہ یہ دونوں آدمی منافق تھے۔ [صحيح البخاري/كِتَاب الْأَدَبِ/حدیث: 6067]
حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا سے روایت ہے، انہوں نے کہا کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”میں فلاں فلاں شخص کے متعلق گمان نہیں کرتا کہ وہ ہمارے دین کے بارے میں کچھ معلومات رکھتے ہوں۔“ (راویِ حدیث) نے کہا: وہ دو آدمی منافق تھے۔ [صحيح البخاري/كِتَاب الْأَدَبِ/حدیث: 6067]
تخریج الحدیث: «أحاديث صحيح البخاريّ كلّها صحيحة»
الحكم على الحديث: أحاديث صحيح البخاريّ كلّها صحيحة
حدیث نمبر: 6068
حَدَّثَنَا يَحْيَى بْنُ بُكَيْرٍ، حَدَّثَنَا اللَّيْثُ بِهَذَا، وَقَالَتْ: دَخَلَ عَلَيّ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَوْمًا وَقَالَ:" يَا عَائِشَةُ مَا أَظُنُّ فُلَانًا وَفُلَانًا يَعْرِفَانِ دِينَنَا الَّذِي نَحْنُ عَلَيْهِ".
ہم سے یحییٰ بن بکیر نے کیا، کہا ہم سے لیث بن سعد نے یہی حدیث نقل کی اور (اس میں یوں ہے کہ) عائشہ رضی اللہ عنہا نے بیان کیا کہ ایک دن نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم میرے یہاں تشریف لائے اور فرمایا عائشہ میں گمان کرتا ہوں کہ فلاں فلاں لوگ ہم جس دین پر ہیں اس کو نہیں پہچانتے۔ [صحيح البخاري/كِتَاب الْأَدَبِ/حدیث: 6068]
حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا سے روایت ہے، انہوں نے کہا کہ ایک دن نبی صلی اللہ علیہ وسلم میرے پاس تشریف لائے اور فرمایا: ”اے عائشہ! میں فلاں شخص کے متعلق یہ گمان نہیں کرتا کہ وہ ہمارے اس دین کے متعلق کچھ جانتا ہو جس پر ہم قائم ہیں۔“ [صحيح البخاري/كِتَاب الْأَدَبِ/حدیث: 6068]
تخریج الحدیث: «أحاديث صحيح البخاريّ كلّها صحيحة»
الحكم على الحديث: أحاديث صحيح البخاريّ كلّها صحيحة