🏠 👥 🔍 🧩 🅰️ 📌 ↩️

الحمدللہ ! رمضان المبارک کے بابرکت مہینے میں حدیث 365 ایپ ریلیز کر دی گئی ہے۔
ان شاءاللہ اگلی کتاب مستدرک حاکم پیش کی جا رہی ہے
صحيح البخاري سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
حدیث کتب میں نمبر سے حدیث تلاش کریں:

صحیح بخاری میں ترقیم شاملہ سے تلاش کل احادیث (7563)
حدیث نمبر لکھیں:
حدیث میں عربی لفظ/الفاظ تلاش کریں
عربی لفظ / الفاظ لکھیں:
حدیث میں اردو لفظ/الفاظ تلاش کریں
اردو لفظ / الفاظ لکھیں:
59. باب ما يكون من الظن:
باب: گمان سے کوئی بات کہنا۔
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 6068
حَدَّثَنَا يَحْيَى بْنُ بُكَيْرٍ، حَدَّثَنَا اللَّيْثُ بِهَذَا، وَقَالَتْ: دَخَلَ عَلَيّ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَوْمًا وَقَالَ:" يَا عَائِشَةُ مَا أَظُنُّ فُلَانًا وَفُلَانًا يَعْرِفَانِ دِينَنَا الَّذِي نَحْنُ عَلَيْهِ".
ہم سے یحییٰ بن بکیر نے کیا، کہا ہم سے لیث بن سعد نے یہی حدیث نقل کی اور (اس میں یوں ہے کہ) عائشہ رضی اللہ عنہا نے بیان کیا کہ ایک دن نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم میرے یہاں تشریف لائے اور فرمایا عائشہ میں گمان کرتا ہوں کہ فلاں فلاں لوگ ہم جس دین پر ہیں اس کو نہیں پہچانتے۔ [صحيح البخاري/كتاب الأدب/حدیث: 6068]
تخریج الحدیث: «أحاديث صحيح البخاريّ كلّها صحيحة»

الحكم على الحديث: أحاديث صحيح البخاريّ كلّها صحيحة

الرواة الحديث:
اسم الشهرة
الرتبة عند ابن حجر/ذهبي
أحاديث
👤←👥عائشة بنت أبي بكر الصديق، أم عبد اللهصحابي
👤←👥الليث بن سعد الفهمي، أبو الحارث
Newالليث بن سعد الفهمي ← عائشة بنت أبي بكر الصديق
ثقة ثبت فقيه إمام مشهور
👤←👥يحيى بن بكير القرشي، أبو زكريا
Newيحيى بن بكير القرشي ← الليث بن سعد الفهمي
ثقة
تخريج الحديث:
کتاب
نمبر
مختصر عربی متن
صحيح البخاري
6068
ما أظن فلانا وفلانا يعرفان من ديننا شيئا قال الليث كانا رجلين من المنافقين
صحیح بخاری کی حدیث نمبر 6068 کے فوائد و مسائل
مولانا داود راز رحمه الله، فوائد و مسائل، تحت الحديث صحيح بخاري: 6068
حدیث حاشیہ:
زمانہ نبوی میں منافقین کی ایک جماعت بہت ہی خطرناک تھی جو اوپر سے مسلمان بنتے اور دل سے ہر وقت مسلمانوں کا برا چاہتے ایسے بد بختوں نے ہمیشہ اسلام کو بہت نقصان پہنچایا ہے، ایسے لوگ آج کل بھی بہت ہیں۔
إلا ما شاءاللہ۔
[صحیح بخاری شرح از مولانا داود راز، حدیث/صفحہ نمبر: 6068]

الشيخ حافط عبدالستار الحماد حفظ الله، فوائد و مسائل، تحت الحديث صحيح بخاري:6068
حدیث حاشیہ:
(1)
رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ان دو آدمیوں کے اخلاق وکردار کو دیکھ کر فرمایا:
وہ میرے گمان کے مطابق ہمارے دین اسلام کے متعلق کچھ بھی معلومات نہیں رکھتے۔
(2)
واضح رہے کہ اس طرح کی بدگمانی اس زمرے میں نہیں آتی جو گناہ اور خلاف شریعت ہے کیونکہ بعض اوقات ہمیں کسی سے اچھا فعل معلوم نہیں ہوتا تو اس کے متعلق بدگمانی سی پیدا ہو جاتی ہے، مثلاً:
کوئی عشاء اور صبح کی نماز میں حاضر نہیں ہوتا تو اس کے متعلق ہم بدگمانی کر لیتے ہیں کہ وہ بیمار ہے یا اپنے دین میں کمزور ہے۔
(فتح الباري: 596/10)
اس بدگمانی کی بنیاد وہ مشہور حدیث بھی ہوسکتی ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا:
عشاء اور صبح کی نماز منافقین پر بہت بھاری ہوتی ہے۔
(صحیح البخاري، الأذان، حدیث: 657)
[هداية القاري شرح صحيح بخاري، اردو، حدیث/صفحہ نمبر: 6068]