🏠 👥 🔍 🧩 🅰️ 📌 ↩️

مشكوة المصابيح سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
حدیث کتب میں نمبر سے حدیث تلاش کریں:

مشکوۃ المصابیح میں ترقیم شاملہ سے تلاش کل احادیث (6294)
حدیث نمبر لکھیں:
حدیث میں اردو لفظ/الفاظ تلاش کریں
اردو لفظ / الفاظ لکھیں:
حدیث میں اردو لفظ/الفاظ تلاش کریں
اردو لفظ / الفاظ لکھیں:

--. (ثَلَاثَةُ مَوَاقِفَ... لَا يَذْكُرُ أَحَدٌ أَحَدًا)
تین مقام۔۔۔ جب کوئی کسی کو یاد نہ کرے گا
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 5560
5560 - عَنْ عَائِشَةَ - رَضِيَ اللَّهُ تَعَالَى عَنْهَا - أَنَّهَا ذَكَرَتِ النَّارَ فَبَكَتْ ; فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: مَا يُبْكِيكِ؟ قَالَتْ: ذَكَرْتُ النَّارَ فَبَكَيْتُ، فَهَلْ تَذْكُرُونَ أَهْلِيكُمْ يَوْمَ الْقِيَامَةِ؟ فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: (أَمَّا فِي ثَلَاثَةِ مَوَاطِنَ فَلَا يَذْكُرُ أَحَدٌ أَحَدًا  : عِنْدَ الْمِيزَانِ حَتَّى يَعْلَمَ: أَيَخِفُّ مِيزَانُهُ أَمْ يَثْقُلُ؟ وَعِنْدَ الْكِتَابِ حِينَ يُقَالُ: (هَاؤُمُ اقْرَءُوا كِتَابِيَهْ) حَتَّى يَعْلَمَ أَيْنَ يَقَعُ كِتَابُهُ، أَفِي يَمِينِهِ أَمْ فِي شِمَالِهِ؟ وَأَمْ مِنْ وَرَاءِ ظَهْرِهِ؟ وَعِنْدَ الصِّرَاطِ: إِذَا وُضِعَ بَيْنَ ظَهْرَيْ جَهَنَّمَ) . رَوَاهُ أَبُو دَاوُدَ.
عائشہ رضی اللہ عنہا سے روایت ہے کہ انہوں نے جہنم کی آگ کو یاد کیا تو وہ رو پڑیں، رسول اللہ صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: ”تمہیں کون سی چیز رلا رہی ہے؟“ انہوں نے عرض کیا: میں نے جہنم کی آگ کو یاد کیا تو میں رو پڑی، تو کیا روزِ قیامت آپ اپنے اہل خانہ کو یاد رکھیں گے؟ رسول اللہ صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: ”سن لو! تین مقامات ہیں جہاں کوئی کسی کو یاد نہیں کرے گا: میزان کے موقع پر حتی کہ وہ جان لے کہ آیا اس کی میزان ہلکی پڑتی ہے یا وہ بھاری ہوتی ہے؛ نامۂ اعمال کے وقت، جب کہا جائے گا: ﴿هَاؤُمُ اقْرَءُوا كِتَابِيَهْ﴾ [سورة الحاقة: 19] ”آؤ اپنا نامہ اعمال پڑھو“، حتی کہ وہ جان لے کہ اس کا نامۂ اعمال کہاں دیا جاتا ہے، اس کے دائیں ہاتھ میں یا اس کی پشت کے پیچھے سے اس کے بائیں ہاتھ میں ملتا ہے؛ اور پل صراط کے موقع پر جب اسے جہنم پر رکھا جائے گا۔“ اسنادہ ضعیف، رواہ ابوداؤد۔ [مشكوة المصابيح/كتاب أحوال القيامة وبدء الخلق/حدیث: 5560]
تخریج الحدیث: ´تحقيق و تخريج: محدث العصر حافظ زبير على زئي رحمه الله` «إسناده ضعيف، رواه أبو داود (4755)
٭ الحسن البصري مدلس و عنعن .»
قال الشيخ الألباني: ضَعِيف
قال الشيخ زبير على زئي:إسناده ضعيف

مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں