🏠 👥 🔍 🧩 🅰️ 📌 ↩️

مشكوة المصابيح سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
حدیث کتب میں نمبر سے حدیث تلاش کریں:

مشکوۃ المصابیح میں ترقیم شاملہ سے تلاش کل احادیث (6294)
حدیث نمبر لکھیں:
حدیث میں اردو لفظ/الفاظ تلاش کریں
اردو لفظ / الفاظ لکھیں:
حدیث میں اردو لفظ/الفاظ تلاش کریں
اردو لفظ / الفاظ لکھیں:

--. (وَرَقَةٌ تَصْبِحُ أَثْقَلَ مِنْ دَفَاتِرِ الذُّنُوبِ)
کاغذ کا پرزہ گناہوں کے رجسٹروں سے وزنی ہو جائے گا
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 5559
5559 - وَعَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عَمْرٍو - رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُمَا - قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ:"إِنَّ اللَّهَ سَيُخَلِّصُ رَجُلًا مِنْ أُمَّتِي عَلَى رُءُوسِ الْخَلَائِقِ يَوْمَ الْقِيَامَةِ، فَيَنْشُرُ عَلَيْهِ تِسْعَةً وَتِسْعِينَ سِجِلًّا، كُلُّ سِجِلٍّ مِثْلَ مَدِّ الْبَصَرِ، ثُمَّ يَقُولُ أَتُنْكِرُ مِنْ هَذَا شَيْئًا  ؟ أَظَلَمَكَ كَتَبَتِي الْحَافِظُونَ؟ فَيَقُولُ: لَا يَا رَبِّ! فَيَقُولُ: أَفَلَكَ عُذْرٌ؟ قَالَ: لَا يَا رَبِّ! فَيَقُولُ: بَلَى ; إِنَّ لَكَ عِنْدَنَا حَسَنَةً، وَإِنَّهُ لَا ظُلْمَ عَلَيْكَ الْيَوْمَ، فَتُخْرَجُ بِطَاقَةٌ فِيهَا: أَشْهَدُ أَنْ لَا إِلَهَ إِلَّا اللَّهُ، وَأَنَّ مُحَمَّدًا عَبْدُهُ وَرَسُولُهُ، فَيَقُولُ: احْضُرْ وَزْنَكَ، فَيَقُولُ: يَا رَبِّ! مَا هَذِهِ الْبِطَاقَةُ مَعَ هَذِهِ السِّجِلَّاتِ؟ فَيَقُولُ: إِنَّكَ لَا تُظْلَمُ، قَالَ: فَتُوضَعُ السِّجِلَّاتُ فِي كِفَّةٍ، وَالْبِطَاقَةُ فِي كِفَّةٍ، فَطَاشَتِ السِّجِلَّاتُ وَثَقُلَتِ الْبِطَاقَةُ ; فَلَا يَثْقُلُ مَعَ اسْمِ اللَّهِ شَيْءٌ. رَوَاهُ التِّرْمِذِيُّ، وَابْنُ مَاجَهْ.
عبداللہ بن عمرو رضی اللہ عنہما بیان کرتے ہیں، رسول اللہ صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: ”روزِ قیامت اللہ میری امت کے ایک آدمی کو ساری مخلوق کے سامنے لائے گا اور اس کے ننانوے رجسٹر کھولے گا، اور ہر رجسٹر کی لمبائی حدِ نظر تک ہوگی، پھر اللہ تعالیٰ فرمائے گا: کیا تم ان میں سے کسی چیز کا انکار کرتے ہو (کہ تم نے نہ کی ہو)؟ یا میرے لکھنے والوں نے، حفاظت کرنے والوں نے تم پر کوئی ظلم کیا ہو؟ وہ عرض کرے گا: اے میرے رب! نہیں، اللہ فرمائے گا: کیا تیرے پاس کوئی عذر ہے؟ وہ عرض کرے گا: اے میرے رب! نہیں، اللہ فرمائے گا: ہاں! ہمارے پاس تیری ایک نیکی ہے، کیونکہ آج تم پر کوئی ظلم نہیں ہوگا، ایک کارڈ نکالا جائے گا، اس پر درج ہوگا: «أَشْهَدُ أَنْ لَا إِلٰهَ إِلَّا اللّٰهُ وَأَنَّ مُحَمَّدًا عَبْدُهُ وَرَسُولُهُ» ”میں گواہی دیتا ہوں کہ اللہ کے سوا کوئی معبودِ برحق نہیں، اور یہ کہ محمد صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم اس کے بندے اور اس کے رسول ہیں“، اللہ فرمائے گا: وزن پر حاضر ہو، وہ عرض کرے گا: اے میرے رب! ان رجسٹروں کے مقابلے میں اس کارڈ کی کیا حیثیت ہے؟ چنانچہ اللہ فرمائے گا: آج تم پر کوئی ظلم نہیں کیا جائے گا، فرمایا: ایک پلڑے میں وہ دفاتر رکھے جائیں گے اور دوسرے پلڑے میں وہ کارڈ رکھا جائے گا تو وہ دفاتر ہلکے پڑ جائیں گے اور وہ کارڈ بھاری ہوجائے گا، اللہ کے نام کے مقابلے میں کوئی چیز بھاری نہیں ہو سکتی۔“ [اسنادہ صحیح، رواہ الترمذی وابن ماجہ] ۔ [مشكوة المصابيح/كتاب أحوال القيامة وبدء الخلق/حدیث: 5559]
تخریج الحدیث: ´تحقيق و تخريج: محدث العصر حافظ زبير على زئي رحمه الله` «إسناده صحيح، رواه الترمذي (2639 وقال: حسن غريب) و ابن ماجه (4300)»
قال الشيخ الألباني: صَحِيح
قال الشيخ زبير على زئي:إسناده صحيح

مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں