مشكوة المصابيح سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
--. (الشَّفَاعَةُ النَّبَوِيَّةُ)
شفاعت نبوی
حدیث نمبر: 5572
5572 - وَعَنْ أَنَسٍ - رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ - أَنَّ النَّبِيَّ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - قَالَ:"يُحْبَسُ الْمُؤْمِنُونَ يَوْمَ الْقِيَامَةِ حَتَّى يُهَمُّوا بِذَلِكَ، فَيَقُولُونَ: لَوِ اسْتَشْفَعْنَا إِلَى رَبِّنَا فَيُرِيحَنَا مِنْ مَكَانِنَا! فَيَأْتُونَ آدَمَ فَيَقُولُونَ: أَنْتَ آدَمُ أَبُو النَّاسِ، خَلَقَكَ اللَّهُ بِيَدِهِ، وَأَسْكَنَكَ جَنَّتَهُ، وَأَسْجَدَ لَكَ مَلَائِكَتَهُ، وَعَلَّمَكَ أَسْمَاءَ كُلِّ شَيْءٍ، اشْفَعْ لَنَا عِنْدَ رَبِّكَ حَتَّى يُرِيحَنَا مِنْ مَكَانِنَا هَذَا. فَيَقُولُ: لَسْتُ هُنَاكُمْ - وَيَذْكُرُ خَطِيئَتَهُ الَّتِي أَصَابَ: أَكْلَهُ مِنَ الشَّجَرَةِ وَقَدْ نُهِيَ عَنْهَا - وَلَكِنِ ائْتُوا نُوحًا أَوَّلَ نَبِيٍّ بَعَثَهُ اللَّهُ إِلَى أَهْلِ الْأَرْضِ، فَيَأْتُونَ نُوحًا فَيَقُولُ: لَسْتُ هُنَاكُمْ - وَيَذْكُرُ خَطِيئَتَهُ الَّتِي أَصَابَ: سُؤَالَهُ رَبَّهُ بِغَيْرِ عِلْمٍ - وَلَكِنِ ائْتُوا إِبْرَاهِيمَ خَلِيلَ الرَّحْمَنِ. قَالَ: فَيَأْتُونَ إِبْرَاهِيمَ، فَيَقُولُ: إِنِّي لَسْتُ هُنَاكُمْ - وَيَذْكُرُ ثَلَاثَ كِذْبَاتٍ كَذَبَهُنَّ - وَلَكِنِ ائْتُوا مُوسَى عَبْدًا آتَاهُ اللَّهُ التَّوْرَاةَ، وَكَلَّمَهُ وَقَرَّبَهُ نَجِيًّا. قَالَ: فَيَأْتُونَ مُوسَى فَيَقُولُ: إِنِّي لَسْتُ هُنَاكُمْ - وَيَذْكُرُ خَطِيئَتَهُ الَّتِي أَصَابَ - قَتْلَهُ النَّفْسَ - وَلَكِنِ ائْتُوا عِيسَى عَبْدَ اللَّهِ وَرَسُولَهُ وَرُوحَ اللَّهِ وَكَلِمَتَهُ قَالَ: فَيَأْتُونَ عِيسَى فَيَقُولُ: لَسْتُ هُنَاكُمْ وَلَكِنِ ائْتُوا مُحَمَّدًا عَبْدًا غَفَرَ اللَّهُ لَهُ مَا تَقَدَّمَ مِنْ ذَنْبِهِ وَمَا تَأَخَّرَ، قَالَ: فَيَأْتُونِي فَأَسْتَأْذِنُ عَلَى رَبِّي فِي دَارِهِ، فَيُؤْذَنُ لِي عَلَيْهِ، فَإِذَا رَأَيْتُهُ وَقَعْتُ سَاجِدًا، فَيَدَعُنِي مَا شَاءَ اللَّهُ أَنْ يَدَعَنِي فَيَقُولُ: ارْفَعْ مُحَمَّدُ، وَقُلْ تُسْمَعْ، وَاشْفَعْ تُشَفَّعْ، وَسَلْ تُعْطَهْ ، قَالَ: فَأَرْفَعُ رَأْسِي فَأُثْنِي عَلَى رَبِّي بِثَنَاءٍ وَتَحْمِيدٍ يُعَلِّمُنِيهِ ثُمَّ أَشْفَعُ فَيَحُدُّ لِي حَدًّا، فَأَخْرُجُ، فَأُخْرِجُهُمْ مِنَ النَّارِ وَأُدْخِلُهُمُ الْجَنَّةَ، ثُمَّ أَعُودُ الثَّانِيَةَ فَأَسْتَأْذِنُ عَلَى رَبِّي فِي دَارِهِ. فَيُؤْذَنُ لِي عَلَيْهِ، فَإِذَا رَأَيْتُهُ وَقَعْتُ سَاجِدًا فَيَدَعُنِي مَا شَاءَ اللَّهُ أَنْ يَدَعَنِي، ثُمَّ يَقُولُ:"ارْفَعْ مُحَمَّدُ، وَقُلْ تُسْمَعْ، وَاشْفَعْ تُشَفَّعْ، وَسَلْ تُعْطَهْ". قَالَ: فَأَرْفَعُ رَأْسِي فَأُثْنِي عَلَى رَبِّي بِثَنَاءٍ وَتَحْمِيدٍ يُعَلِّمُنِيهِ، ثُمَّ أَشْفَعُ فَيَحُدُّ لِي حَدًّا، فَأَخْرُجُ، فَأُخْرِجُهُمْ مِنَ النَّارِ وَأُدْخِلُهُمُ الْجَنَّةَ، ثُمَّ أَعُودُ الثَّالِثَةَ، فَأَسْتَأْذِنُ عَلَى رَبِّي فِي دَارِهِ، فَيُؤْذَنُ لِي عَلَيْهِ، فَإِذَا رَأَيْتُهُ وَقَعْتُ سَاجِدًا، فَيَدَعُنِي مَا شَاءَ اللَّهُ أَنْ يَدَعَنِي، ثُمَّ يَقُولُ:"ارْفَعْ مُحَمَّدُ! وَقُلْ تُسْمَعْ، وَاشْفَعْ تُشَفَّعْ، وَسَلْ تُعْطَهْ"قَالَ: فَأَرْفَعُ رَأْسِي فَأُثْنِي عَلَى رَبِّي بِثَنَاءٍ وَتَحْمِيدٍ يُعَلِّمُنِيهِ، ثُمَّ أَشْفَعُ فَيَحُدُّ لِي حَدًّا، فَأَخْرُجُ، فَأُخْرِجُهُمْ مِنَ النَّارِ وَأُدْخِلُهُمُ الْجَنَّةَ، حَتَّى مَا يَبْقَى فِي النَّارِ إِلَّا مَنْ قَدْ حَبَسَهُ الْقُرْآنُ، أَيْ: وَجَبَ عَلَيْهِ الْخُلُودُ، ثُمَّ تَلَا هَذِهِ الْآيَةَ: عَسَى أَنْ يَبْعَثَكَ رَبُّكَ مَقَامًا مَحْمُودًا قَالَ:"وَهَذَا الْمَقَامُ الْمَحْمُودُ الَّذِي وُعِدَهُ نَبِيَّكُمْ". مُتَّفَقٌ عَلَيْهِ.
انس رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: ”مومنوں کو روزِ قیامت روک رکھا جائے گا حتی کہ اس وجہ سے وہ غمگین ہو جائیں گے، وہ کہیں گے: کاش کہ ہم اپنے رب کے حضور کوئی سفارشی تلاش کریں تاکہ وہ ہمیں ہماری اس جگہ سے نجات دے دے، وہ آدم علیہ السلام کے پاس آئیں گے اور کہیں گے: آپ آدم، تمام انسانوں کے باپ ہیں، اللہ تعالیٰ نے آپ کو اپنے ہاتھ سے تخلیق فرمایا، آپ کو جنت میں بسایا، اپنے فرشتوں سے آپ کو سجدہ کرایا اور آپ کو تمام چیزوں کے نام سکھائے، اپنے رب کے حضور ہماری سفارش کریں تاکہ وہ ہمیں ہماری اس جگہ سے نجات دے دے، وہ کہیں گے: میں وہاں تمہاری سفارش نہیں کر سکتا، وہ اپنی اس خطا کو یاد کریں گے جس کا ارتکاب اس درخت کے کھانے سے ہوا تھا حالانکہ انہیں اس سے منع کیا گیا تھا، بلکہ تم نوح علیہ السلام کے پاس جاؤ، وہ پہلے نبی ہیں جنہیں اللہ تعالیٰ نے اہل زمین کی طرف مبعوث فرمایا تھا، وہ نوح علیہ السلام کی خدمت میں حاضر ہوں گے تو وہ بھی یہی کہیں گے: میں وہاں تمہاری سفارش نہیں کر سکتا، اور وہ اپنی اس خطا کو یاد کریں گے جو ان سے لاعلمی میں اپنے رب سے سوال کرنے سے سرزد ہوئی تھی، بلکہ تم رحمن کے خلیل ابراہیم علیہ السلام کے پاس جاؤ۔“ فرمایا: ”وہ ابراہیم علیہ السلام کے پاس جائیں گے، تو وہ بھی یہی کہیں گے: میں وہاں تمہاری سفارش نہیں کر سکتا، اور وہ اپنے تین جھوٹوں کو یاد کریں گے جو انہوں نے بولے تھے، بلکہ تم موسیٰ علیہ السلام کے پاس جاؤ جو اللہ کے ایسے بندے ہیں جنہیں اللہ تعالیٰ نے تورات عطا کی، ان سے کلام فرمایا اور سرگوشی کے لیے انہیں قریب کیا۔“ فرمایا: ”وہ موسیٰ علیہ السلام کے پاس جائیں گے تو وہ بھی کہیں گے میں وہاں تمہاری سفارش نہیں کر سکتا، اور وہ اپنی اس غلطی کا تذکرہ کریں گے کہ انہوں نے اس (قبطی) آدمی کو قتل کیا تھا، بلکہ تم اللہ کے بندے عیسیٰ علیہ السلام کے پاس جاؤ جو کہ اس کے رسول ہیں، اللہ کی روح اور اس کا کلمہ ہیں۔“ فرمایا: ”وہ عیسیٰ علیہ السلام کے پاس جائیں گے تو وہ بھی یہی کہیں گے، میں وہاں تمہاری سفارش نہیں کر سکتا، بلکہ تم اللہ کے بندے محمد صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے پاس جاؤ، اللہ نے جن کے اگلے پچھلے تمام گناہ معاف کر دیے ہیں۔“ فرمایا: ”چنانچہ وہ میرے پاس آئیں گے میں اپنے رب سے، اس کے حضور آنے کی، اجازت طلب کروں گا تو مجھے اجازت دے دی جائے گی، جب میں اللہ تعالیٰ کو دیکھوں گا تو سجدہ ریز ہو جاؤں گا، پھر جتنی دیر اللہ چاہے گا وہ مجھے اسی حالت میں رہنے دے گا، پھر فرمائے گا: اے محمد! اٹھو، بات کرو، تمہاری بات سنی جائے گی، سفارش کرو، تمہاری سفارش قبول کی جائے گی، آپ سوال کریں، آپ کو عطا کیا جائے گا۔“ فرمایا: ”چنانچہ میں اپنا سر اٹھاؤں گا تو میں اپنے رب کی وہ حمد و ثنا بیان کروں گا، جو وہ مجھے سکھائے گا، پھر میں سفارش کروں گا تو میرے لیے تعداد کا تعین کر دیا جائے گا، میں (دربارِ الٰہی سے) باہر آؤں گا اور میں انہیں جہنم کی آگ سے نکال کر جنت میں داخل کر دوں گا، پھر میں دوسری مرتبہ جاؤں گا، اور اپنے رب کے حضور پیش ہونے کی اجازت طلب کروں گا، مجھے اس کے پاس جانے کی اجازت مل جائے گی، جب میں اسے دیکھوں گا تو سجدہ ریز ہو جاؤں گا، جس قدر اللہ چاہے گا وہ مجھے اسی حالت میں رہنے دے گا، پھر فرمائے گا: اے محمد صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم سر اٹھاؤ، بات کرو، تمہیں سنا جائے گا، سفارش کرو تمہاری سفارش قبول کی جائے گی، سوال کرو آپ کو عطا کیا جائے گا۔“ فرمایا: ”میں اپنا سر اٹھاؤں گا، میں اپنے رب کی حمد و ثنا بیان کروں گا جو وہ مجھے سکھائے گا، پھر میں سفارش کروں گا تو میرے لیے حد متعین کر دی جائے گی، میں (بارگاہِ رب العزت سے) باہر آؤں گا تو میں انہیں جہنم سے نکال کر جنت میں داخل کر دوں گا، پھر میں تیسری مرتبہ جاؤں گا، اپنے رب کے پاس جانے کی اجازت طلب کروں گا تو مجھے اس کے پاس جانے کی اجازت مل جائے گی، جب میں اسے دیکھوں گا تو سجدے میں گر جاؤں گا، اللہ جب تک چاہے گا مجھے اسی حالت میں چھوڑ دے گا پھر فرمائے گا: اے محمد! سر اٹھائیں، بات کریں، تمہیں سنا جائے گا، سفارش کریں تمہاری سفارش قبول کی جائے گی، اور سوال کریں آپ کو عطا کیا جائے گا۔“ فرمایا: ”میں اپنا سر اٹھاؤں گا اور اپنے رب کی حمد و ثنا بیان کروں گا جو وہ مجھے سکھائے گا، پھر میں سفارش کروں گا تو میرے لیے حد کا تعین کر دیا جائے گا، میں (بارگاہِ رب العزت سے) باہر آؤں گا، انہیں میں آگ سے نکال کر جنت میں داخل کروں گا، حتی کہ جہنم میں صرف وہی رہ جائے گا جسے قرآن نے روک رکھا ہو گا۔“ یعنی جس پر دائمی جہنمی ہونا واجب ہو چکا ہو، پھر آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے یہ آیت تلاوت فرمائی: ﴿عَسَىٰ أَن يَبْعَثَكَ رَبُّكَ مَقَامًا مَّحْمُودًا﴾ [سورة الإسراء: 79] ”قریب ہے کہ آپ کا رب آپ کو مقامِ محمود پر مبعوث فرمائے۔“ فرمایا: ”اور یہ وہ مقامِ محمود ہے جس کا اس نے تمہارے نبی سے وعدہ فرمایا ہے۔“ [مشكوة المصابيح/كتاب أحوال القيامة وبدء الخلق/حدیث: 5572]
تخریج الحدیث: ´تحقيق و تخريج: محدث العصر حافظ زبير على زئي رحمه الله` «متفق عليه، رواه البخاري (6565) ومسلم (322 / 193)»
قال الشيخ الألباني: مُتَّفَقٌ عَلَيْهِ
قال الشيخ زبير على زئي:متفق عليه