🏠 👥 🔍 🧩 🅰️ 📌 ↩️

مشكوة المصابيح سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
حدیث کتب میں نمبر سے حدیث تلاش کریں:

مشکوۃ المصابیح میں ترقیم شاملہ سے تلاش کل احادیث (6294)
حدیث نمبر لکھیں:
حدیث میں اردو لفظ/الفاظ تلاش کریں
اردو لفظ / الفاظ لکھیں:
حدیث میں اردو لفظ/الفاظ تلاش کریں
اردو لفظ / الفاظ لکھیں:

--. (ذَهَابُ النَّاسِ إِلَى الأَنْبِيَاءِ لِبَدْءِ الحِسَابِ يَوْمَ القِيَامَةِ)
قیامت کے دن ابتدائے حساب و کتاب کے لیے لوگوں کا انبیاء کے پاس جانا
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 5573
5573 - وَعَنْهُ، قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ:"إِذَا كَانَ يَوْمُ الْقِيَامَةِ مَاجَ النَّاسُ بَعْضُهُمْ فِي بَعْضٍ، فَيَأْتُونَ آدَمَ فَيَقُولُونَ: اشْفَعْ إِلَى رَبِّكَ  . فَيَقُولُ: لَسْتُ لَهَا وَلَكِنْ عَلَيْكُمْ بِإِبْرَاهِيمَ فَإِنَّهُ خَلِيلُ الرَّحْمَنِ، فَيَأْتُونَ إِبْرَاهِيمَ، فَيَقُولُ: لَسْتُ لَهَا، وَلَكِنْ عَلَيْكُمْ بِمُوسَى فَإِنَّهُ كَلِيمُ اللَّهِ، فَيَأْتُونَ مُوسَى - عَلَيْهِ السَّلَامُ - فَيَقُولُ: لَسْتُ لَهَا، وَلَكِنْ عَلَيْكُمْ بِعِيسَى فَإِنَّهُ رُوحُ اللَّهِ وَكَلِمَتُهُ، فَيَأْتُونَ عِيسَى، فَيَقُولُ: لَسْتُ لَهَا، وَلَكِنْ عَلَيْكُمْ بِمُحَمَّدٍ، فَيَأْتُونِّي فَأَقُولُ: أَنَا لَهَا فَأَسْتَأْذِنُ عَلَى رَبِّي، فَيُؤْذَنُ لِي، وَيُلْهِمُنِي مَحَامِدَ أَحْمَدُهُ بِهَا لَا تَحْضُرُنِي الْآنَ، فَأَحْمَدُهُ بِتِلْكَ الْمَحَامِدِ، وَأَخِرُّ لَهُ سَاجِدًا، فَيُقَالُ يَا مُحَمَّدُ! ارْفَعْ رَأْسَكَ، وَقُلْ تُسْمَعْ، وَسَلْ تُعْطَهْ، وَاشْفَعْ تُشَفَّعْ، فَأَقُولُ يَا رَبِّ! أُمَّتِي أُمَّتِي. فَيُقَالُ: انْطَلِقْ، فَأَخْرِجْ مَنْ كَانَ فِي قَلْبِهِ مِثْقَالَ شَعِيرَةٍ مِنْ إِيمَانٍ، فَأَنْطَلِقُ فَأَفْعَلُ، ثُمَّ أَعُودُ فَأَحْمَدُهُ بِتِلْكَ الْمَحَامِدِ، ثُمَّ أَخِرُّ لَهُ سَاجِدًا، فَيُقَالُ: يَا مُحَمَّدُ! ارْفَعْ رَأْسَكَ، وَقُلْ تُسْمَعْ، وَسَلْ تُعْطَهْ، وَاشْفَعْ تُشَفَّعْ، فَأَقُولُ: يَا رَبِّ! أُمَّتِي أُمَّتِي. فَيُقَالُ: انْطَلِقْ فَأَخْرِجْ مَنْ كَانَ فِي قَلْبِهِ مِثْقَالُ ذَرَّةٍ أَوْ خَرْدَلَةٍ مِنْ إِيمَانٍ، فَأَنْطَلِقُ فَأَفْعَلُ، ثُمَّ أَعُودُ فَأَحْمَدُهُ بِتِلْكَ الْمَحَامِدِ، ثُمَّ أَخِرُّ لَهُ سَاجِدًا، فَيُقَالُ: يَا مُحَمَّدُ! ارْفَعْ رَأْسَكَ، وَقُلْ تُسْمَعْ، وَسَلْ تُعْطَهْ، وَاشْفَعْ تُشَفَّعْ، فَأَقُولُ: يَا رَبِّ! أُمَّتِي أُمَّتِي، فَيُقَالُ: انْطَلِقْ فَأَخْرِجْ مَنْ كَانَ فِي قَلْبِهِ أَدْنَى أَدْنَى أَدْنَى مِثْقَالِ حَبَّةِ خَرْدَلَةٍ مِنْ إِيمَانٍ، فَأَخْرِجْهُ مِنَ النَّارِ، فَأَنْطَلِقُ فَأَفْعَلُ، ثُمَّ أَعُودُ الرَّابِعَةَ فَأَحْمَدُهُ بِتِلْكَ الْمَحَامِدِ، ثُمَّ أَخِرُّ لَهُ سَاجِدًا، فَيُقَالُ: يَا مُحَمَّدُ! ارْفَعْ رَأْسَكَ، وَقُلْ تُسْمَعْ، وَسَلْ تُعْطَهْ، وَاشْفَعْ تُشَفَّعْ  ، فَأَقُولُ: يَا رَبِّ! ائْذَنْ لِي فِيمَنْ قَالَ: لَا إِلَهَ إِلَّا اللَّهُ. قَالَ: لَيْسَ ذَلِكَ لَكَ، وَلَكِنْ وَعِزَّتِي وَجَلَالِي وَكِبْرِيَائِي وَعَظَمَتِي لَأُخْرِجَنَّ مِنْهَا مَنْ قَالَ: لَا إِلَهَ إِلَّا اللَّهُ. مُتَّفَقٌ عَلَيْهِ.
انس رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں، رسول اللہ صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: ”جب قیامت کا دن ہو گا تو لوگ اضطراب کا شکار ہوں گے، وہ مل کر آدم علیہ السلام کے پاس آئیں گے اور کہیں گے: اپنے رب سے سفارش کرو، وہ کہیں گے: میں اس کا اہل نہیں ہوں، لیکن تم ابراہیم علیہ السلام کے پاس جاؤ کیونکہ وہ اللہ کے خلیل ہیں، وہ ابراہیم علیہ السلام کے پاس جائیں گے، وہ بھی کہیں گے: میں اس کا اہل نہیں ہوں، لیکن تم موسیٰ علیہ السلام کے پاس جاؤ کیونکہ وہ کلیم اللہ ہیں، وہ موسیٰ علیہ السلام کے پاس آئیں گے، وہ بھی یہی کہیں گے: میں اس کا اہل نہیں ہوں، لیکن تم عیسیٰ علیہ السلام کے پاس جاؤ، کیونکہ وہ اللہ کی روح اور اس کا کلمہ ہیں، وہ عیسیٰ علیہ السلام کے پاس آئیں گے، وہ کہیں گے: میں اس کے اہل نہیں ہوں، لیکن تم محمد صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کے پاس جاؤ، چنانچہ وہ میرے پاس آئیں گے تو میں کہوں گا: میں اس کے لیے تیار ہوں، میں اپنے رب سے اجازت طلب کروں گا تو مجھے اجازت دے دی جائے گی، وہ مجھے حمد کے الفاظ الہام فرمائے گا تو میں ان (کلمات و الفاظ) کے ذریعے اس کی حمد بیان کروں گا، ان کلمات کا اس وقت مجھے علم نہیں، میں ان حمدیہ الفاظ کے ساتھ اس کی حمد بیان کروں گا اور اس کے سامنے سجدہ ریز ہو جاؤں گا، مجھے کہا جائے گا: اے محمد! اپنا سر اٹھائیں، بات کریں، سنی جائے گی، سوال کریں آپ کو عطا کیا جائے گا اور سفارش کریں آپ کی سفارش قبول کی جائے گی، میں کہوں گا: اے میرے رب! میری امت، میری امت! چنانچہ کہا جائے گا: جاؤ اور جس کے دل میں جو کے دانے کے برابر ایمان ہے اسے (دوزخ سے) نکال لو، میں جاؤں گا اور ایسے ہی کروں گا، پھر میں دوبارہ (رب کے حضور) جاؤں گا اور انہی حمدیہ کلمات کے ذریعے اس کی حمد بیان کروں گا، پھر اس کے حضور سجدہ ریز ہو جاؤں گا تو کہا جائے گا: محمد! اپنا سر اٹھاؤ، بات کرو، سنی جائے گی، سوال کرو اسے پورا کیا جائے گا اور سفارش قبول کی جائے گی، میں کہوں گا: اے میرے رب! میری امت، میری امت! کہا جائے گا: جاؤ! جس کے دل میں ذرہ یا رائی کے دانے کے برابر بھی ایمان ہے اسے (جہنم سے) نکال لو، میں جاؤں گا اور ایسے ہی کروں گا، پھر میں (تیسری مرتبہ) لوٹوں گا، اور ان حمدیہ کلمات کے ذریعے اس کی حمد بیان کروں گا، پھر اس کے حضور سجدہ ریز ہو جاؤں گا، تو کہا جائے گا: محمد! اپنا سر اٹھائیں، بات کریں، سنی جائے گی، سوال کریں اسے پورا کیا جائے گا اور سفارش کریں اسے قبول کیا جائے گا، میں کہوں گا: اے میرے رب! میری امت، میری امت! کہا جائے گا: جاؤ اور جس کے دل میں رائی کے دانے سے بھی ادنیٰ ترین ایمان ہے اسے بھی جہنم کی آگ سے نکال لو، میں جاؤں گا اور ایسے ہی کروں گا، پھر میں چوتھی مرتبہ لوٹوں گا، اور ان حمدیہ کلمات کے ذریعے اس کی حمد بیان کروں گا، پھر اس کے حضور سجدہ ریز ہو جاؤں گا تو کہا جائے گا: محمد! اپنا سر اٹھائیں، بات کریں، سنی جائے گی، مانگیں عطا کیا جائے گا، اور سفارش کریں تمہاری سفارش قبول کی جائے گی، میں کہوں گا: اے میرے رب! مجھے اس شخص کے بارے میں اجازت دے دیں کہ جس نے «لَا إِلٰهَ إِلَّا اللّٰهُ» ”اللہ کے سوا کوئی معبودِ برحق نہیں“ کہا ہو اور میں اسے جہنم سے نکال لاؤں، اللہ تعالیٰ فرمائے گا: اس کا آپ کو حق حاصل نہیں، لیکن میری عزت، میرے جلال، میری کبریائی اور میری عظمت کی قسم! جس شخص نے «لَا إِلٰهَ إِلَّا اللّٰهُ» ”اللہ کے سوا کوئی معبودِ برحق نہیں“ کہا ہو گا میں اسے اس (جہنم) سے ضرور نکالوں گا۔“ متفق علیہ۔ [مشكوة المصابيح/كتاب أحوال القيامة وبدء الخلق/حدیث: 5573]
تخریج الحدیث: ´تحقيق و تخريج: محدث العصر حافظ زبير على زئي رحمه الله` «متفق عليه، رواه البخاري (7510) ومسلم (326/ 193)»
قال الشيخ الألباني: مُتَّفَقٌ عَلَيْهِ
قال الشيخ زبير على زئي:متفق عليه

مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں