مشكوة المصابيح سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
--. (خَيْمَةٌ فِي الجَنَّةِ مِنْ لُؤْلُؤٍ مَنْحُوتٍ)
جنت کا ایک خیمہ جو تراشے ہوئے موتی کا ہو گا
حدیث نمبر: 5616
5616 - وَعَنْ أَبِي مُوسَى - رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ - قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ:"إِنَّ لِلْمُؤْمِنِ فِي الْجَنَّةِ لَخَيْمَةً مِنْ لُؤْلُؤَةٍ وَاحِدَةٍ مُجَوَّفَةٍ ، عَرْضُهَا - وَفِي رِوَايَةٍ طُولُهَا - سِتُّونَ مِيلًا، فِي كُلِّ زَاوِيَةٍ مِنْهَا أَهْلٌ مَا يَرَوْنَ الْآخَرِينَ، يَطُوفُ عَلَيْهِمُ الْمُؤْمِنُ، وَجَنَّتَانِ مِنْ فِضَّةٍ آنِيَتُهُمَا وَمَا فِيهِمَا، وَجَنَّتَانِ مِنْ ذَهَبٍ، آنِيَتُهُمَا وَمَا فِيهِمَا، وَمَا بَيْنَ الْقَوْمِ وَبَيْنَ أَنْ يَنْظُرُوا إِلَى رَبِّهِمْ إِلَّا رِدَاءُ الْكِبْرِيَاءِ فِي جَنَّةِ عَدْنٍ". مُتَّفَقٌ عَلَيْهِ.
ابوموسی رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں، رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: ”مومن کے لیے جنت میں ایک خول دار موتی کا خیمہ ہو گا جس کا عرض۔ “ اور ایک روایت میں ہے ”اس کا طول ساٹھ میل ہو گا، اس کے ہر کونے میں اس کے اہل خانہ ہوں گے، وہ دوسروں کو نہیں دیکھیں گے، مومن ان سب کے پاس جائے گا، اور (اس کے لیے) دو باغ ہیں، ان کے برتن اور جو کچھ ان دونوں میں ہے وہ سب چاندی کا ہے، اور دو باغ ہیں، ان دونوں کے برتن اور ان کے درمیان جو کچھ ہے وہ سب سونے کا ہے، اہل جنت اور ان کے رب کے مابین صرف کبریائی کی چادر ہے جو کہ سدا بہار جنت میں اس کے چہرے پر ہے۔ “ متفق علیہ۔ [مشكوة المصابيح/كتاب أحوال القيامة وبدء الخلق/حدیث: 5616]
تخریج الحدیث: ´تحقيق و تخريج: محدث العصر حافظ زبير على زئي رحمه الله` «متفق عليه، رواه البخاري (3243) و مسلم (23/ 2838)»
قال الشيخ زبير على زئي:متفق عليه