مشكوة المصابيح سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
--. (أَحْوَالُ الجَنَّةِ)
جنت کے احوال
حدیث نمبر: 5617
5617 - وَعَنْ عُبَادَةَ بْنِ الصَّامِتِ - رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ - قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ:"فِي الْجَنَّةِ مِائَةُ دَرَجَةٍ، مَا بَيْنَ كُلِّ دَرَجَتَيْنِ كَمَا بَيْنَ السَّمَاءِ وَالْأَرْضِ ، وَالْفِرْدَوْسُ أَعْلَاهَا دَرَجَةً، مِنْهَا تُفَجَّرُ أَنْهَارُ الْجَنَّةِ الْأَرْبَعَةُ، وَمِنْ فَوْقِهَا يَكُونُ الْعَرْشُ، فَإِذَا سَأَلْتُمُ اللَّهَ فَاسْأَلُوهُ الْفِرْدَوْسَ"رَوَاهُ التِّرْمِذِيُّ. وَلَمْ أَجِدْهُ فِي (الصَّحِيحَيْنِ) وَلَا فِي (كِتَابِ الْحُمَيْدِيِّ) .
عبادہ بن صامت رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں، رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: ”جنت میں سو درجے ہیں، اور ہر دو درجوں کے درمیان اس قدر فاصلہ ہے جس قدر آسمان اور زمین کے درمیان ہے، اور فردوس سب سے اعلیٰ درجے کی جنت ہے، جنت کی چاروں نہریں وہیں سے جاری ہوتی ہیں اور اسی کے اوپر عرش ہے، جب تم اللہ سے سوال کرو تو اس سے فردوس کا سوال کرو۔ (جو ��ہ جنت کا اعلیٰ مقام ہے)۔ “ ترمذی۔ میں نے اسے نہ تو صحیحین میں پایا ہے اور نہ کتاب الحمیدی میں۔ اسنادہ صحیح، رواہ الترمذی۔ [مشكوة المصابيح/كتاب أحوال القيامة وبدء الخلق/حدیث: 5617]
تخریج الحدیث: ´تحقيق و تخريج: محدث العصر حافظ زبير على زئي رحمه الله` «إسناده صحيح، رواه الترمذي (2531)»
قال الشيخ زبير على زئي:إسناده صحيح