🏠 👥 🔍 🧩 🅰️ 📌 ↩️

مشكوة المصابيح سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
حدیث کتب میں نمبر سے حدیث تلاش کریں:

مشکوۃ المصابیح میں ترقیم شاملہ سے تلاش کل احادیث (6294)
حدیث نمبر لکھیں:
حدیث میں اردو لفظ/الفاظ تلاش کریں
اردو لفظ / الفاظ لکھیں:
حدیث میں اردو لفظ/الفاظ تلاش کریں
اردو لفظ / الفاظ لکھیں:

--. (كَانَ ذَلِكَ جِبْرِيلَ، لَيْسَ اللَّهَ رَبَّ العِزَّةِ)
وہ تو جبرائیل تھے، اللہ رب العزت تو نہیں تھے
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 5661
5661 - وَعَنِ الشَّعْبِيِّ، قَالَ: لَقِيَ ابْنُ عَبَّاسٍ - رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُمَا - كَعْبًا بِعَرَفَةَ، فَسَأَلَهُ عَنْ شَيْءٍ، فَكَبَّرَ حَتَّى جَاوَبَتْهُ الْجِبَالُ. فَقَالَ ابْنُ عَبَّاسٍ: إِنَّا بَنُو هَاشِمٍ فَقَالَ كَعْبٌ: إِنَّ اللَّهَ قَسَّمَ رُؤْيَتَهُ وَكَلَامَهُ بَيْنَ مُحَمَّدٍ وَمُوسَى  ، فَكَلَّمَ مُوسَى مَرَّتَيْنِ، وَرَآهُ مُحَمَّدٌ مَرَّتَيْنِ قَالَ مَسْرُوقٌ: فَدَخَلْتُ عَلَى عَائِشَةَ، فَقُلْتُ: رَأَى مُحَمَّدٌ رَبَّهُ؟ فَقَالَتْ: لَقَدْ تَكَلَّمْتَ بِشَيْءٍ. قَفَّ لَهُ شَعَرِي، قُلْتُ: رُوَيْدًا، ثُمَّ قَرَأْتُ: لَقَدْ رَأَى مِنْ آيَاتِ رَبِّهِ الْكُبْرَى فَقَالَتْ: أَيْنَ تَذْهَبُ بِكَ؟ إِنَّمَا هُوَ جِبْرِيلُ. مَنْ أَخْبَرَكَ أَنَّ مُحَمَّدًا رَأَى رَبَّهُ أَوْ كَتَمَ شَيْئًا مِمَّا أُمِرَ بِهِ أَوْ يَعْلَمُ الْخَمْسَ الَّتِي قَالَ اللَّهُ تَعَالَى: إِنَّ اللَّهَ عِنْدَهُ عِلْمُ السَّاعَةِ وَيُنَزِّلُ الْغَيْثَ فَقَدْ أَعْظَمَ الْفِرْيَةَ، وَلَكِنَّهُ رَأَى جِبْرِيلَ، لَمْ يَرَهُ فِي صُورَتِهِ إِلَّا مَرَّتَيْنِ  : مَرَّةً عِنْدَ سِدْرَةِ الْمُنْتَهَى، وَمَرَّةً فِي أَجْيَادٍ لَهُ سِتُّمِائَةِ جَنَاحٍ قَدْ سَدَّ الْأُفُقَ. رَوَاهُ التِّرْمِذِيُّ. وَرَوَى الشَّيْخَانِ مَعَ زِيَادَةٍ وَاخْتِلَافٍ، وَفِي رِوَايَتِهِمَا: قَالَ: قُلْتُ: لِعَائِشَةَ: فَأَيْنَ قَوْلُهُ: ثُمَّ دَنَا فَتَدَلَّى فَكَانَ قَابَ قَوْسَيْنِ أَوْ أَدْنَى قَالَتْ: ذَاكَ جِبْرِيلُ عَلَيْهِ السَّلَامُ، كَانَ يَأْتِيهِ فِي صُورَةِ الرَّجُلِ، وَإِنَّهُ أَتَاهُ هَذِهِ الْمَرَّةَ فِي صُورَتِهِ الَّتِي هِيَ صُورَتُهُ، فَسَدَّ الْأُفُقَ.
امام شعبی رحمہ اللہ بیان کرتے ہیں کہ ابن عباس رضی اللہ عنہما، کعب رحمہ اللہ کو عرفات کے میدان میں ملے تو ابن عباس رضی اللہ عنہما نے ان سے کسی چیز کے متعلق مسئلہ دریافت کیا تو انہوں نے (زور سے) «اللَّهُ أَكْبَرُ» ”اللہ بہت بڑا ہے“ کہا حتیٰ کہ پہاڑوں نے انہیں جواب دیا، ابن عباس رضی اللہ عنہما نے فرمایا: ہم بنو ہاشم ہیں، کعب رحمہ اللہ نے فرمایا: اللہ تعالیٰ نے اپنی رؤیت اور اپنے کلام کو محمد صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم اور موسیٰ علیہ السلام کے درمیان تقسیم فرمایا ہے، موسیٰ علیہ السلام نے دو مرتبہ کلام کیا ہے جبکہ محمد صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے اسے دو مرتبہ دیکھا ہے۔ مسروق رحمہ اللہ بیان کرتے ہیں کہ میں عائشہ رضی اللہ عنہا کے پاس گیا تو میں نے پوچھا: ”کیا محمد صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے اپنے رب کو دیکھا ہے؟“ انہوں نے فرمایا: ”تم نے ایسی چیز کے متعلق بات کی ہے کہ میرے رونگٹے کھڑے ہو گئے ہیں“، میں نے عرض کیا: ذرا سکون فرمائیں، پھر میں نے یہ آیت تلاوت کی: ﴿لَقَدْ رَأَىٰ مِنْ آيَاتِ رَبِّهِ الْكُبْرَىٰ﴾ [سورة النجم: 18] ”اس (رسول صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم) نے اپنے رب کی بعض بڑی نشانیاں دیکھیں۔“ انہوں نے فرمایا: ”یہ (آیت) تمہیں کدھر لے جا رہی ہے؟ اس سے مراد تو جبریل علیہ السلام ہیں، جو شخص تمہیں یہ بتائے کہ محمد صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے اپنے رب کو دیکھا ہے؟ یا جس کے متعلق آپ صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کو (بیان کرنے کا) حکم دیا گیا تھا تو آپ صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے اس میں سے کوئی چیز چھپا لی؟ یا آپ صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم وہ پانچ چیزیں جانتے تھے جن کے متعلق اللہ تعالیٰ نے فرمایا: ﴿إِنَّ اللَّهَ عِنْدَهُ عِلْمُ السَّاعَةِ وَيُنَزِّلُ الْغَيْثَ﴾ [سورة لقمان: 34] ”بے شک قیامت کا علم اللہ ہی کے پاس ہے، اور وہی بارش برساتا ہے۔“ اور یہ (کہ محمد صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے اپنے رب کو دیکھا ہے) تو یہ بہت بڑا جھوٹ ہے، لیکن آپ صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے جبریل علیہ السلام کو دیکھا ہے اور آپ صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے انہیں ان کی اصل صورت میں صرف دو مرتبہ ہی دیکھا ہے، ایک مرتبہ سدرۃ المنتہیٰ کے پاس اور ایک مرتبہ اجیاد (مکہ کے نشیبی علاقے) کے پاس، ان کے چھ سو پر ہیں اور انہوں نے افق کو بھر دیا تھا۔“ امام بخاری رحمہ اللہ اور امام مسلم رحمہ اللہ نے کچھ اضافے اور کچھ اختلاف کے ساتھ روایت کیا ہے، ان کی روایت میں ہے، مسروق رحمہ اللہ نے کہا: میں نے عائشہ رضی اللہ عنہا سے عرض کیا: اللہ تعالیٰ کے اس فرمان: ﴿ثُمَّ دَنَا فَتَدَلَّىٰ * فَكَانَ قَابَ قَوْسَيْنِ أَوْ أَدْنَىٰ﴾ [سورة النجم: 8-9] ”پھر وہ قریب ہوا اور آگے بڑھا، تو کمان کا یا اس سے بھی کم فرق رہ گیا۔“ کا کیا معنی ہے؟ انہوں نے فرمایا: ”وہ (جبریل علیہ السلام) آدمی کی صورت میں آپ صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کے پاس آیا کرتے تھے، اور اس مرتبہ وہ اپنی اس صورت میں آئے تھے جو کہ ان کی اصل صورت ہے، تو افق بھر گیا۔“ اسنادہ ضعیف، رواہ الترمذی واصل الحدیث عند البخاری ومسلم۔ [مشكوة المصابيح/كتاب أحوال القيامة وبدء الخلق/حدیث: 5661]
تخریج الحدیث: ´تحقيق و تخريج: محدث العصر حافظ زبير على زئي رحمه الله` «إسناده ضعيف، رواه الترمذي (3278)
٭ فيه مجالد بن سعيد: ضعيف و أصل الحديث عند البخاري [4855] و مسلم [177] بغير ھذا اللفظ) والرواية الثانية صحيحة متفق عليھا (رواھا البخاري: 3235 و مسلم: 290/ 177)»
قال الشيخ الألباني: صَحِيح
قال الشيخ زبير على زئي:إسناده ضعيف

مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں