🏠 👥 🔍 🧩 🅰️ 📌 ↩️

مشكوة المصابيح سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
حدیث کتب میں نمبر سے حدیث تلاش کریں:

مشکوۃ المصابیح میں ترقیم شاملہ سے تلاش کل احادیث (6294)
حدیث نمبر لکھیں:
حدیث میں اردو لفظ/الفاظ تلاش کریں
اردو لفظ / الفاظ لکھیں:
حدیث میں اردو لفظ/الفاظ تلاش کریں
اردو لفظ / الفاظ لکھیں:

--. (هَلْ رَأَى رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ اللَّهَ تَعَالَى أَمْ لَا؟)
رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے اللہ تعالیٰ کا دیدار کیا یا نہیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 5660
5660 - وَعَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ - رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُمَا - مَا كَذَبَ الْفُؤَادُ مَا رَأَى وَلَقَدْ رَآهُ نَزْلَةً أُخْرَى قَالَ: رَآهُ بِفُؤَادِهِ مَرَّتَيْنِ. رَوَاهُ مُسْلِمٌ. وَفِي رِوَايَةِ التِّرْمِذِيِّ قَالَ: رَأَى مُحَمَّدٌ رَبَّهُ، قَالَ عِكْرِمَةُ: قُلْتُ: أَلَيْسَ اللَّهُ يَقُولُ: لَا تُدْرِكُهُ الْأَبْصَارُ وَهُوَ يُدْرِكُ الْأَبْصَارَ قَالَ: وَيْحَكَ! ذَاكَ إِذَا تَجَلَّى بِنُورِهِ الَّذِي هُوَ نُورُهُ، وَقَدْ رَأَى رَبَّهُ مَرَّتَيْنِ.
عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما نے اللہ تعالیٰ کے اس فرمان ﴿مَا كَذَبَ الْفُؤَادُ مَا رَأَىٰ﴾ [سورة النجم: 11] ”اس (رسول) نے جو کچھ دیکھا (آپ کے) دل نے اس میں دھوکہ نہیں کھایا“ اور ﴿وَلَقَدْ رَآهُ نَزْلَةً أُخْرَىٰ﴾ [سورة النجم: 13] ”اور آپ نے اس کو ایک اور بار بھی دیکھا“ کے بارے میں فرمایا: ”آپ صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے اس کو اپنے دل سے دو مرتبہ دیکھا ہے“۔ اور ترمذی کی روایت میں ہے، فرمایا: ”محمد صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے اپنے رب کو دیکھا ہے“، عکرمہ رحمہ اللہ نے عرض کیا: کیا اللہ تعالیٰ فرماتا نہیں؟ ﴿لَّا تُدْرِكُهُ الْأَبْصَارُ وَهُوَ يُدْرِكُ الْأَبْصَارَ﴾ [سورة الأنعام: 103] ”آنکھیں اس کا ادراک نہیں کر سکتیں جبکہ وہ آنکھوں کا ادراک کر سکتا ہے“۔ (ابن عباس رضی اللہ عنہما نے) فرمایا: ”تجھ پر افسوس ہے! یہ تب ہے جب وہ اپنے اس نور کے ساتھ تجلی فرمائے جو کہ اس کا (خاص) نور ہے، اور آپ صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے اپنے رب کو دو مرتبہ دیکھا ہے“۔ اسے مسلم اور ترمذی نے روایت کیا ہے۔ [مشكوة المصابيح/كتاب أحوال القيامة وبدء الخلق/حدیث: 5660]
تخریج الحدیث: ´تحقيق و تخريج: محدث العصر حافظ زبير على زئي رحمه الله` «رواه مسلم (285 / 176) و الترمذي (3279 وقال: حسن غريب) و حديث الترمذي حديث حسن و رواه ابن خريمة في التوحيد (ص 198 ح 273) وابن أبي عاصم في السنة (437/ 446) بسند حسن به .»
قال الشيخ الألباني: صَحِيح
قال الشيخ زبير على زئي:صحيح

مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں