صحيح البخاري سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
79. بَابُ مَا لاَ يُسْتَحْيَا مِنَ الْحَقِّ لِلتَّفَقُّهِ فِي الدِّينِ:
باب: شریعت کی باتیں پوچھنے میں شرم نہیں کرنی چاہئیے۔
حدیث نمبر: 6121
حَدَّثَنَا إِسْمَاعِيلُ، قَالَ: حَدَّثَنِي مَالِكٌ، عَنْ هِشَامِ بْنِ عُرْوَةَ، عَنْ أَبِيهِ، عَنْ زَيْنَبَ ابْنَةَ أَبِي سَلَمَةَ، عَنْ أُمِّ سَلَمَةَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهَا، قَالَتْ: جَاءَتْ أُمُّ سُلَيْمٍ إِلَى رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَقَالَتْ: يَا رَسُولَ اللَّهِ، إِنَّ اللَّهَ لَا يَسْتَحِي مِنَ الْحَقِّ،" فَهَلْ عَلَى الْمَرْأَةِ غُسْلٌ إِذَا احْتَلَمَتْ؟ فَقَالَ: نَعَمْ، إِذَا رَأَتِ الْمَاءَ".
ہم سے اسماعیل بن ابی اویس نے بیان کیا، کہا مجھ سے امام مالک نے بیان کیا، ان سے ہشام بن عروہ نے، ان سے ان کے والد نے، ان سے زینب بنت ابی سلمہ رضی اللہ عنہا نے اور ان سے ام سلمہ رضی اللہ عنہا نے بیان کیا کہ ام سلیم رضی اللہ عنہا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں حاضر ہوئیں اور عرض کیا: یا رسول اللہ! اللہ حق بات سے حیاء نہیں کرتا کیا عورت کو جب احتلام ہو تو اس پر غسل واجب ہے؟ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ ہاں اگر عورت منی کی تری دیکھے تو اس پر بھی غسل واجب ہے۔ [صحيح البخاري/كِتَاب الْأَدَبِ/حدیث: 6121]
حضرت ام سلمہ رضی اللہ عنہا سے روایت ہے، انہوں نے کہا کہ حضرت ام سلیم رضی اللہ عنہا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں حاضر ہوئیں اور عرض کی: ”اللہ کے رسول! اللہ تعالیٰ حق (کے اظہار) سے نہیں شرماتا، کیا عورت کو جب احتلام ہو تو اس پر غسل واجب ہے؟“ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”ہاں! اگر وہ پانی (مادہ منویہ کی تری) دیکھے تو غسل واجب ہے۔“ [صحيح البخاري/كِتَاب الْأَدَبِ/حدیث: 6121]
تخریج الحدیث: «أحاديث صحيح البخاريّ كلّها صحيحة»
الحكم على الحديث: أحاديث صحيح البخاريّ كلّها صحيحة
حدیث نمبر: 6122
حَدَّثَنَا آدَمُ، حَدَّثَنَا شُعْبَةُ، حَدَّثَنَا مُحَارِبُ بْنُ دِثَارٍ، قَالَ: سَمِعْتُ ابْنَ عُمَرَ، يَقُولُ: قَالَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ:" مَثَلُ الْمُؤْمِنِ كَمَثَلِ شَجَرَةٍ خَضْرَاءَ لَا يَسْقُطُ وَرَقُهَا وَلَا يَتَحَاتُّ"، فَقَالَ الْقَوْمُ: هِيَ شَجَرَةُ كَذَا هِيَ شَجَرَةُ كَذَا، فَأَرَدْتُ أَنْ أَقُولَ هِيَ النَّخْلَةُ وَأَنَا غُلَامٌ شَابٌّ فَاسْتَحْيَيْتُ، فَقَالَ:" هِيَ النَّخْلَةُ" وَعَنْ شُعْبَةَ، حَدَّثَنَا خُبَيْبُ بْنُ عَبْدِ الرَّحْمَنِ، عَنْ حَفْصِ بْنِ عَاصِمٍ، عَنِ ابْنِ عُمَرَ، مِثْلَهُ. وَزَادَ فَحَدَّثْتُ بِهِ عُمَرَ، فَقَالَ: لَوْ كُنْتَ قُلْتَهَا لَكَانَ أَحَبَّ إِلَيَّ مِنْ كَذَا وَكَذَا.
ہم سے آدم بن ابی ایاس نے بیان کیا، کہا ہم سے شعبہ نے بیان کیا، کہا ہم سے محارب بن دثار نے، کہا کہ میں نے ابن عمر رضی اللہ عنہا سے سنا، انہوں نے بیان کیا کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا ”مومن کی مثال اس سرسبز درخت کی ہے، جس کے پتے نہیں جھڑتے۔ صحابہ نے کہا کہ یہ فلاں درخت ہے، یہ فلاں درخت ہے۔ میرے دل میں آیا کہ کہوں کہ یہ کھجور کا درخت ہے لیکن چونکہ میں نوجوان تھا، اس لیے مجھ کو بولتے ہوئے حیاء آئی۔ پھر نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ وہ کھجور کا درخت ہے۔ اور اسی سند سے شعبہ سے روایت ہے کہ کہا ہم سے خبیب بن عبدالرحمٰن نے، ان سے حفص بن عاصم نے اور ان سے ابن عمر رضی اللہ عنہما نے اسی طرح بیان کیا اور یہ اضافہ کیا کہ پھر میں نے اس کا ذکر عمر رضی اللہ عنہ سے کیا تو انہوں نے کہا اگر تم نے کہہ دیا ہوتا تو مجھے اتنا اتنا مال ملنے سے بھی زیادہ خوشی حاصل ہوتی۔ [صحيح البخاري/كِتَاب الْأَدَبِ/حدیث: 6122]
حضرت ابن عمر رضی اللہ عنہما سے روایت ہے، انہوں نے کہا کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”مومن کی مثال اس سر سبز درخت کی طرح ہے جس کے پتے نہ گرتے ہیں نہ جھڑتے ہیں۔“ صحابہ کرام رضی اللہ عنہم نے کہا: ”یہ فلاں درخت ہے، یہ فلاں درخت ہے۔“ میں نے کھجور کا درخت بتانے کا ارادہ کیا، میں چونکہ کمسن نوخیز تھا اس لیے میں نے بتانے سے شرم محسوس کی تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”وہ درخت کھجور کا ہے۔“ ایک روایت میں یہ اضافہ ہے کہ حضرت ابن عمر رضی اللہ عنہما نے کہا کہ میں نے اس بات کا تذکرہ حضرت عمر رضی اللہ عنہ سے کیا تو انہوں نے فرمایا: ”اگر تم جواب دے دیتے تو مجھے اتنا اتنا مال ملنے سے بھی زیادہ خوشی ہوتی۔“ [صحيح البخاري/كِتَاب الْأَدَبِ/حدیث: 6122]
تخریج الحدیث: «أحاديث صحيح البخاريّ كلّها صحيحة»
الحكم على الحديث: أحاديث صحيح البخاريّ كلّها صحيحة
حدیث نمبر: 6123
حَدَّثَنَا مُسَدَّدٌ، حَدَّثَنَا مَرْحُومٌ، سَمِعْتُ ثَابِتًا، أَنَّهُ سَمِعَ أَنَسًا رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ، يَقُولُ: جَاءَتِ امْرَأَةٌ إِلَى النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ تَعْرِضُ عَلَيْهِ نَفْسَهَا فَقَالَتْ: هَلْ لَكَ حَاجَةٌ فِيَّ؟ فَقَالَتِ ابْنَتُهُ: مَا أَقَلَّ حَيَاءَهَا، فَقَالَ:" هِيَ خَيْرٌ مِنْكِ، عَرَضَتْ عَلَى رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ نَفْسَهَا".
ہم سے مسدد نے بیان کیا، کہا ہم سے مرحوم بن عبدالعزیز نے بیان کیا، انہوں نے کہا کہ میں نے کہا کہ میں نے ثابت سے سنا اور انہوں نے انس رضی اللہ عنہ سے سنا، انہوں نے بیان کیا کہ ایک خاتون نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں حاضر ہوئیں اور اپنے آپ کو نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے نکاح کے لیے پیش کیا اور عرض کیا: کیا نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کو مجھ سے نکاح کی ضرورت ہے؟ اس پر انس رضی اللہ عنہ کی صاحبزادی بولیں، وہ کتنی بےحیا تھی۔ انس رضی اللہ عنہ نے کہا کہ وہ تم سے تو اچھی تھیں انہوں نے اپنے آپ کو نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے نکاح کے لیے پیش کیا۔ [صحيح البخاري/كِتَاب الْأَدَبِ/حدیث: 6123]
حضرت انس رضی اللہ عنہ سے روایت ہے، انہوں نے کہا کہ ایک خاتون نبی صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں حاضر ہوئی اور خود کو آپ صلی اللہ علیہ وسلم سے نکاح کے لیے پیش کرتے ہوئے کہا: ”کیا آپ کو میری ضرورت ہے؟“ اس پر حضرت انس رضی اللہ عنہ کی بیٹی نے کہا: ”وہ عورت کس قدر بے حیا تھی!“ حضرت انس رضی اللہ عنہ نے فرمایا: ”وہ خاتون تم سے بہت اچھی تھی۔ اس نے خود کو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے نکاح کے لیے پیش کیا تھا۔“ [صحيح البخاري/كِتَاب الْأَدَبِ/حدیث: 6123]
تخریج الحدیث: «أحاديث صحيح البخاريّ كلّها صحيحة»
الحكم على الحديث: أحاديث صحيح البخاريّ كلّها صحيحة