صحيح البخاري سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
84. بَابُ حَقِّ الضَّيْفِ:
باب: مہمان کے حق کے بیان میں۔
حدیث نمبر: 6134
حَدَّثَنَا إِسْحَاقُ بْنُ مَنْصُورٍ، حَدَّثَنَا رَوْحُ بْنُ عُبَادَةَ، حَدَّثَنَا حُسَيْنٌ، عَنْ يَحْيَى بْنِ أَبِي كَثِيرٍ، عَنْ أَبِي سَلَمَةَ بْنِ عَبْدِ الرَّحْمَنِ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عَمْرٍو، قَالَ: دَخَلَ عَلَيَّ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَقَالَ:" أَلَمْ أُخْبَرْ أَنَّكَ تَقُومُ اللَّيْلَ وَتَصُومُ النَّهَارَ" قُلْتُ: بَلَى، قَالَ:" فَلَا تَفْعَلْ قُمْ وَنَمْ وَصُمْ وَأَفْطِرْ، فَإِنَّ لِجَسَدِكَ عَلَيْكَ حَقًّا، وَإِنَّ لِعَيْنِكَ عَلَيْكَ حَقًّا، وَإِنَّ لِزَوْرِكَ عَلَيْكَ حَقًّا، وَإِنَّ لِزَوْجِكَ عَلَيْكَ حَقًّا، وَإِنَّكَ عَسَى أَنْ يَطُولَ بِكَ عُمُرٌ، وَإِنَّ مِنْ حَسْبِكَ أَنْ تَصُومَ مِنْ كُلِّ شَهْرٍ ثَلَاثَةَ أَيَّامٍ، فَإِنَّ بِكُلِّ حَسَنَةٍ عَشْرَ أَمْثَالِهَا فَذَلِكَ الدَّهْرُ كُلُّهُ" قَالَ: فَشَدَّدْتُ فَشُدِّدَ عَلَيَّ، فَقُلْتُ: فَإِنِّي أُطِيقُ غَيْرَ ذَلِكَ، قَالَ:" فَصُمْ مِنْ كُلِّ جُمُعَةٍ ثَلَاثَةَ أَيَّامٍ" قَالَ: فَشَدَّدْتُ فَشُدِّدَ عَلَيَّ، قُلْتُ: أُطِيقُ غَيْرَ ذَلِكَ، قَالَ:" فَصُمْ صَوْمَ نَبِيِّ اللَّهِ دَاوُدَ" قُلْتُ: وَمَا صَوْمُ نَبِيِّ اللَّهِ دَاوُدَ؟ قَالَ:" نِصْفُ الدَّهْرِ".
ہم سے اسحاق بن منصور نے بیان کیا، کہا ہم سے روح بن عبادہ نے، کہا ہم سے حسین نے، ان سے یحییٰ بن ابی بکر نے، ان سے ابوسلمہ بن عبدالرحمٰن نے اور ان سے عبداللہ بن عمرو رضی اللہ عنہما نے بیان کیا کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم میرے پاس تشریف لائے اور فرمایا، کیا یہ میری خبر صحیح ہے کہ تم رات بھر عبادت کرتے رہتے ہو اور دن میں روزے رکھتے ہو؟ میں نے کہا کہ جی ہاں یہ صحیح ہے۔ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ ایسا نہ کرو، عبادت بھی کرو اور سو بھی، روزے بھی رکھو اور بلا روزے بھی رہو، کیونکہ تمہارے جسم کا بھی تم پر حق ہے، تمہاری آنکھوں کا بھی تم پر حق ہے، تم سے ملاقات کے لیے آنے والوں کا بھی تم پر حق ہے، تمہاری بیوی کا بھی تم پر حق ہے، امید ہے کہ تمہاری عمر لمبی ہو گی، تمہارے لیے یہی کافی ہے کہ ہر مہینہ میں تین روزے رکھو، کیونکہ ہر نیکی کا بدلہ دس گناہ ملتا ہے، اس طرح زندگی بھر کا روزہ ہو گا۔ انہوں نے بیان کیا کہ میں نے سختی چاہی تو آپ نے میرے اوپر سختی کر دی۔ میں نے عرض کیا کہ میں اس سے زیادہ کی طاقت رکھتا ہوں۔ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ پھر ہر ہفتے تین روزہ رکھا کر، بیان کیا کہ میں نے اور سختی چاہی اور آپ نے میرے اوپر سختی کر دی۔ میں نے عرض کیا کہ میں اس سے بھی زیادہ کی طاقت رکھتا ہوں۔ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ پھر اللہ کے نبی داؤد علیہ السلام جیسا روزہ رکھ۔ میں نے پوچھا، اللہ کے نبی داؤد علیہ السلام کا روزہ کیسا تھا۔ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ ایک دن روزہ ایک دن افطار گویا آدھی عمر کے روزے۔ [صحيح البخاري/كِتَاب الْأَدَبِ/حدیث: 6134]
حضرت عبداللہ بن عمرو رضی اللہ عنہ سے روایت ہے انہوں نے کہا کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم میرے پاس تشریف لائے تو فرمایا: ”کیا میری خبر صحیح ہے کہ تم رات بھی قیام کرتے ہو اور دن کا روزہ رکھتے ہو؟“ میں نے کہا: جی ہاں۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”ایسا نہ کرو، نماز پڑھو اور آرام بھی کرو، روزہ رکھو اور افطار بھی کرو۔ بے شک تمہارے جسم کا تم پر حق ہے، تمہاری آنکھوں کا تم پر حق ہے، تم سے ملاقات کے لیے آنے والوں کا بھی تم پر حق ہے اور تمہاری بیوی کا بھی تم پر حق ہے۔ امید ہے کہ تمہاری عمر لمبی ہوگی، تمہارے لیے یہی کافی ہے کہ ہر مہینے میں تین روزے رکھو کیونکہ ہر نیکی کا بدلہ دس گنا ملتا ہے، اس طرح زندگی بھر کے روزوں کا ثواب ہوگا۔“ حضرت عبداللہ بن عمرو رضی اللہ عنہ نے کہا: میں نے اپنی جان پر سختی کی تو مجھ پر سختی کر دی گئی، میں نے کہا: میں اس سے بھی زیادہ کی طاقت رکھتا ہوں۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”پھر تم اللہ کے نبی حضرت داود علیہ السلام کی طرح رکھو۔“ میں نے عرض کی: اللہ کے نبی حضرت داود علیہ السلام کا روزہ کیا تھا؟ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”نصف زمانے (آدھی زندگی) کے روزے یعنی ایک دن روزہ اور ایک دن افطار۔“ [صحيح البخاري/كِتَاب الْأَدَبِ/حدیث: 6134]
تخریج الحدیث: «أحاديث صحيح البخاريّ كلّها صحيحة»
الحكم على الحديث: أحاديث صحيح البخاريّ كلّها صحيحة