🏠 👥 🔍 🧩 🅰️ 📌 ↩️

مشكوة المصابيح سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
حدیث کتب میں نمبر سے حدیث تلاش کریں:

مشکوۃ المصابیح میں ترقیم شاملہ سے تلاش کل احادیث (6294)
حدیث نمبر لکھیں:
حدیث میں اردو لفظ/الفاظ تلاش کریں
اردو لفظ / الفاظ لکھیں:
حدیث میں اردو لفظ/الفاظ تلاش کریں
اردو لفظ / الفاظ لکھیں:

--. (كَمْ هِيَ المَسَافَةُ بَيْنَ السَّمَاءِ وَالأَرْضِ؟)
آسمان اور زمین کے درمیان کتنی دوری ہے
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 5726
5726 - وَعَنِ الْعَبَّاسِ بْنِ عَبْدِ الْمُطَّلِبِ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ. أَنَّهُ كَانَ جَالِسًا فِي الْبَطْحَاءِ فِي عِصَابَةٍ وَرَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - جَالِسٌ فِيهِمْ، فَمَرَّتْ سَحَابَةٌ، فَنَظَرُوا إِلَيْهَا، فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ:"مَا تُسَمُّونَ هَذِهِ؟": قَالُوا: السَّحَابَ. قَالَ:"وَالْمُزْنَ؟"قَالُوا: وَالْمُزْنَ. قَالَ:"وَالْعَنَانَ". قَالُوا وَالْعَنَانَ. قَالَ:"هَلْ تَدْرُونَ مَا بُعْدُ مَا بَيْنَ السَّمَاءِ وَالْأَرْضِ؟". قَالُوا: لَا نَدْرِي قَالَ:"إِنَّ بُعْدَ مَا بَيْنَهُمَا  إِمَّا وَاحِدَةٌ وَإِمَّا اثْنَتَانِ أَوْ ثَلَاثٌ وَسَبْعُونَ سَنَةً، وَالسَّمَاءُ الَّتِي فَوْقَهَا كَذَلِكَ"حَتَّى عَدَّ سَبْعَ سَمَاوَاتٍ. ثُمَّ فَوْقَ السَّمَاءِ السَّابِعَةِ بَحْرٌ، بَيْنَ أَعْلَاهُ وَأَسْفَلِهِ كَمَا بَيْنَ سَمَاءٍ إِلَى سَمَاءٍ، ثُمَّ فَوْقَ ذَلِكَ ثَمَانِيَةُ أَوَعَالٍ، بَيْنَ أَظْلَافِهِنَّ وَوُرُكِهِنَّ مِثْلُ مَا بَيْنَ سَمَاءٍ إِلَى سَمَاءٍ، ثُمَّ عَلَى ظُهُورِهِنَّ"الْعَرْشُ"، بَيْنَ أَسْفَلِهِ وَأَعْلَاهُ مَا بَيْنَ سَمَاءٍ إِلَى سَمَاءٍ، ثُمَّ اللَّهُ فَوْقَ ذَلِكَ". رَوَاهُ التِّرْمِذِيُّ، وَأَبُو دَاوُدَ.
عباس بن عبدالمطلب رضی اللہ عنہ سے روایت ہے، انہوں نے نقل کیا کہ وہ بطحا میں ایک جماعت کے ساتھ بیٹھے ہوئے تھے، اور رسول اللہ صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم ان میں تشریف فرما تھے، اتنے میں بادل کا ایک ٹکڑا گزرا تو انہوں نے اس کی طرف دیکھا، رسول اللہ صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: ”تم اسے کیا نام دیتے ہو؟“ انہوں نے عرض کیا: «السَّحَابُ» ”سحاب“، فرمایا: «الْمُزْنُ» ”مزن“، انہوں نے عرض کیا: ”مزن“، آپ صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: «الْعَنَانُ» ”عنان“، انہوں نے عرض کیا: ”عنان“، آپ صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: ”کیا تم جانتے ہو کہ آسمان اور زمین کے درمیان کتنی مسافت ہے؟“ انہوں نے عرض کیا: ہم نہیں جانتے۔ آپ صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: ”ان دونوں کے درمیان یا تو اکہتر یا بہتر یا تہتر سال کی مسافت ہے، اور آسمان جو اس کے اوپر ہے اسی طرح ہے“، حتیٰ کہ آپ صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے ساتوں آسمان گنے، ”پھر ساتویں آسمان کے اوپر ایک سمندر ہے، اوپر والے اور نچلے حصے کے درمیان اتنی ہی مسافت ہے، جیسے آسمان سے دوسرے آسمان تک، پھر اس کے اوپر آٹھ فرشتے ہیں جو پہاڑی بکروں کی شکل کے ہیں، ان کے کھروں اور سرین کے درمیان اتنا فاصلہ ہے جتنا آسمان سے آسمان تک ہے، پھر ان کی پشتوں پر عرش ہے، اس کے نچلے اور اوپر والے حصے کے درمیان اتنا فاصلہ ہے جتنا آسمان سے دوسرے آسمان کے درمیان فاصلہ ہے، پھر اس کے اوپر اللہ ہے“۔ [إسناده ضعيف، رواه الترمذي وأبو داود] [مشكوة المصابيح/كتاب أحوال القيامة وبدء الخلق/حدیث: 5726]
تخریج الحدیث: ´تحقيق و تخريج: محدث العصر حافظ زبير على زئي رحمه الله` «إسناده ضعيف، رواه الترمذي (3320 وقال: حسن غريب) و أبو داود (4723) [و ابن ماجه (193) ]
٭ سماک اختلط و لم يحدّث به قبل اختلاطه و عبد الله بن عميرة لايعرف له سماع من الأحنف کما قال البخاري رحمه الله.»
قال الشيخ الألباني: ضَعِيف
قال الشيخ زبير على زئي:إسناده ضعيف

مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں