مشكوة المصابيح سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
--. (نُهِيَ عَنِ اتِّخَاذِ وَسِيلَةٍ)
وسیلہ بنانے سے منع کیا
حدیث نمبر: 5727
5727 - وَعَنْ جُبَيْرِ بْنِ مَطْعِمٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ، قَالَ: أَتَى رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - أَعْرَابِيٌّ، فَقَالَ: جَهِدَتِ الْأَنْفُسُ، وَجَاعَ الْعِيَالُ، وَنُهِكَتِ الْأَمْوَالُ، وَهَلَكَتِ الْأَغْنَامُ، فَاسْتَسْقِ اللَّهَ لَنَا، فَإِنَّا نَسْتَشْفِعُ بِكَ عَلَى اللَّهِ ، وَنَسْتَشْفِعُ بِاللَّهِ عَلَيْكَ . فَقَالَ النَّبِيُّ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ:"سُبْحَانَ اللَّهِ، سُبْحَانَ اللَّهِ". فَمَا زَالَ يُسَبِّحُ حَتَّى عُرِفَ ذَلِكَ فِي وُجُوهِ الصَّحَابَةِ، ثُمَّ قَالَ:"وَيْحَكَ إِنَّهُ لَا يُسْتَشْفَعُ بِاللَّهِ عَلَى أَحَدٍ، شَأْنُ اللَّهِ أَعْظَمُ مِنْ ذَلِكَ، وَيْحَكَ أَتَدْرِي مَا اللَّهُ؟ إِنَّ عَرْشَهُ عَلَى سَمَاوَاتِهِ لَهَكَذَا"وَقَالَ بِأَصَابِعِهِ مَثْلَ الْقُبَّةِ عَلَيْهِ"وَإِنَّهُ لِيَئِطُّ بِهِ أَطِيطَ الرَّحْلِ بِالرَّاكِبِ". رَوَاهُ أَبُو دَاوُدَ.
جبیر بن مطعم رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ ایک اعرابی رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے پاس آیا تو اس نے عرض کیا: جانیں مشقت میں پڑ گئیں، بال بچے بھوک کا شکار ہو گئے، اموال ختم ہو گئے اور جانور ہلاک ہو گئے، آپ اللہ سے ہمارے لیے بارش کی دعا فرمائیں، ہم آپ کے ذریعے اللہ سے سفارش کرتے ہیں اور اللہ کے ذریعے آپ سے سفارش کرتے ہیں، نبی صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: «سُبْحَانَ اللّٰهِ! سُبْحَانَ اللّٰهِ!» ”پاک ہے اللہ! پاک ہے اللہ!“ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم مسلسل تسبیح بیان کرتے رہے حتی کہ یہ چیز آپ کے صحابہ رضی اللہ عنہم کے چہروں سے معلوم ہونے لگی، پھر آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: ”تجھ پر افسوس ہے، کسی پر اللہ کو سفارشی نہیں بنایا جاتا، اللہ کی شان اس سے عظیم تر ہے، تجھ پر افسوس ہے، کیا تم جانتے ہو، اللہ (کی عظمت و کبریائی) کیا ہے؟ بے شک اس کا عرش اس کے آسمانوں پر اس طرح ہے“ اور آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے اپنی انگلیوں سے اشارہ فرمایا جیسے اس پر قبہ ہو ”وہ اس وجہ سے اس طرح آواز نکالتا ہے جس طرح سوار کی وجہ سے پالان آواز نکالتا ہے۔“ اسنادہ ضعیف، رواہ ابوداؤد۔ [مشكوة المصابيح/كتاب أحوال القيامة وبدء الخلق/حدیث: 5727]
تخریج الحدیث: ´تحقيق و تخريج: محدث العصر حافظ زبير على زئي رحمه الله` «إسناده ضعيف، رواه أبو داود (4726)
٭ محمد بن إسحاق مدلس و عنعن و جبير بن محمد: مستور، لم يوثقه غير ابن حبان .»
٭ محمد بن إسحاق مدلس و عنعن و جبير بن محمد: مستور، لم يوثقه غير ابن حبان .»
قال الشيخ الألباني: ضَعِيف
قال الشيخ زبير على زئي:إسناده ضعيف