صحيح البخاري سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
86. بَابُ صُنْعِ الطَّعَامِ وَالتَّكَلُّفِ لِلضَّيْفِ:
باب: مہمان کے لیے پرتکلف کھانا تیار کرنا۔
حدیث نمبر: 6139
حَدَّثَنِي مُحَمَّدُ بْنُ بَشَّارٍ، حَدَّثَنَا جَعْفَرُ بْنُ عَوْنٍ، حَدَّثَنَا أَبُو الْعُمَيْسِ، عَنْ عَوْنِ بْنِ أَبِي جُحَيْفَةَ، عَنْ أَبِيهِ، قَالَ: آخَى النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بَيْنَ سَلْمَانَ وأَبِي الدَّرْدَاءِ، فَزَارَ سَلْمَانُ أَبَا الدَّرْدَاءِ فَرَأَى أُمَّ الدَّرْدَاءِ مُتَبَذِّلَةً، فَقَالَ لَهَا: مَا شَأْنُكِ؟ قَالَتْ: أَخُوكَ أَبُو الدَّرْدَاءِ لَيْسَ لَهُ حَاجَةٌ فِي الدُّنْيَا، فَجَاءَ أَبُو الدَّرْدَاءِ فَصَنَعَ لَهُ طَعَامًا، فَقَالَ: كُلْ فَإِنِّي صَائِمٌ، قَالَ: مَا أَنَا بِآكِلٍ حَتَّى تَأْكُلَ فَأَكَلَ، فَلَمَّا كَانَ اللَّيْلُ ذَهَبَ أَبُو الدَّرْدَاءِ يَقُومُ، فَقَالَ: نَمْ فَنَامَ ثُمَّ ذَهَبَ يَقُومُ، فَقَالَ: نَمْ، فَلَمَّا كَانَ آخِرُ اللَّيْلِ قَالَ سَلْمَانُ: قُمِ الْآنَ، قَالَ: فَصَلَّيَا، فَقَالَ لَهُ سَلْمَانُ:" إِنَّ لِرَبِّكَ عَلَيْكَ حَقًّا وَلِنَفْسِكَ عَلَيْكَ حَقًّا وَلِأَهْلِكَ عَلَيْكَ حَقًّا فَأَعْطِ كُلَّ ذِي حَقٍّ حَقَّهُ"، فَأَتَى النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَذَكَرَ ذَلِكَ لَهُ، فَقَالَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ:" صَدَقَ سَلْمَانُ"، أَبُو جُحَيْفَةَ وَهْبٌ السُّوَائِيُّ يُقَالُ: وَهْبُ الْخَيْرِ.
ہم سے محمد بن بشار نے بیان کیا، کہا ہم سے جعفر بن عون نے بیان کیا، کہا ہم ابوالعمیس (عتبہ بن عبداللہ) نے بیان کیا، ان سے عون بن ابی جحیفہ نے اور ان سے ان کے والد نے بیان کیا کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے سلمان فارسی اور ابودرداء رضی اللہ عنہما کو بھائی بھائی بنا دیا۔ ایک مرتبہ سلمان، ابودرداء رضی اللہ عنہما کی ملاقات کے لیے تشریف لائے اور ام الدرداء رضی اللہ عنہا کو بڑی خستہ حالت میں دیکھا اور پوچھا کیا حال ہے؟ وہ بولیں تمہارے بھائی ابودرداء کو دنیا سے کوئی سروکار نہیں۔ پھر ابودرداء تشریف لائے تو سلمان رضی اللہ عنہ نے ان کے سامنے کھانا پیش کیا۔ انہوں نے کہا کہ آپ کھائیے، میں روزے سے ہوں۔ سلمان فارسی رضی اللہ عنہ بولے کہ میں اس وقت تک نہیں کھاؤں گا۔ جب تک آپ بھی نہ کھائیں۔ چنانچہ ابودرداء نے بھی کھایا رات ہوئی تو ابودرداء رضی اللہ عنہ نماز پڑھنے کی تیاری کرنے لگے۔ سلمان نے کہا کہ سو جایئے، پھر جب آخر رات ہوئی تو ابودرداء نے کہا اب اٹھئیے، بیان کیا کہ پھر دونوں نے نماز پڑھی۔ اس کے بعد سلمان رضی اللہ عنہ نے کہا کہ بلاشبہ تمہارے رب کا تم پر حق ہے اور تمہاری جان کا بھی تم پر حق ہے، تمہاری بیوی کا بھی تم پر حق ہے، پس سارے حق داروں کے حقوق ادا کرو۔ پھر نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں حاضر ہوئے اور آپ سے اس کا ذکر کیا تو نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ سلمان نے سچ کہا ہے۔ ابوجحیفہ کا نام وہب السوائی ہے، جسے وہب الخیر بھی کہتے ہیں۔ [صحيح البخاري/كِتَاب الْأَدَبِ/حدیث: 6139]
حضرت ابو حجیفہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے، انہوں نے کہا کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے حضرت سلمان اور حضرت ابو درداء رضی اللہ عنہما کے درمیان بھائی چارہ قائم کیا تھا۔ ایک مرتبہ حضرت سلمان رضی اللہ عنہ حضرت ابو درداء رضی اللہ عنہ کی ملاقات کے لیے تشریف لائے تو انہوں نے حضرت ام درداء رضی اللہ عنہا کو بڑی خستہ حالت میں دیکھا۔ حضرت سلمان رضی اللہ عنہ نے پوچھا: ”تمہارا یہ حال کیوں ہے؟“ حضرت ام درداء رضی اللہ عنہا نے کہا: ”تمہارے بھائی ابو درداء رضی اللہ عنہ کو تو دنیا سے کوئی سروکار ہی نہیں رہا۔“ اتنے میں حضرت ابو درداء رضی اللہ عنہ بھی آ گئے اور انہوں نے حضرت سلمان رضی اللہ عنہ کے لیے کھانا تیار کیا اور کہا: ”آپ کھائیں، میں تو روزے سے ہوں۔“ حضرت سلمان رضی اللہ عنہ نے جواب دیا: ”میں اس وقت تک نہیں کھاؤں گا جب تک آپ بھی نہ کھائیں“، چنانچہ (حضرت ابو درداء رضی اللہ عنہ نے بھی کھانا کھا لیا)۔ پھر جب رات ہوئی تو حضرت ابو درداء رضی اللہ عنہ نماز کی تیاری کے لیے اٹھے۔ حضرت سلمان رضی اللہ عنہ نے ان سے کہا: ”سو جاؤ“، چنانچہ وہ سو گئے۔ پھر جب آخرِ رات ہوئی تو حضرت سلمان رضی اللہ عنہ نے کہا: ”تمہارے رب کا تم پر حق ہے، تمہارے اپنے نفس کا بھی تم پر حق ہے اور تمہاری بیوی کا بھی تم پر حق ہے، اس لیے ہر حق دار کا حق ادا کرو۔“ پھر حضرت ابو درداء رضی اللہ عنہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں حاضر ہوئے اور آپ صلی اللہ علیہ وسلم سے اس واقعے کا ذکر کیا تو نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”سلمان نے سچ کہا ہے۔“ ابو حجیفہ رضی اللہ عنہ کا نام وہب السوائی ہے، انہیں وہب الخیر بھی کہا جاتا ہے۔ [صحيح البخاري/كِتَاب الْأَدَبِ/حدیث: 6139]
تخریج الحدیث: «أحاديث صحيح البخاريّ كلّها صحيحة»
الحكم على الحديث: أحاديث صحيح البخاريّ كلّها صحيحة