صحيح البخاري سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
126. بَابُ إِذَا عَطَسَ كَيْفَ يُشَمَّتُ:
باب: چھینکنے والے کا کس طرح جواب دیا جائے؟
حدیث نمبر: 6224
حَدَّثَنَا مَالِكُ بْنُ إِسْمَاعِيلَ، حَدَّثَنَا عَبْدُ الْعَزِيزِ بْنُ أَبِي سَلَمَةَ، أَخْبَرَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ دِينَارٍ، عَنْ أَبِي صَالِحٍ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ:" إِذَا عَطَسَ أَحَدُكُمْ فَلْيَقُلِ الْحَمْدُ لِلَّهِ، وَلْيَقُلْ لَهُ أَخُوهُ أَوْ صَاحِبُهُ يَرْحَمُكَ اللَّهُ، فَإِذَا قَالَ لَهُ: يَرْحَمُكَ اللَّهُ، فَلْيَقُلْ يَهْدِيكُمُ اللَّهُ وَيُصْلِحُ بَالَكُمْ".
ہم سے مالک بن اسماعیل نے بیان کیا، انہوں نے کہا ہم سے عبدالعزیز بن ابی سلمہ نے بیان کیا، انہیں عبداللہ بن دینار نے خبر دی، وہ ابوصالح سے اور وہ ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت کرتے ہیں کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا ”جب تم میں سے کوئی چھینکے تو «الحمد الله» کہے اور اس کا بھائی یا اس کا ساتھی (راوی کو شبہ تھا) «يرحمك الله» کہے۔ جب ساتھی «يرحمك الله» کہے تو اس کے جواب میں چھینکنے والا «يهديكم الله ويصلح بالكم» ۔“ [صحيح البخاري/كِتَاب الْأَدَبِ/حدیث: 6224]
حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے، وہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم سے بیان کرتے ہیں کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”جب تم میں سے کسی کو چھینک آئے تو وہ «الْحَمْدُ لِلّٰهِ» ”سب تعریفیں اللہ ہی کے لیے ہیں“ کہے۔ اس کا بھائی یا ساتھی اسے «يَرْحَمُكَ اللّٰهُ» ”اللہ تم پر رحم فرمائے“ کہے۔ جب اس کا ساتھی اسے «يَرْحَمُكَ اللّٰهُ» کہے تو چھینکنے والا جواب میں «يَهْدِيكمُ اللّٰهُ وَيُصْلِحُ بَالَكُمْ» ”اللہ تمہیں ہدایت دے اور تمہارے حال کی اصلاح فرمائے“ کہے۔“ [صحيح البخاري/كِتَاب الْأَدَبِ/حدیث: 6224]
تخریج الحدیث: «أحاديث صحيح البخاريّ كلّها صحيحة»
الحكم على الحديث: أحاديث صحيح البخاريّ كلّها صحيحة