صحيح البخاري سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
127. بَابُ لاَ يُشَمَّتُ الْعَاطِسُ إِذَا لَمْ يَحْمَدِ اللَّهَ:
باب: جب چھنیکنے والا الحمدللہ نہ کہے تو اس کے لیے یرحمک اللہ بھی نہ کہا جائے۔
حدیث نمبر: 6225
حَدَّثَنَا آدَمُ بْنُ أَبِي إِيَاسٍ، حَدَّثَنَا شُعْبَةُ، حَدَّثَنَا سُلَيْمَانُ التَّيْمِيُّ، قَالَ: سَمِعْتُ أَنَسًا رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ يَقُولُ:" عَطَسَ رَجُلَانِ عِنْدَ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَشَمَّتَ أَحَدَهُمَا وَلَمْ يُشَمِّتِ الْآخَرَ، فَقَالَ الرَّجُلُ: يَا رَسُولَ اللَّهِ، شَمَّتَّ هَذَا وَلَمْ تُشَمِّتْنِي، قَالَ: إِنَّ هَذَا حَمِدَ اللَّهَ وَلَمْ تَحْمَدِ اللَّهَ".
ہم سے آدم بن ابی ایاس نے بیان کیا، کہا ہم سے شعبہ نے بیان کیا، کہا ہم سے سلیمان تیمی نے بیان کیا، کہا کہ میں نے انس رضی اللہ عنہ سے سنا، انہوں نے بیان کیا کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی موجودگی میں دو آدمیوں نے چھینکا۔ لیکن نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے ان میں سے ایک کی چھینک پر یرحمک اللہ کہا اور دوسرے کی چھینک پر نہیں کہا۔ اس پر دوسرا شخص بولا کہ یا رسول اللہ! آپ نے ان کی چھینک پر یرحمک اللہ فرمایا۔ لیکن میری چھینک پر نہیں فرمایا؟ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ انہوں نے الحمدللہ کہا تھا اور تم نے نہیں کہا تھا۔ [صحيح البخاري/كِتَاب الْأَدَبِ/حدیث: 6225]
حضرت انس رضی اللہ عنہ سے روایت ہے انہوں نے کہا کہ دو آدمیوں کو نبی صلی اللہ علیہ وسلم کی موجودگی میں چھینک آئی تو آپ نے ایک کو جواب دیا اور دوسرے کو جواب نہ دیا۔ دوسرے آدمی نے عرض کی: ”اللہ کے رسول! آپ نے اس کی چھینک کا جواب دیا ہے لیکن میرے چھینک مارنے پر جواب نہیں دیا۔“ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”اس نے «ٱلْحَمْدُ لِلّٰهِ» ”الحمدللہ“ کہا تھا اور تو نے نہیں کہا تھا۔“ [صحيح البخاري/كِتَاب الْأَدَبِ/حدیث: 6225]
تخریج الحدیث: «أحاديث صحيح البخاريّ كلّها صحيحة»
الحكم على الحديث: أحاديث صحيح البخاريّ كلّها صحيحة