مسند احمد سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
5. مُسْنَدُ عُثْمَانَ بْنِ عَفَّانَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ
حدیث نمبر: 409
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا عَبْدُ الْمَلِكِ بْنُ عَمْرٍو ، حَدَّثَنَا عَلِيُّ بْنُ الْمُبَارَكِ ، عَنْ يَحْيَى يَعْنِي ابْنَ أَبِي كَثِيرٍ ، عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ إِبْرَاهِيمَ ، عَنْ عُثْمَانَ بْنِ عَفَّانَ ، أَنّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، قَالَ:" مَنْ صَلَّى الْعِشَاءَ فِي جَمَاعَةٍ، فَهُوَ كَمَنْ قَامَ نِصْفَ اللَّيْلِ، وَمَنْ صَلَّى الصُّبْحَ فِي جَمَاعَةٍ، فَهُوَ كَمَنْ قَامَ اللَّيْلَ كُلَّهُ".
سیدنا عثمان رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا کہ جو شخص نماز عشاء اور نماز فجر جماعت کے ساتھ پڑھ لے تو یہ ایسے ہے جیسے ساری رات قیام کرنا اور ایک روایت میں اس طرح ہے کہ جو شخص عشاء کی نماز جماعت کے ساتھ پڑھ لے تو یہ ایسے ہے جیسے نصف رات قیام کرنا اور جو شخص فجر کی نماز بھی جماعت کے ساتھ پڑھ لے تو یہ ساری رات قیام کرنے کی طرح ہے۔ [مسند احمد/مُسْنَدُ الْخُلَفَاءِ الرَّاشِدِينَ/حدیث: 409]
حکم دارالسلام: حديث صحيح كسابقه، وهذا سند فيه انقطاع، محمد بن إبراهيم التيمي لم يدرك عثمان بن عفان
حدیث نمبر: 410
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا إِسْمَاعِيلُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ ، حَدَّثَنَا يُونُسُ يَعْنِي ابْنَ عُبَيْدٍ ، حَدَّثَنِي عَطَاءُ بْنُ فَرُّوخَ مَوْلَى الْقُرَشِيِّينَ: أَنَّ عُثْمَانَ اشْتَرَى مِنْ رَجُلٍ أَرْضًا، فَأَبْطَأَ عَلَيْهِ، فَلَقِيَهُ، فَقَالَ لَهُ: مَا مَنَعَكَ مِنْ قَبْضِ مَالِكَ؟ قَالَ: إِنَّكَ غَبَنْتَنِي، فَمَا أَلْقَى مِنَ النَّاسِ أَحَدًا إِلَّا وَهُوَ يَلُومُنِي، قَالَ: أَوَ ذَلِكَ يَمْنَعُكَ؟ قَالَ: نَعَمْ، قَالَ: فَاخْتَرْ بَيْنَ أَرْضِكَ وَمَالِكَ، ثُمَّ قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ:" أَدْخَلَ اللَّهُ عَزَّ وَجَلَّ الْجَنَّةَ رَجُلًا كَانَ سَهْلًا مُشْتَرِيًا، وَبَائِعًا، وَقَاضِيًا، وَمُقْتَضِيًا".
عطاء بن فروخ کہتے ہیں کہ ایک مرتبہ سیدنا عثمان رضی اللہ عنہ نے ایک شخص سے کوئی زمین خریدی، لیکن جب اس کی طرف سے تاخیر ہوئی تو انہوں نے اس سے ملاقات کی اور اس سے فرمایا کہ تم اپنی رقم پر قبضہ کیوں نہیں کرتے؟ اس نے کہا کہ آپ نے مجھے دھوکہ دیا، میں جس آدمی سے بھی ملتا ہوں وہ مجھے ملامت کرتا ہے، انہوں نے فرمایا کہ کیا تم صرف اس وجہ سے رکے ہوئے ہو؟ اس نے اثبات میں جواب دیا، فرمایا: پھر اپنی زمین اور پیسوں میں سے کسی ایک کو ترجیح دے لو (اگر تم اپنی زمین واپس لینا چاہتے ہو تو وہ لے لو اور اگر پیسے لینا چاہتے ہو تو وہ لے لو) کیونکہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا ہے: ”اللہ تعالیٰ اس شخص کو جنت میں ضرور داخل کرے گا جو نرم خو ہو خواہ خریدار ہو یا دکاندار، ادا کرنے والا ہو یا تقاضا کرنے والا۔“ [مسند احمد/مُسْنَدُ الْخُلَفَاءِ الرَّاشِدِينَ/حدیث: 410]
حکم دارالسلام: حسن لغيره، وله شاهد من حديث جابر فى صحيح البخاري : 2076 وغيره، عطاء بن فروخ روى عنه اثنان، ولم يوثقه غير ابن حبان، وذكر على بن المديني فى العلل أنه لم يلق عثمان
حدیث نمبر: 411
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا إِسْمَاعِيلُ ، حَدَّثَنَا يُونُسُ بْنُ عُبَيْدٍ ، عَنْ أَبِي مَعْشَرٍ ، عَنْ إِبْرَاهِيمَ ، عَنْ عَلْقَمَةَ ، قَالَ: كُنْتُ مَعَ ابْنِ مَسْعُودٍ، وَهُوَ عِنْدَ عُثْمَانَ، فَقَالَ لَهُ عُثْمَانُ: مَا بَقِيَ لِلنِّسَاءِ مِنْكَ؟ قَالَ: فَلَمَّا ذُكِرَتْ النِّسَاءُ، قَالَ ابْنُ مَسْعُودٍ: ادْنُ يَا عَلْقَمَةُ، قَالَ: وَأَنَا رَجُلٌ شَابٌّ، فَقَالَ لَهُ عُثْمَانُ : خَرَجَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ عَلَى فِتْيَةٍ مِنَ الْمُهَاجِرِينَ، فَقَالَ:" مَنْ كَانَ مِنْكُمْ ذَا طَوْلٍ، فَلْيَتَزَوَّجْ، فَإِنَّهُ أَغَضُّ لِلطَّرْفِ، وَأَحْصَنُ لِلْفَرْجِ، وَمَنْ لَا، فَإِنَّ الصَّوْمَ لَهُ وِجَاءٌ".
علقمہ رحمہ اللہ کہتے ہیں کہ ایک مرتبہ میں سیدنا عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ کے ساتھ تھا، جو سیدنا عثمان رضی اللہ عنہ کے پاس بیٹھے ہوئے تھے، سیدنا عثمان رضی اللہ عنہ نے ان سے پوچھا کہ عورتوں کے لئے آپ کے پاس کیا باقی بچا؟ عورتوں کا تذکرہ ہوا تو سیدنا ابن مسعود رضی اللہ عنہ نے مجھے قریب ہونے کے لئے کہا کہ میں اس وقت نوجوان تھا، پھر خود سیدنا عثمان رضی اللہ عنہ ہی فرمانے لگے کہ ایک مرتبہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم مہاجرین کے نوجوانوں کی ایک جماعت کے پاس تشریف لائے اور فرمایا کہ تم میں سے جس کے پاس استطاعت ہو اسے شادی کر لینی چاہیے کیونکہ اس سے نگاہیں جھک جاتی ہیں اور شرمگاہ کی بھی حفاظت ہو جاتی ہے اور جو ایسا نہ کر سکے، وہ روزے رکھے کیونکہ یہ شہوت کو توڑ دیتے ہیں۔ [مسند احمد/مُسْنَدُ الْخُلَفَاءِ الرَّاشِدِينَ/حدیث: 411]
حکم دارالسلام: صحيح محفوظ من حديث ابن مسعود الآتي برقم: 3592، وقد وهم أبو معشر فى جعل هذا الحديث عن عثمان بن عفان
حدیث نمبر: 412
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ جَعْفَرٍ ، وَبَهْزٌ ، وَحَجَّاجٌ ، قَالُوا: حَدَّثَنَا شُعْبَةُ ، قَالَ: سَمِعْتُ عَلْقَمَةَ بْنَ مَرْثَدٍ يُحَدِّثُ، عَنْ سَعْدِ بْنِ عُبَيْدَةَ ، عَنْ أَبِي عَبْدِ الرَّحْمَنِ السُّلَمِيِّ ، عَنْ عُثْمَانَ بْنِ عَفَّانَ ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، أَنَّهُ قَالَ:" إِنَّ خَيْرَكُمْ مَنْ عَلَّمَ الْقُرْآنَ، أَوْ تَعَلَّمَهُ"، قَالَ مُحَمَّدُ بْنُ جَعْفَرٍ، وَحَجَّاجٌ: فَقَالَ أَبُو عَبْدِ الرَّحْمَنِ: فَذَاكَ الَّذِي أَقْعَدَنِي هَذَا الْمَقْعَدَ، قَالَ حَجَّاجٌ: قَالَ شُعْبَةُ: وَلَمْ يَسْمَعْ أَبُو عَبْدِ الرَّحْمَنِ مِنْ عُثْمَانَ، وَلَا مِنْ عَبْدِ اللَّهِ، وَلَكِنْ قَدْ سَمِعَ مِنْ عَلِيٍّ، قَالَ أَبِي: وَقَالَ بَهْزٌ: عَنْ شُعْبَةَ، قَالَ: عَلْقَمَةُ بْنُ مَرْثَدٍ أَخْبَرَنِي، وَقَالَ:" خَيْرُكُمْ مَنْ تَعَلَّمَ الْقُرْآنَ وَعَلَّمَهُ".
سیدنا عثمان رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا: ”تم میں سب سے بہترین وہ ہے جو قرآن سیکھے اور سکھائے“، راوی حدیث ابوعبدالرحمن سلمی کہتے ہیں کہ اسی حدیث نے مجھے یہاں (قرآن پڑھانے کے لئے) بٹھا رکھا ہے۔ [مسند احمد/مُسْنَدُ الْخُلَفَاءِ الرَّاشِدِينَ/حدیث: 412]
حکم دارالسلام: إسناده صحيح، خ: 5028
حدیث نمبر: 413
حَدَّثَنَاه عَفَّانُ ، حَدَّثَنَا شُعْبَةُ، أَخْبَرَنِي عَلْقَمَةُ بْنُ مَرْثَدٍ، وَقَالَ فِيهِ:" مَنْ تَعَلَّمَ الْقُرْآنَ، أَوْ عَلَّمَهُ".
گزشتہ حدیث اس دوسری سند سے بھی روایت کی گئی ہے۔ [مسند احمد/مُسْنَدُ الْخُلَفَاءِ الرَّاشِدِينَ/حدیث: 413]
حکم دارالسلام: إسناده صحيح كسابقه
حدیث نمبر: 414
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ جَعْفَرٍ ، وَحَجَّاجٌ ، قَالَا: حَدَّثَنَا شُعْبَةُ ، عَنْ عَمْرِو بْنِ دِينَارٍ ، قَالَ: سَمِعْتُ رَجُلًا يُحَدِّثُ، عَنْ عُثْمَانَ بْنِ عَفَّانَ ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، قَالَ:" كَانَ رَجُلٌ سَمْحًا بَائِعًا وَمُبْتَاعًا، وَقَاضِيًا وَمُقْتَضِيًا، فَدَخَلَ الْجَنَّةَ".
سیدنا عثمان رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا: ”جو آدمی بائع (بچنے والا) اور مشتری (خریدنے والا اور بیچنے والا) ہونے میں یا ادا کرنے والا اور تقاضا کرنے والا ہونے کی صورت میں نرم خو ہو، وہ جنت میں داخل ہو گا۔“ [مسند احمد/مُسْنَدُ الْخُلَفَاءِ الرَّاشِدِينَ/حدیث: 414]
حکم دارالسلام: حسن لغيره، وهذا إسناد ضعيف لجهالة الذى روى عنه عمرو بن دينار، ويحمتل أن يكون عطاء بن فروخ
حدیث نمبر: 415
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ جَعْفَرٍ ، حَدَّثَنَا سَعِيدٌ ، عَنْ قَتَادَةَ ، عَنْ مُسْلِمِ بْنِ يَسَارٍ ، عَنْ حُمْرَانَ بْنِ أَبَانَ ، عَنْ عُثْمَانَ بْنِ عَفَّانَ : أَنَّهُ دَعَا بِمَاءٍ فَتَوَضَّأَ، وَمَضْمَضَ، وَاسْتَنْشَقَ، ثُمَّ غَسَلَ وَجْهَهُ ثَلَاثًا، وَذِرَاعَيْهِ ثَلَاثًا ثَلَاثًا، وَمَسَحَ بِرَأْسِهِ وَظَهْرِ قَدَمَيْهِ، ثُمَّ ضَحِكَ، فَقَالَ لِأَصْحَابِهِ: أَلَا تَسْأَلُونِي عَمَّا أَضْحَكَنِي؟ فَقَالُوا: مِمَّ ضَحِكْتَ يَا أَمِيرَ الْمُؤْمِنِينَ؟ قَالَ: رَأَيْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ دَعَا بِمَاءٍ قَرِيبًا مِنْ هَذِهِ الْبُقْعَةِ، فَتَوَضَّأَ كَمَا تَوَضَّأْتُ، ثُمَّ ضَحِكَ، فَقَالَ:" أَلَا تَسْأَلُونِي مَا أَضْحَكَنِي؟" فَقَالُوا: مَا أَضْحَكَكَ يَا رَسُولَ اللَّهِ؟ فَقَالَ:" إِنَّ الْعَبْدَ إِذَا دَعَا بِوَضُوءٍ، فَغَسَلَ وَجْهَهُ، حَطَّ اللَّهُ عَنْهُ كُلَّ خَطِيئَةٍ أَصَابَهَا بِوَجْهِهِ، فَإِذَا غَسَلَ ذِرَاعَيْهِ كَانَ كَذَلِكَ، وَإِنْ مَسَحَ بِرَأْسِهِ كَانَ كَذَلِكَ، وَإِذَا طَهَّرَ قَدَمَيْهِ كَانَ كَذَلِكَ".
حمران کہتے ہیں کہ ایک مرتبہ سیدنا عثمان رضی اللہ عنہ نے وضو کے لئے پانی منگوایا، چنانچہ کلی کی، ناک میں پانی ڈالا اور تین مرتبہ چہرہ دھویا اور دونوں بازوؤں کو تین تین مرتبہ دھویا، سر کا مسح کیا اور دونوں پاؤں کے اوپر والے حصے پر بھی مسح فرمایا اور ہنس پڑے، پھر اپنے ساتھیوں سے پوچھا کہ تم مجھ سے ہنسنے کی وجہ کیوں نہیں پوچھتے؟ لوگوں نے کہا: امیر المؤمنین! آپ ہی بتائیے کہ آپ کیوں ہنسے؟ فرمایا کہ میں نے نبی صلی اللہ علیہ وسلم کو دیکھا کہ آپ نے بھی اسی طرح پانی منگوایا اور اس جگہ کے قریب بیٹھ کر اسی طرح وضو کیا جیسے میں نے کیا، پھر نبی صلی اللہ علیہ وسلم بھی ہنس پڑے اور اپنے ساتھیوں سے پوچھا کہ تم مجھ سے ہنسنے کی وجہ کیوں نہیں پوچھتے؟ صحابہ کرام رضی اللہ عنہ نے پوچھا: یا رسول اللہ! آپ کو کس چیز نے ہنسایا؟ فرمایا: ”انسان جب وضو کا پانی منگوائے اور چہرہ دھوئے تو اللہ اس کے وہ تمام گناہ معاف فرما دیتا ہے جو چہرے سے ہوتے ہیں، جب بازو دھوتا ہے تب بھی ایسا ہی ہوتا ہے، جب سر کا مسح کرتا ہے تب بھی ایسا ہی ہوتا ہے اور جب پاؤں کو پاک کرتا ہے تب بھی ایسا ہی ہوتا ہے۔“ [مسند احمد/مُسْنَدُ الْخُلَفَاءِ الرَّاشِدِينَ/حدیث: 415]
حکم دارالسلام: صحيح لغيره، قتادة لم يسمع من مسلم بن يسار فيما قاله يحيى القطان وأبو حاتم
حدیث نمبر: 416
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا بَهْزٌ ، أَخْبَرَنَا مَهْدِيُّ بْنُ مَيْمُونٍ ، حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ أَبِي يَعْقُوبَ ، عَنِ الْحَسَنِ بْنِ سَعْدٍ مَوْلَى حَسَنِ بْنِ عَلِيٍّ، عَنْ رَبَاحٍ قَالَ: زَوَّجَنِي أَهْلِي أَمَةً لَهُمْ رُومِيَّةً، فَوَقَعْتُ عَلَيْهَا، فَوَلَدَتْ لِي غُلَامًا أَسْوَدَ مِثْلِي، فَسَمَّيْتُهُ عَبْدَ اللَّهِ، ثُمَّ وَقَعْتُ عَلَيْهَا، فَوَلَدَتْ لِي غُلَامًا أَسْوَدَ مِثْلِي، فَسَمَّيْتُهُ عُبَيْدَ اللَّهِ، ثُمَّ طَبِنَ لَهَا غُلَامٌ لِأَهْلِي رُومِيٌّ، يُقَالُ لَهُ: يُوحَنَّسُ، فَرَاطَنَهَا بِلِسَانِهِ، قَالَ: فَوَلَدَتْ غُلَامًا كَأَنَّهُ وَزَغَةٌ مِنَ الْوَزَغَاتِ، فَقُلْتُ لَهَا: مَا هَذَا؟ قَالَتْ: هُوَ لِيُوحَنَّسَ، قَالَ: فَرُفِعْنَا إِلَى أَمِيرِ الْمُؤْمِنِينَ عُثْمَانَ ، قَالَ مَهْدِيٌّ: أَحْسَبُهُ قَالَ: سَأَلَهُمَا فَاعْتَرَفَا، فَقَالَ: أَتَرْضَيَانِ أَنْ أَقْضِيَ بَيْنَكُمَا بِقَضَاءِ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ؟ قَالَ:" فَإِنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَضَى أَنَّ: الْوَلَدَ لِلْفِرَاشِ، وَلِلْعَاهِرِ الْحَجَرَ". قَالَ مَهْدِيٌّ: وَأَحْسَبُهُ قَالَ: جَلَدَهَا وَجَلَدَهُ، وَكَانَا مَمْلُوكَيْنِ.
رباح کہتے ہیں کہ میرے آقا نے اپنی ایک رومی باندی سے میری شادی کر دی، میں اس کے پاس گیا تو اس سے مجھ جیسا ہی ایک کالا کلوٹا لڑکا پیدا ہو گیا، میں نے اس کا نام عبداللہ رکھ دیا، دوبارہ ایسا موقع آیا تو پھر ایک کالا کلوٹا لڑکا پیدا ہو گیا، میں نے اس کا نام عبیداللہ رکھ دیا۔ اتفاق کی بات ہے کہ میری بیوی پر میرے آقا کا ایک رومی غلام عاشق ہو گیا جس کا نام ”یوحنس“ تھا، اس نے اسے اپنی زبان میں رام کر لیا، چنانچہ اس مرتبہ جو بچہ پیدا ہوا وہ رومیوں کے رنگ کے مشابہ تھا، میں نے اپنی بیوی سے پوچھا کہ یہ کیا ہے؟ اس نے کہا کہ یہ یوحنس کا بچہ ہے، ہم نے یہ معاملہ سیدنا عثمان رضی اللہ عنہ کی خدمت میں پیش کیا، انہوں نے فرمایا «کہ کیا تم اس» بات پر راضی ہو کہ تمہارے درمیان وہی فیصلہ کروں جو نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا تھا؟ نبی صلی اللہ علیہ وسلم کا فیصلہ یہ ہے کہ بچہ بستر والے کا ہو گا اور زانی کے لئے پتھر ہیں۔ [مسند احمد/مُسْنَدُ الْخُلَفَاءِ الرَّاشِدِينَ/حدیث: 416]
حکم دارالسلام: إسناده ضعيف لجهالة رباح وللمرفوع شاهد من حديث أبى هريرة متفق عليه
حدیث نمبر: 417
حَدَّثَنَا عبد الله: حَدَّثَنَا شَيْبَانُ أَبُو مُحَمَّدٍ ، حَدَّثَنَا مَهْدِيُّ بْنُ مَيْمُونٍ ، حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ أَبِي يَعْقُوبَ ، عَنِ الْحَسَنِ بْنِ سَعْدٍ ، عَنْ رَبَاحٍ ، فَذَكَرَ الْحَدِيثَ، قَالَ: فَرَفَعْتُهُمَا إِلَى أَمِيرِ الْمُؤْمِنِينَ عُثْمَانَ بْنِ عَفَّانَ ، فَقَالَ: إِنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَضَى أَنَّ الْوَلَدَ لِلْفِرَاشِ... فَذَكَرَ مِثْلَهُ.
گزشتہ حدیث ایک دوسری سند سے بھی مروی ہے جو عبارت میں گزری۔ [مسند احمد/مُسْنَدُ الْخُلَفَاءِ الرَّاشِدِينَ/حدیث: 417]
حکم دارالسلام: إسناده ضعيف كسابقه
حدیث نمبر: 418
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا أَبُو كَامِلٍ ، حَدَّثَنَا إِبْرَاهِيمُ يَعْنِي ابْنَ سَعْدٍ ، حَدَّثَنَا ابْنُ شِهَابٍ ، عَنْ عَطَاءِ بْنِ يَزِيدَ ، عَنْ حُمْرَانَ ، قَالَ: دَعَا عُثْمَانُ بِمَاءٍ وَهُوَ عَلَى الْمَقَاعِدِ، فَسَكَبَ عَلَى يَمِينِهِ، فَغَسَلَهَا، ثُمَّ أَدْخَلَ يَمِينَهُ فِي الْإِنَاءِ، فَغَسَلَ كَفَّيْهِ ثَلَاثًا، ثُمَّ غَسَلَ وَجْهَهُ ثَلَاثَ مِرَارٍ، وَمَضْمَضَ وَاسْتَنْثَرَ، وَغَسَلَ ذِرَاعَيْهِ إِلَى الْمِرْفَقَيْنِ ثَلَاثَ مَرَّاتٍ، ثُمَّ مَسَحَ بِرَأْسِهِ، ثُمَّ غَسَلَ رِجْلَيْهِ إِلَى الْكَعْبَيْنِ ثَلَاثَ مِرَارٍ، ثُمَّ قَالَ: سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، يَقُولُ:" مَنْ تَوَضَّأَ نَحْوَ وُضُوئِي هَذَا، ثُمَّ صَلَّى رَكْعَتَيْنِ لَا يُحَدِّثُ نَفْسَهُ فِيهِمَا، غُفِرَ لَهُ مَا تَقَدَّمَ مِنْ ذَنْبِهِ".
حمران کہتے ہیں کہ ایک مرتبہ سیدنا عثمان رضی اللہ عنہ بنچ پر بیٹھے ہوئے تھے، انہوں نے پانی منگوایا، سب سے پہلے اسے بائیں ہاتھ پر ڈالا، پھر برتن میں ہاتھ ڈال کر دونوں ہاتھوں کو تین مرتبہ دھویا، پھر تین مرتبہ چہرہ دھویا، کلی بھی کی اور ناک میں پانی بھی ڈالا، تین مرتبہ کہنیوں سمیت بازؤوں کو بھی دھویا، پھر سر کا مسح کر کے تین مرتبہ ٹخنوں سمیت پاؤں دھو لئے اور فرمایا کہ میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو یہ فرماتے ہوئے سنا ہے کہ جو شخص میری طرح ایسا ہی وضو کرے اور دو رکعت نماز اس طرح پڑھے کہ اپنے دل میں خیالات اور وساوس نہ لائے تو اللہ تعالیٰ اس کے گزشتہ تمام گناہ معاف فرما دے گا۔ [مسند احمد/مُسْنَدُ الْخُلَفَاءِ الرَّاشِدِينَ/حدیث: 418]
حکم دارالسلام: إسناده صحيح، خ: 159، م: 226