🏠 👥 🔍 🧩 🅰️ 📌 ↩️

Join Whatsapp Channel
مسند احمد سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
حدیث کتب میں نمبر سے حدیث تلاش کریں:

مسند احمد میں ترقیم شاملہ سے تلاش کل احادیث (27647)
حدیث نمبر لکھیں:
حدیث میں عربی لفظ/الفاظ تلاش کریں
عربی لفظ / الفاظ لکھیں:
حدیث میں اردو لفظ/الفاظ تلاش کریں
اردو لفظ / الفاظ لکھیں:

5. مُسْنَدُ عُثْمَانَ بْنِ عَفَّانَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 439
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا عَبْدُ الصَّمَدِ ، حَدَّثَنَا الْقَاسِمُ يَعْنِي ابْنَ الْفَضْلِ ، حَدَّثَنَا عَمْرُو بْنُ مُرَّةَ ، عَنْ سَالِمِ بْنِ أَبِي الْجَعْدِ ، قَالَ: دَعَا عُثْمَانُ نَاسًا مِنْ أَصْحَابِ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فِيهِمْ عَمَّارُ بْنُ يَاسِرٍ، فَقَالَ: إِنِّي سَائِلُكُمْ، وَإِنِّي أُحِبُّ أَنْ تَصْدُقُونِي، نَشَدْتُكُمْ اللَّهَ: أَتَعْلَمُونَ أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ كَانَ يُؤْثِرُ قُرَيْشًا عَلَى سَائِرِ النَّاسِ، وَيُؤْثِرُ بَنِي هَاشِمٍ عَلَى سَائِرِ قُرَيْشٍ؟ فَسَكَتَ الْقَوْمُ، فَقَالَ عُثْمَانُ: لَوْ أَنَّ بِيَدِي مَفَاتِيحَ الْجَنَّةِ لَأَعْطَيْتُهَا بَنِي أُمَيَّةَ حَتَّى يَدْخُلُوا مِنْ عِنْدِ آخِرِهِمْ، فَبَعَثَ إِلَى طَلْحَةَ، وَالزُّبَيْرِ، فَقَالَ عُثْمَانُ: أَلَا أُحَدِّثُكُمَا عَنْهُ، يَعْنِي عَمَّارًا؟ أَقْبَلْتُ مَعَ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ آخِذًا بِيَدِي نَتَمَشَّى فِي الْبَطْحَاءِ، حَتَّى أَتَى عَلَى أَبِيهِ وَأُمِّهِ وَعَلَيْهِ يُعَذَّبُونَ، فَقَالَ أَبُو عَمَّارٍ: يَا رَسُولَ اللَّهِ، الدَّهْرَ هَكَذَا؟ فَقَالَ لَهُ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ:" اصْبِرْ"، ثُمَّ قَالَ:" اللَّهُمَّ اغْفِرْ لِآلِ يَاسِرٍ، وَقَدْ فَعَلْتُ".
سالم بن ابی الجعد رحمہ اللہ کہتے ہیں کہ ایک مرتبہ سیدنا عثمان رضی اللہ عنہ نے چند صحابہ کرام رضی اللہ عنہم کو بلایاجن میں سیدنا عمار بن یاسر رضی اللہ عنہ بھی تھے اور فرمایا کہ میں آپ لوگوں سے کچھ سوال کرنا چاہتا ہوں اور آپ سے چند باتوں کی تصدیق کروانا چاہتا ہوں، میں آپ کو اللہ کی قسم دے کر پوچھتا ہوں کیا آپ لوگ نہیں جانتے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم دوسرے لوگوں کی نسبت قریش کو ترجیح دیتے تھے اور بنو ہاشم کو تمام قریش پر؟ لوگ خاموش رہے۔ سیدنا عثمان رضی اللہ عنہ نے فرمایا کہ اگر میرے ہاتھ میں جنت کی چابیاں ہوں تو میں وہ بنو امیہ کو دے دوں تاکہ وہ سب کے سب جنت میں داخل ہو جائیں (قرابت داروں سے تعلق ہونا ایک فطری چیز ہے، یہ دراصل اس سوال کا جواب تھا جو لوگ سیدنا عثمان رضی اللہ عنہ پر اقرباء پروری کے سلسلے میں کرتے تھے) اس کے بعد انہوں نے سیدنا طلحہ رضی اللہ عنہ اور سیدنا زبیر رضی اللہ عنہ کو مخاطب کر کے فرمایا کہ میں آپ کو ان کی یعنی سیدنا عمار رضی اللہ عنہ کی کچھ باتیں بتاؤں؟ میں نبی صلی اللہ علیہ وسلم کا ہاتھ اپنے ہاتھ میں پکڑے ہوئے چلتا چلتا وادی بطحاء میں پہنچا، یہاں تک کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم ان کے والدین کے پاس جا پہنچے، وہاں انہیں مختلف سزائیں دی جا رہی تھیں، عمار کے والد نے نبی صلی اللہ علیہ وسلم کو دیکھ کر عرض کیا: یا رسول اللہ! کیا ہم ہمیشہ اسی طرح رہیں گے؟ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا تھا: صبر کرو، پھر دعاء فرمائی اے اللہ! آل یاسر کی مغفرت فرما، میں بھی اب صبر کر رہا ہوں۔ [مسند احمد/مُسْنَدُ الْخُلَفَاءِ الرَّاشِدِينَ/حدیث: 439]

حکم دارالسلام: إسناده ضعيف لانقطاعه، سالم بن أبى الجعد لم يدرك عثمان. ولقوله : (اللهم اغفر لآل ياسر...) شاهد صحيح من حديث جابر
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 440
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا عَبْدُ الصَّمَدِ ، حَدَّثَنَا حُرَيْثُ بْنُ السَّائِبِ ، قَالَ: سَمِعْتُ الْحَسَنَ ، يَقُولُ: حَدَّثَنِي حُمْرَانُ ، عَنْ عُثْمَانَ بْنِ عَفَّانَ ، أَنّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، قَالَ:" كُلُّ شَيْءٍ سِوَى ظِلِّ بَيْتٍ، وَجِلْفِ الْخُبْزِ، وَثَوْبٍ يُوَارِي عَوْرَتَهُ، وَالْمَاءِ، فَمَا فَضَلَ عَنْ هَذَا فَلَيْسَ لِابْنِ آدَمَ فِيهِ حَقٌّ".
سیدنا عثمان رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا: گھر کے سائے، خشک روٹی کے ٹکڑے، شرمگاہ کو چھپانے کی بقدر کپڑے اور پانی کے علاوہ جتنی بھی چیزیں ہیں ان میں سے کسی ایک میں بھی انسان کا استحقاق نہیں ہے۔ [مسند احمد/مُسْنَدُ الْخُلَفَاءِ الرَّاشِدِينَ/حدیث: 440]

حکم دارالسلام: إسناده ضعيف وهو منكر
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 441
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ بَكْرٍ ، حَدَّثَنَا حُمَيْدٌ الطَّوِيلُ ، عَنْ شَيْخٍ مِنْ ثَقِيفٍ ذَكَرَهُ حُمَيْدٌ بِصَلَاحٍ، ذَكَرَ أَنَّ عَمَّهُ أخْبَرَهُ: أَنَّهُ رَأَى عُثْمَانَ بْنَ عَفَّانَ جَلَسَ عَلَى الْبَابِ الثَّانِي مِنْ مَسْجِدِ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَدَعَا بِكَتِفٍ فَتَعَرَّقَهَا، ثُمَّ قَامَ فَصَلَّى، وَلَمْ يَتَوَضَّأْ، ثُمَّ قَالَ:" جَلَسْتُ مَجْلِسَ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، وَأَكَلْتُ مَا أَكَلَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، وَصَنَعْتُ مَا صَنَعَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ".
ایک مرتبہ ایک شخص نے سیدنا عثمان رضی اللہ عنہ کو مسجد کے باب ثانی کے پاس بیٹھا ہوا دیکھا، انہوں نے شانے کا گوشت منگوایا اور اس کی ہڈی سے گوشت اتار کر کھانے لگے، پھر یوں ہی کھڑے ہو کر تازہ وضو کئے بغیر نماز پڑھ لی اور فرمایا: میں نبی صلی اللہ علیہ وسلم کی طرح بیٹھا، نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے جو کھایا، وہی کھایا اور جو نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے کیا، وہی میں نے بھی کیا۔ [مسند احمد/مُسْنَدُ الْخُلَفَاءِ الرَّاشِدِينَ/حدیث: 441]

حکم دارالسلام: صحيح لغيره، وهذا إسناد ضعيف لجهالة الشيخ من ثقيف وعمه
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 442
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا أَبُو سَعِيدٍ مَوْلَى بَنِي هَاشِمٍ، حَدَّثَنَا ابْنُ لَهِيعَةَ ، حَدَّثَنَا زُهْرَةُ بْنُ مَعْبَدٍ ، عَنْ أَبِي صَالِحٍ مَوْلَى عُثْمَانَ، أَنَّهُ حَدَّثَهُ، قَالَ: سَمِعْتُ عُثْمَانَ بِمِنًى، يَقُولُ: يَا أَيُّهَا النَّاسُ، إِنِّي أُحَدِّثُكُمْ حَدِيثًا سَمِعْتُهُ مِنْ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، يَقُولُ:" رِبَاطُ يَوْمٍ فِي سَبِيلِ اللَّهِ، أَفْضَلُ مِنْ أَلْفِ يَوْمٍ فِيمَا سِوَاهُ، فَلْيُرَابِطْ امْرُؤٌ كَيْفَ شَاءَ"، هَلْ بَلَّغْتُ؟ قَالُوا: نَعَمْ، قَالَ: اللَّهُمَّ اشْهَدْ.
ایک مرتبہ ایام حج میں سیدنا عثمان رضی اللہ عنہ نے منیٰ کے میدان میں فرمایا: لوگو! میں تم سے ایک حدیث بیان کرتا ہوں جو میں نے نبی صلی اللہ علیہ وسلم سے سنی ہے کہ اللہ کی راہ میں ایک دن کی چوکیداری عام حالات میں ایک ہزار دن سے افضل ہے، اس لئے جو شخص جس طرح چاہے، اس میں حصہ لے، یہ کہہ کر آپ نے فرمایا: کیا میں نے پیغام پہنچا دیا؟ لوگوں نے کہا: جی ہاں! فرمایا: اے اللہ تو گواہ رہ۔ [مسند احمد/مُسْنَدُ الْخُلَفَاءِ الرَّاشِدِينَ/حدیث: 442]

حکم دارالسلام: حديث حسن، عبدالله بن لهيعة قد توبع
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 443
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا أَبُو سَعِيدٍ يَعْنِي مَوْلَى بَنِي هَاشِمٍ، حَدَّثَنَا عِكْرِمَةُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ الْبَاهِلِيُّ ، حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ أَبِي ذُبَابٍ ، عَنْ أَبِيهِ : أَنَّ عُثْمَانَ بْنَ عَفَّانَ صَلَّى بِمِنًى أَرْبَعَ رَكَعَاتٍ، فَأَنْكَرَهُ النَّاسُ عَلَيْهِ، فَقَالَ: يَا أَيُّهَا النَّاسُ، إِنِّي تَأَهَّلْتُ بِمَكَّةَ مُنْذُ قَدِمْتُ، وَإِنِّي سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، يَقُولُ:" مَنْ تَأَهَّلَ فِي بَلَدٍ، فَلْيُصَلِّ صَلَاةَ الْمُقِيمِ".
ایک مرتبہ ایام حج میں سیدنا عثمان رضی اللہ عنہ نے منیٰ میں قصر کی بجائے پوری چار رکعتیں پڑھا دیں، لوگوں کو اس پر تعجب ہوا، سیدنا عثمان رضی اللہ عنہ نے فرمایا: لوگو! میں مکہ مکرمہ میں آ کر مقیم ہو گیا تھا اور میں نے نبی صلی اللہ علیہ وسلم کو فرماتے ہوئے سنا ہے کہ جو شخص کسی شہر میں مقیم ہو جائے، وہ مقیم والی نماز پڑھے گا۔ [مسند احمد/مُسْنَدُ الْخُلَفَاءِ الرَّاشِدِينَ/حدیث: 443]

حکم دارالسلام: إسناده ضعيف لجهالة عكرمة بن إبراهيم وعبدالرحمن بن أبى ذباب
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 444
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا أَبُو سَعِيدٍ مَوْلَى بَنِي هَاشِمٍ، حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ لَهِيعَةَ ، حَدَّثَنَا مُوسَى بْنُ وَرْدَانَ ، قَالَ: سَمِعْتُ سَعِيدَ بْنَ الْمُسَيَّبِ ، يَقُولُ: سَمِعْتُ عُثْمَانَ يَخْطُبُ عَلَى الْمِنْبَرِ، وَهُوَ يَقُولُ: كُنْتُ أَبْتَاعُ التَّمْرَ مِنْ بَطْنٍ مِنَ الْيَهُودِ يُقَالُ لَهُمْ: بَنُو قَيْنُقَاعَ، فَأَبِيعُهُ بِرِبْحٍ، فَبَلَغَ ذَلِكَ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَقَالَ:" يَا عُثْمَانُ، إِذَا اشْتَرَيْتَ فَاكْتَلْ، وَإِذَا بِعْتَ فَكِلْ".
سعید بن مسیب رحمہ اللہ کہتے ہیں کہ میں نے سیدنا عثمان رضی اللہ عنہ کو منبر پر خطبہ دیتے ہوئے سنا کہ وہ کہہ رہے تھے میں یہودیوں کے ایک خاندان اور قبیلہ سے جنہیں بنو قینقاع کہا جاتا تھا، کھجوریں خریدتا تھا اور اپنا منافع رکھ کر آگے بیچ دیتا تھا، نبی صلی اللہ علیہ وسلم کو معلوم ہوا تو فرمایا: عثمان! جب خریدا کرو تو اسے تول لیا کرو اور جب بیچا کرو تو تول کر بیچا کرو۔ [مسند احمد/مُسْنَدُ الْخُلَفَاءِ الرَّاشِدِينَ/حدیث: 444]

حکم دارالسلام: حديث حسن، فإنه من قديم حديث ابن لهيعة
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 445
گزشتہ حدیث اس دوسری سند سے بھی مروی ہے۔ [مسند احمد/مُسْنَدُ الْخُلَفَاءِ الرَّاشِدِينَ/حدیث: 445]

حکم دارالسلام: حسن، هو مكرر ما قبله
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 446
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا عُبَيْدُ بْنُ أَبِي قُرَّةَ ، حَدَّثَنَا ابْنُ أَبِي الزِّنَادِ ، عَنْ أَبِيهِ ، عَنْ أَبَانَ بْنِ عُثْمَانَ ، عَنْ أَبِيهِ ، قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ:" مَنْ قَالَ: بِسْمِ اللَّهِ الَّذِي لَا يَضُرُّ مَعَ اسْمِهِ شَيْءٌ فِي الْأَرْضِ وَلَا فِي السَّمَاءِ وَهُوَ السَّمِيعُ الْعَلِيمُ، لَمْ يَضُرَّهُ شَيْءٌ".
سیدنا عثمان رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا کہ جو شخص یہ دعا پڑھ لیا کرے اسے کوئی چیز نقصان نہ پہنچا سکے گی «بسم الله الذى لا يضر مع اسمه شيء فى الارض ولا فى السماء وهو السميع العليم» ۔ [مسند احمد/مُسْنَدُ الْخُلَفَاءِ الرَّاشِدِينَ/حدیث: 446]

حکم دارالسلام: إسناده حسن
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 447
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا عَبْدُ الْوَهَّابِ الْخَفَّافُ ، حَدَّثَنَا سَعِيدٌ ، عَنْ قَتَادَةَ ، عَنْ مُسْلِمِ بْنِ يَسَارٍ ، عَنْ حُمْرَانَ بْنِ أَبَانَ ، أَنَّ عُثْمَانَ بْنَ عَفَّانَ ، قَالَ: سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، يَقُولُ:" إِنِّي لَأَعْلَمُ كَلِمَةً لَا يَقُولُهَا عَبْدٌ حَقًّا مِنْ قَلْبِهِ، إِلَّا حُرِّمَ عَلَى النَّارِ" فَقَالَ لَهُ عُمَرُ بْنُ الْخَطَّابِ : أَنَا أُحَدِّثُكَ مَا هِيَ؟ هِيَ كَلِمَةُ الْإِخْلَاصِ الَّتِي أَعَزَّ اللَّهُ تَبَارَكَ وَتَعَالَى بِهَا مُحَمَّدًا صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَأَصْحَابَهُ، وَهِيَ كَلِمَةُ التَّقْوَى الَّتِي أَلَاصَ عَلَيْهَا نَبِيُّ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ عَمَّهُ أَبَا طَالِبٍ عِنْدَ الْمَوْتِ: شَهَادَةُ أَنْ لَا إِلَهَ إِلَّا اللَّهُ.
سیدنا عثمان رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو ایک مرتبہ فرماتے ہوئے سنا کہ میں ایک ایسا کلمہ جانتا ہوں کہ جو بندہ بھی اسے دل سے حق سمجھ کر کہے گا، اس پر جہنم کی آگ حرام ہو جائے گی، سیدنا عمر رضی اللہ عنہ نے ان سے فرمایا کہ میں آپ کو بتاؤں، وہ کلمہ کون سا ہے؟ وہ کلمہ اخلاص ہے جو اللہ نے اپنے پیغمبر اور ان کے صحابہ رضی اللہ عنہم پر لازم کیا تھا، یہ وہی کلمہ تقویٰ ہے جو نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنے چچا ابوطالب کے سامنے ان کی موت کے وقت بار بار پیش کیا تھا، یعنی اللہ کی وحدانیت کی گواہی۔ [مسند احمد/مُسْنَدُ الْخُلَفَاءِ الرَّاشِدِينَ/حدیث: 447]

حکم دارالسلام: إسناده قوي
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 448
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا عَبْدُ الصَّمَدِ ، حَدَّثَنِي أَبِي ، حَدَّثَنَا الْحُسَيْنُ يَعْنِي الْمُعَلِّمَ ، عَنْ يَحْيَى يَعْنِي ابْنَ أَبِي كَثِيرٍ ، أَخْبَرَنِي أَبُو سَلَمَةَ ، أَنَّ عَطَاءَ بْنَ يَسَارٍ أخْبَرَهُ، أَنَّ زَيْدَ بْنَ خَالِدٍ الْجُهَنِيَّ أَخْبَرَهُ: أَنَّهُ سَأَلَ عُثْمَانَ بْنَ عَفَّانَ، قُلْتُ: أَرَأَيْتَ إِذَا جَامَعَ امْرَأَتَهُ وَلَمْ يُمْنِ؟ فَقَالَ عُثْمَانُ :" يَتَوَضَّأُ كَمَا يَتَوَضَّأُ لِلصَّلَاةِ، وَيَغْسِلُ ذَكَرَهُ"، وَقَالَ عُثْمَانُ: سَمِعْتُهُ مِنْ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَسَأَلْتُ عَنْ ذَلِكَ عَلِيَّ بْنَ أَبِي طَالِبٍ ، وَالزُّبَيْرَ بْنَ الْعَوَّامِ ، وَطَلْحَةَ بْنَ عُبَيْدِ اللَّهِ ، وَأُبَيَّ بْنَ كَعْبٍ ، فَأَمَرُوهُ بِذَلِكَ.
سیدنا زید بن خالد جہنی رضی اللہ عنہ نے سیدنا عثمان رضی اللہ عنہ سے ایک مرتبہ یہ سوال پوچھا کہ اگر کوئی آدمی اپنی بیوی سے مباشرت کرے لیکن انزال نہ ہو تو کیا حکم ہے؟ انہوں نے فرمایا کہ جس طرح نماز کے لئے وضو کرتا ہے، ایسا ہی وضو کر لے اور اپنی شرمگاہ کو دھو لے اور فرمایا کہ میں نے نبی صلی اللہ علیہ وسلم کو یہی فرماتے ہوئے سنا ہے، راوی کہتے ہیں کہ پھر میں نے یہی سوال سیدنا علی، سیدنا زبیر، سیدنا طلحہ اور سیدنا ابی بن کعب رضی اللہ عنہم سے پوچھا: تو انہوں نے بھی یہی جواب دیا۔ [مسند احمد/مُسْنَدُ الْخُلَفَاءِ الرَّاشِدِينَ/حدیث: 448]

حکم دارالسلام: إسناده صحيح، خ: 179، م: 347، وهذا الحديث منسوخ بحديث أبى بن كعب وأبي هريرة وعائشة
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں