🏠 👥 🔍 🧩 🅰️ 📌 ↩️

مسند احمد سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
حدیث کتب میں نمبر سے حدیث تلاش کریں:

مسند احمد میں ترقیم شاملہ سے تلاش کل احادیث (27647)
حدیث نمبر لکھیں:
حدیث میں عربی لفظ/الفاظ تلاش کریں
عربی لفظ / الفاظ لکھیں:
حدیث میں اردو لفظ/الفاظ تلاش کریں
اردو لفظ / الفاظ لکھیں:

17. حَدِیث سَعد مَوْلَى أَبِي بَكْرٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُمَا
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 1716
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا سُلَيْمَانُ بْنُ دَاوُدَ يَعْنِي أَبَا دَاوُدَ الطَّيَالِسِيَّ , حَدَّثَنَا أَبُو عَامِرٍ الْخَزَّازُ ، عَنِ الْحَسَنِ ، عَنْ سَعْدٍ مَوْلَى أَبِي بَكْرٍ، قَالَ: قَدَّمْتُ بَيْنَ يَدَيْ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ تَمْرًا فَجَعَلُوا يَقْرُنُونَ، فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ:" لَا تَقْرُنُوا".
سیدنا سعد رضی اللہ عنہ - جو سیدنا ابوبکر صدیق رضی اللہ عنہ کے آزاد کردہ غلام ہیں - کہتے ہیں کہ ایک مرتبہ میں نے نبی صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں کچھ کھجوریں پیش کیں، لوگ ایک ساتھ دو دو تین تین کھجوریں اٹھا اٹھا کر کھانے لگے، نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: اس طرح ملا کر نہ کھاؤ (بلکہ ایک ایک کر کے کھاؤ)۔ [مسند احمد/ مسند الصحابة بعد العشرة/حدیث: 1716]

حکم دارالسلام: صحيح لغيره، وهذا إسناد ضعيف، أبو عامر الخزاز سيء الحفظ والحسن البصري مدلس وقد عنعن.
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 1717
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا سُلَيْمَانُ بْنُ دَاوُدَ ، حَدَّثَنَا أَبُو عَامِرٍ ، عَنِ الْحَسَنِ ، عَنْ سَعْدٍ مَوْلَى أَبِي بَكْرٍ، وَكَانَ يَخْدُمُ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، وَكَانَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يُعْجِبُهُ خِدْمَتُهُ، فَقَالَ:" يَا أَبَا بَكْرٍ، أَعْتِقْ سَعْدًا"، فَقَالَ: يَا رَسُولَ اللَّهِ، مَا لَنَا مَاهِنٌ غَيْرُهُ، قَالَ: فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ:" أَعْتِقْ سَعْدًا أَتَتْكَ الرِّجَالُ، أتَتْكَ الرِّجَالُ"، قَالَ أَبُو دَاوُدَ: يَعْنِي: السَّبْيَ.
سیدنا سعد رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ وہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت کیا کرتے تھے اور نبی صلی اللہ علیہ وسلم ان کی خدمت سے بہت خوش ہوتے تھے، اس لئے ایک مرتبہ سیدنا ابوبکر صدیق رضی اللہ عنہ سے فرمایا: ابوبکر! سعد کو آزاد کر دو۔ انہوں نے عرض کیا: یا رسول اللہ! ہمارے پاس گھر کے کام کاج کرنے والا کوئی اور نہیں ہے؟ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: تم سعد کو آزاد کر دو، عنقریب تمہارے پاس قیدی آیا چاہتے ہیں۔ [مسند احمد/ مسند الصحابة بعد العشرة/حدیث: 1717]

حکم دارالسلام: إسناده ضعيف، لضعف أبى عامر الخزاز ولعنعنة الحسن.
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں