مسند احمد سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
128. حَدِیث حَكِیمِ بنِ حِزَام عَنِ النَّبِیِّ صَلَّى اللَّه عَلَیهِ وَسَلَّمَ
حدیث نمبر: 15573
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا هُشَيْمٌ , قَالَ: أَخْبَرَنَا أَبُو بِشْرٍ ، عَنْ يُوسُفَ بْنِ مَاهَكَ , عَنْ حَكِيمِ بْنِ حِزَامٍ ، قَالَ: قُلْتُ: يَا رَسُولَ اللَّهِ، يَأْتِينِي الرَّجُلُ يَسْأَلُنِي الْبَيْعَ، لَيْسَ عِنْدِي مَا أَبِيعُهُ مِنْهُ، ثُمَّ أَبِيعُهُ مِنَ السُّوقِ؟ فَقَالَ:" لَا تَبِعْ مَا لَيْسَ عِنْدَكَ".
سیدنا حکیم سے مروی ہے کہ ایک مرتبہ میں نے بارگاہ نبوت میں عرض کیا: ہے یا رسول اللہ! میرے پاس ایک آدمی آتا ہے اور مجھ سے کوئی چیز خریدنا چاہتا ہے لیکن اس وقت میرے پاس وہ چیز نہیں ہو تی کیا میں اسے بازار سے لے کر بیچ سکتا ہوں نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: جو چیز تمہارے پاس نہیں ہے اسے مت بیچو۔ [مسند احمد/مسنَد المَكِّیِّینَ/حدیث: 15573]
حکم دارالسلام: صحيح لغيره، وهذا إسناد ضعيف لانقطاعه، يوسف بن ماهك لم يسمع من حكيم بن حزام
حدیث نمبر: 15574
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا سُفْيَانُ ، عَنِ الزُّهْرِيِّ ، سَمِعَ عُرْوَةَ , وَسَعِيدَ بْنَ الْمُسَيَّبِ ، يقولان: سمعنا حكيم بن حزام , يَقُولُ سَأَلْتُ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَأَعْطَانِي، ثُمَّ سَأَلْتُهُ فَأَعْطَانِي، ثُمَّ سَأَلْتُهُ فَأَعْطَانِي، ثُمَّ قَالَ:" إِنَّ هَذَا الْمَالَ خَضِرَةٌ حُلْوَةٌ، فَمَنْ أَخَذَهُ بِحَقِّهِ بُورِكَ لَهُ فِيهِ، وَمَنْ أَخَذَهُ بِإِشْرَافِ نَفْسٍ لَمْ يُبَارَكْ لَهُ فِيهِ، وَكَانَ كَالَّذِي يَأْكُلُ وَلَا يَشْبَعُ، وَالْيَدُ الْعُلْيَا خَيْرٌ مِنَ الْيَدِ السُّفْلَى".
سیدنا حکیم بن حزام سے مروی ہے کہ ایک مرتبہ میں نے نبی صلی اللہ علیہ وسلم سے کچھ مال کی درخواست کی اور کئی مرتبہ کی نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: اے حکیم یہ مال سرسبز و شیریں ہوتا ہے جو شخص اس کے حق کے ساتھ وصول کرتا ہے اس کے لئے اس میں برکت ڈال دی جاتی ہے اور جو شخص اشراف نفس کے ساتھ اسے حاصل کرتا ہے اس کے لیے اس میں برکت نہیں ڈالی جاتی اور وہ شخص اس کی طرح ہوتا ہے جو کھاتا ہے اور سیراب نہ ہواور اوپر والا ہاتھ نیچے والے ہاتھ سے بہترہوتا ہے۔ [مسند احمد/مسنَد المَكِّیِّینَ/حدیث: 15574]
حکم دارالسلام: اسناده صحيح، خ: 6441، م: 1035
حدیث نمبر: 15575
(حديث مرفوع) قُرِئَ عَلَى سُفْيَانَ , سَمِعْتُ هِشَامًا ، عَنْ أَبِيهِ , عَنْ حَكِيمِ بْنِ حِزَامٍ ، قَالَ: أَعْتَقْتُ فِي الْجَاهِلِيَّةِ أَرْبَعِينَ مُحَرَّرًا , فَقَالَ: رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ:" أَسْلَمْتَ عَلَى مَا سَبَقَ لَكَ مِنْ خَيْرٍ".
سیدنا حکیم بن حزام سے مروی ہے کہ میں نے زمانہ جاہلیت میں چالیس غلام آزاد کئے تھے نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: تم نے قبل ازیں نیکی کے جتنے کام کئے ان کے ساتھ تم مسلمان ہوئے (ان کا اجروثواب تمہیں ضرورملے گا)۔ [مسند احمد/مسنَد المَكِّیِّینَ/حدیث: 15575]
حکم دارالسلام: اسناده صحيح، خ: 1436، م: 123
حدیث نمبر: 15576
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا إِسْمَاعِيلُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ ، حَدَّثَنَا سَعِيدٌ ، عَنْ قَتَادَةَ ، عَنْ أَبِي الْخَلِيلِ ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ الْحَارِثِ الْهَاشِمِيِّ عَنْ حَكِيمِ بْنِ حِزَامٍ ، قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ:" الْبَيِّعَانِ بِالْخِيَارِ مَا لَمْ يَتَفَرَّقَا، فَإِنْ صَدَقَا وَبَيَّنَا رُزِقَا بَرَكَةَ بَيْعِهِمَا، وَإِنْ كَذَبَا وَكَتَمَا مُحِقَ بَرَكَةُ بَيْعِهِمَا".
سیدنا حکیم بن حزام سے مروی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا: بائع (بچنے والا) اور مشتری (خریدنے والا اور بیچنے والا) کو اس وقت تک اختیار رہتا ہے جب تک وہ دونوں جدا نہ ہو جائیں اور اگر وہ دونوں سچ بولیں اور ہر چیز واضح کر دیں تو انہیں اس بیع کی برکت نصیب ہو گی اور اگر وہ جھوٹ بولیں اور کچھ چھپائیں تو ان سے بیع کی برکت ختم کر دی جائے گی۔ [مسند احمد/مسنَد المَكِّیِّینَ/حدیث: 15576]
حکم دارالسلام: إسناده صحيح، خ: 2108، م: 1532
حدیث نمبر: 15577
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا يَحْيَى بْنُ سَعِيدٍ ، قَالَ: حَدَّثَنَا عَمْرُو بْنُ عُثْمَانَ ، قَالَ: سَمِعْتُ مُوسَى بْنَ طَلْحَةَ , أَنَّ حَكِيمَ بْنَ حِزَامٍ حَدَّثَهُ , قَالَ: قَالَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ:" خَيْرُ الصَّدَقَةِ أَوْ أَفْضَلُ الصَّدَقَةِ مَا أَبْقَتْ غِنًى، وَالْيَدُ الْعُلْيَا خَيْرٌ مِنَ الْيَدِ السُّفْلَى، وَابْدَأْ بِمَنْ تَعُولُ".
سیدنا حکیم سے مروی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا: بہترین صدقہ وہ ہوتا ہے جو کچھ مالداری باقی رکھ کر کیا جائے اوپروالا ہاتھ نیچے والے ہاتھ سے بہتر ہوتا ہے تم صدقہ خیرات میں ان لوگوں سے آغاز کر و جو تمہاری ذمہ دار میں ہوں۔ [مسند احمد/مسنَد المَكِّیِّینَ/حدیث: 15577]
حکم دارالسلام: اسناده صحيح، خ: 1427، م: 1034
حدیث نمبر: 15578
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا ابْنُ نُمَيْرٍ ، أَخْبَرَنَا هِشَامُ بْنُ عُرْوَةَ ، عَنْ أَبِيهِ , عَنْ حَكِيمِ بْنِ حِزَامٍ ، قَالَ: سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَقُولُ:" الْيَدُ الْعُلْيَا خَيْرٌ مِنَ الْيَدِ السُّفْلَى، وَلْيَبْدَأْ أَحَدُكُمْ بِمَنْ يَعُولُ، وَخَيْرُ الصَّدَقَةِ مَا كَانَ عَنْ ظَهْرِ غِنًى، وَمَنْ يَسْتَغْنِ يُغْنِهِ اللَّهُ، وَمَنْ يَسْتَعْفِفْ يُعِفَّهُ اللَّهُ"، فَقُلْتُ وَمِنْكَ يَا رَسُولَ اللَّهِ؟ قَالَ:" وَمِنِّي" قَالَ حَكِيمٌ: قُلْتُ لَا تَكُونُ يَدِي تَحْتَ يَدِ رَجُلٍ مِنَ الْعَرَبِ أَبَدًا.
سیدنا حکیم سے مروی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا: اوپروالا ہاتھ نیچے والے ہاتھ سے بہتر ہوتا ہے تم صدقہ خیرات میں ان لوگوں سے آغاز کر و جو تمہاری ذمہ دار میں ہوں۔ اور جو شخص استغناء کرتا ہے اللہ اسے مستغنی کر دیتا ہے جو بچنا چاہتا ہے اللہ اسے بچالیتا ہے۔ [مسند احمد/مسنَد المَكِّیِّینَ/حدیث: 15578]
حکم دارالسلام: اسناده صحيح، خ: 1427، م: 1034
حدیث نمبر: 15579
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا وَكِيعٌ ، حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ الشُّعَيْثِيُّ ، عَنِ الْعَبَّاسِ بْنِ عَبْدِ الرَّحْمَنِ الْمَدَنِيِّ , عَنْ حَكِيمِ بْنِ حِزَامٍ , قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ:" لَا تُقَامُ الْحُدُودُ فِي الْمَسَاجِدِ، وَلَا يُسْتَقَادُ فِيهَا".
سیدنا حکیم بن حزام سے مروی ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا: مسجدوں میں سزائیں جاری نہ کی جائیں اور نہ ہی ان میں قصاص لیا جائے۔ [مسند احمد/مسنَد المَكِّیِّینَ/حدیث: 15579]
حکم دارالسلام: إسناده ضعيف لجهالة العباس بن عبدالرحمن
حدیث نمبر: 15580
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا حَجَّاجٌ ، حَدَّثَنَا الشُّعَيْثِيُّ ، عَنْ زُفَرَ بْنِ وَثِيمَةَ , عَنْ حَكِيمِ بْنِ حِزَامٍ ، قَالَ:" الْمَسَاجِدُ لَا يُنْشَدُ فِيهَا الْأَشْعَارُ، وَلَا تُقَامُ فِيهَا الْحُدُودُ، وَلَا يُسْتَقَادُ فِيهَا" , قَالَ أَبِي: لَمْ يَرْفَعْهُ , يَعْنِي: حَجَّاجًا.
سیدنا حکیم بن حزام سے مروی ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا: مسجدوں میں اشعار نہ پڑھے جائیں سزائیں جاری نہ کی جائیں اور نہ ہی ان میں قصاص لیا جائے۔ [مسند احمد/مسنَد المَكِّیِّینَ/حدیث: 15580]
حکم دارالسلام: إسناده ضعيف لانقطاعه ، زفر بن وثيمة لم يلق حكيم بن حزام