🏠 👥 🔍 🧩 🅰️ 📌 ↩️

مسند احمد سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
حدیث کتب میں نمبر سے حدیث تلاش کریں:

مسند احمد میں ترقیم شاملہ سے تلاش کل احادیث (27647)
حدیث نمبر لکھیں:
حدیث میں عربی لفظ/الفاظ تلاش کریں
عربی لفظ / الفاظ لکھیں:
حدیث میں اردو لفظ/الفاظ تلاش کریں
اردو لفظ / الفاظ لکھیں:

132. حَدِیث مَالِكِ بنِ الحوَیرِثِ رَضِیَ اللَّه تَعَالَى عَنه
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 15598
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا إِسْمَاعِيلُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ ، حَدَّثَنَا أَيُّوبُ ، عَنْ أَبِي قِلَابَةَ , عَنْ مَالِكِ بْنِ الْحُوَيْرِثِ , قَالَ: أَتَيْنَا رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَنَحْنُ شَبَبَةٌ مُتَقَارِبُونَ، فَأَقَمْنَا مَعَهُ عِشْرِينَ لَيْلَةً، قَالَ: وَكَانَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ رَحِيمًا رَفِيقًا، فَظَنَّ أَنَّا قَدْ اشْتَقْنَا أَهْلَنَا، فَسَأَلَنَا عَمَّنْ تَرَكْنَا فِي أَهْلِنَا، فَأَخْبَرْنَاهُ، فَقَالَ:" ارْجِعُوا إِلَى أَهْلِيكُمْ، فَأَقِيمُوا فِيهِمْ، وَعَلِّمُوهُمْ، وَمُرُوهُمْ إِذَا حَضَرَتْ الصَّلَاةُ، فَلْيُؤَذِّنْ لَكُمْ أَحَدُكُمْ، ثُمَّ لِيَؤُمَّكُمْ أَكْبَرُكُمْ".
سیدنا مالک بن حویرث سے مروی ہے کہ ہم چند نوجوان جو تقریبا ہم عمر تھے نبی صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں حاضر ہوئے اور بیس راتیں اپ کے یہاں قیام پذیر رہے نبی صلی اللہ علیہ وسلم بڑے مہربان اور نرم دل تھے آپ نے محسوس کیا ہمیں اپنے گھروالوں سے ملنے کا اشتیاق پیداہو رہا ہے تو آپ نے ہم سے پوچھا کہ اپنے پیچھے گھر میں کسے چھوڑ کر آئے ہو ہم نے بتادیا نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: اب تم اپنے گھر والوں کے پاس لوٹ جاؤ یہیں پر رہواور انہیں تعلیم دو اور انہیں بتاؤ کہ جب نماز کا وقت آ جائے تو ایک شخص کو اذان دینی چاہیے اور جو سب سے بڑا ہواسے امامت کر نی چاہیے۔ [مسند احمد/مسنَد المَكِّیِّینَ/حدیث: 15598]

حکم دارالسلام: إسناده صحيح، خ: 6008 ،م: 674
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 15599
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا إِسْمَاعِيلُ ، حَدَّثَنَا أَيُّوبُ ، عَنْ أَبِي قِلَابَةَ , قَالَ: جَاءَ أَبُو سُلَيْمَانَ مَالِكُ بْنُ الْحُوَيْرِثِ إِلَى مَسْجِدِنَا، فَقَالَ:" وَاللَّهِ إِنِّي لَأُصَلِّي وَمَا أُرِيدُ الصَّلَاةَ، وَلَكِنِّي أُرِيدُ أَنْ أُرِيَكُمْ كَيْفَ رَأَيْتُ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يُصَلِّي، قَالَ: فَقَعَدَ فِي الرَّكْعَةِ الْأُولَى حِينَ رَفَعَ رَأْسَهُ مِنَ السَّجْدَةِ الْأَخِيرَةِ، ثُمَّ قَامَ".
ابوقلابہ کہتے ہیں کہ ایک مرتبہ ہماری مسجد میں ابوسلیمان مالک بن حویرث تشریف لائے اور فرمایا کہ تمہیں نماز پڑھ کر دکھاتا ہوں مقصد نماز پڑھنا نہیں ہے بلکہ تمہیں دکھانا ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم کس طرح نماز پڑھتے تھے چنانچہ پہلی رکعت میں دوسرے سجدے سے سر اٹھانے کے بعد وہ کچھ دیر بیٹھے پھر کھڑے ہوئے۔ [مسند احمد/مسنَد المَكِّیِّینَ/حدیث: 15599]

حکم دارالسلام: إسناده صحيح
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 15600
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ أَبِي عَدِيٍّ ، عَنْ سَعِيدٍ ، عَنْ قَتَادَةَ ، عَنْ نَصْرِ بْنِ عَاصِمٍ , عَنْ مَالِكِ بْنِ الْحُوَيْرِثِ ، أَنَّهُ رَأَى نَبِيَّ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ:" يَرْفَعُ يَدَيْهِ فِي صَلَاتِهِ , إِذَا رَفَعَ رَأْسَهُ مِنْ رُكُوعِهِ، وَإِذَا سَجَدَ، وَإِذَا رَفَعَ رَأْسَهُ مِنْ سُجُودِهِ , حَتَّى يُحَاذِيَ بِهَا فُرُوعَ أُذُنَيْهِ".
سیدنا مالک بن حویرث سے مروی ہے کہ انہوں نے نبی صلی اللہ علیہ وسلم کو نماز میں رکوع سے سر اٹھاتے وقت سجدہ کرتے وقت اور سجدے سے سر اٹھاتے وقت رفع یدین کرتے ہوئے دیکھا ہے یہاں تک کہ آپ اپنے ہاتھوں کو کانوں کی لو کے برابر کر لیتے تھے۔ [مسند احمد/مسنَد المَكِّیِّینَ/حدیث: 15600]

حکم دارالسلام: في إسناده عنعنة قتادة ، ومتنه صحيح دون قوله: "وإذا سجد، وإذا رفع رأسه من سجوده" فشاذ، سعيد مختلط ورواية ابن أبى عدي عنه بعد اختلاطه، لكنه توبع
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 15601
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا إِسْمَاعِيلُ ، عَنْ خَالِدٍ الْحَذَّاءِ ، عَنْ أَبِي قِلَابَةَ , عَنْ مَالِكِ بْنِ الْحُوَيْرِثِ , أَنّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ لَهُ وَلِصَاحِبٍ لَهُ:" إِذَا حَضَرَتْ الصَّلَاةُ فَأَذِّنَا وَأَقِيمَا" وَقَالَ مَرَّةً:" فَأَقِيمَا، ثُمَّ لِيَؤُمَّكُمَا أَكْبَرُكُمَا" , قَالَ خَالِدٌ: فَقُلْتُ لِأَبِي قِلَابَةَ فَأَيْنَ الْقِرَاءَةُ؟ قَالَ: إِنَّهُمَا كَانَا مُتَقَارِبَيْنِ.
سیدنا مالک بن حویرث سے مروی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے ان سے اور ان کے ایک ساتھی سے فرمایا: جب نماز کا وقت آ جائے تو اذان دو اور اقامت کہواور جو سب سے بڑا ہواسے امامت کر نی چاہئے۔ [مسند احمد/مسنَد المَكِّیِّینَ/حدیث: 15601]

حکم دارالسلام: إسناده صحيح، خ: 630، م: 674
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 15602
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا أَبُو عُبَيْدَةَ يَعْنِي الْحَدَّادَ , قَالَ: حَدَّثَنَا أَبَانُ , قَالَ الْعَطَّارُ، عَنْ بُدَيْلٍ ، عَنْ أَبِي عَطِيَّةَ , عَنْ مَالِكِ بْنِ الْحُوَيْرِثِ , قَالَ: زَارَنَا فِي مَسْجِدِنَا، قَالَ: فَأُقِيمَتْ الصَّلَاةُ، فَقَالُوا: أُمَّنَا رَحِمَكَ اللَّهُ، فَقَالَ: لَا يُصَلِّي رَجُلٌ مِنْكُمْ، قَالَ: فَلَمَّا قَضَى الصَّلَاةَ , قَالَ: إِنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ:" إِذَا زَارَ رَجُلٌ قَوْمًا فَلَا يَؤُمَّهُمْ، يَؤُمُّهُمْ رَجُلٌ مِنْهُمْ".
ابوعطیہ کہتے ہیں کہ ایک مرتبہ سیدنا مالک بن حویرث ہماری مسجد میں تشریف لائے نماز کھڑی ہوئی تو لوگوں نے ان سے امامت کی درخواست کی انہوں نے انکار کر دیا اور فرمایا کہ تم ہی میں سے کوئی آدمی نماز پڑھائے بعد میں تمہیں ایک حدیث سناؤں گا۔ نماز سے فارغ ہو نے کے بعد انہوں نے فرمایا کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: جب کوئی شخص کسی کو ملنے کے لئے جائے تو وہ امامت نہ کر ے بلکہ ان کا ہی کوئی آدمی انہیں نماز پڑھائے۔ [مسند احمد/مسنَد المَكِّیِّینَ/حدیث: 15602]

حکم دارالسلام: إسناده ضعيف لجهالة أبى عطية
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 15603
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا يُونُسُ بْنُ مُحَمَّدٍ ، حَدَّثَنَا أَبَانُ بْنُ يَزِيدَ الْعَطَّارُ ، عَنْ بُدَيْلِ بْنِ مَيْسَرَةَ الْعُقَيْلِيِّ ، قَالَ: حَدَّثَنِي أَبُو عَطِيَّةَ ، مَوْلًى مِنَّا , عَنْ مَالِكِ بْنِ الْحُوَيْرِثِ ، قَالَ: كَانَ يَأْتِينَا فِي مُصَلَّانَا، فَقِيلَ لَهُ تَقَدَّمْ فَصَلِّ، فَقَالَ: لِيُصَلِّ بَعْضُكُمْ حَتَّى أُحَدِّثَكُمْ لِمَ لَمْ أُصَلِّ بِكُمْ , فَلَمَّا صَلَّى الْقَوْمُ، قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ:" إِذَا زَارَ أَحَدُكُمْ قَوْمًا، فَلَا يُصَلِّ بِهِمْ، لِيُصَلِّ بِهِمْ رَجُلٌ مِنْهُمْ".
ابوعطیہ کہتے ہیں کہ ایک مرتبہ سیدنا مالک بن حویرث ہماری مسجد میں تشریف لائے نماز کھڑی ہوئی تو لوگوں نے ان سے امامت کی درخواست کی انہوں نے انکار کر دیا اور فرمایا کہ تم ہی میں سے کوئی آدمی نماز پڑھائے بعد میں تمہیں ایک حدیث سناؤں گا۔ نماز سے فارغ ہو نے کے بعد انہوں نے فرمایا کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: جب کوئی شخص کسی کو ملنے کے لئے جائے تو وہ امامت نہ کر ے بلکہ ان کا ہی کوئی آدمی انہیں نماز پڑھائے۔ [مسند احمد/مسنَد المَكِّیِّینَ/حدیث: 15603]

حکم دارالسلام: إسناده ضعيف لجهالة أبى عطية
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 15604
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ جَعْفَرٍ ، حَدَّثَنَا سَعِيدٌ ، عَنْ قَتَادَةَ ، عَنْ نَصْرِ بْنِ عَاصِمٍ , عَنْ مَالِكِ بْنِ الْحُوَيْرِثِ ، أَنَّهُ رَأَى رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ:" يَرْفَعُ يَدَيْهِ إِذَا أَرَادَ أَنْ يَرْكَعَ، وَإِذَا رَفَعَ رَأْسَهُ مِنَ الرُّكُوعِ، وَإِذَا رَفَعَ رَأْسَهُ مِنَ السُّجُودِ، حَتَّى يُحَاذِيَ بِهِمَا فُرُوعَ أُذُنَيْهِ".
سیدنا مالک بن حویرث سے مروی ہے کہ انہوں نے نبی صلی اللہ علیہ وسلم کو نماز میں رکوع سے سر اٹھاتے وقت سجدہ کرتے وقت اور سجدے سے سر اٹھاتے وقت رفع یدین کرتے ہوئے دیکھا ہے یہاں تک کہ آپ اپنے ہاتھوں کو کانوں کی لو کے برابر کر لیتے تھے۔ [مسند احمد/مسنَد المَكِّیِّینَ/حدیث: 15604]

حکم دارالسلام: في إسناده عنعنة قتادة ، ومتنه صحيح دون قوله: "وإذا سجد، وإذا رفع رأسه من سجوده" فشاذ، سعيد بن أبى عروبة مختلط ورواية ابن أبى عدي عنه بعد اختلاطه، لكنه توبع
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں