🏠 👥 🔍 🧩 🅰️ 📌 ↩️

Join Whatsapp Channel
صحيح البخاري سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
حدیث کتب میں نمبر سے حدیث تلاش کریں:

صحیح بخاری میں ترقیم شاملہ سے تلاش کل احادیث (7563)
حدیث نمبر لکھیں:
حدیث میں عربی لفظ/الفاظ تلاش کریں
عربی لفظ / الفاظ لکھیں:
حدیث میں اردو لفظ/الفاظ تلاش کریں
اردو لفظ / الفاظ لکھیں:

47. بَابُ إِذَا كَانُوا أَكْثَرَ مِنْ ثَلاَثَةٍ فَلاَ بَأْسَ بِالْمُسَارَّةِ وَالْمُنَاجَاةِ:
باب: جب تین سے زیادہ آدمی ہوں تو کانا پھوسی کرنے میں کوئی حرج نہیں ہے۔
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 6290
حَدَّثَنَا عُثْمَانُ، حَدَّثَنَا جَرِيرٌ، عَنْ مَنْصُورٍ، عَنْ أَبِي وَائِلٍ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ، قَالَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ:" إِذَا كُنْتُمْ ثَلَاثَةً، فَلَا يَتَنَاجَى رَجُلَانِ دُونَ الْآخَرِ حَتَّى تَخْتَلِطُوا بِالنَّاسِ أَجْلَ أَنْ يُحْزِنَهُ".
ہم سے عثمان بن ابی شیبہ نے بیان کیا، کہا ہم سے جریر بن عبدالحمید نے بیان کیا، ان سے منصور بن معتمر نے، ان سے ابووائل نے اور ان سے عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ نے بیان کیا کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا جب تین آدمی ہوں تو تیسرے ساتھی کو چھوڑ کر تم آپس میں کانا پھوسی (سرگوشی) نہ کیا کرو۔ اس لیے کہ لوگوں کو رنج ہو گا البتہ اگر دوسرے آدمی بھی ہوں تو مضائقہ نہیں۔ [صحيح البخاري/كِتَاب الِاسْتِئْذَانِ/حدیث: 6290]
حضرت عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ سے روایت ہے، انہوں نے کہا کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: جب تم تین آدمی ہو تو تیسرے ساتھی کو چھوڑ کر دو آدمی آپس میں سرگوشی نہ کیا کریں کیونکہ ایسا کرنے سے تیسرے کو رنج ہوگا۔ اگر لوگ آپس میں ملے جلے ہوں تو کوئی حرج نہیں۔ [صحيح البخاري/كِتَاب الِاسْتِئْذَانِ/حدیث: 6290]
تخریج الحدیث: «أحاديث صحيح البخاريّ كلّها صحيحة»

الحكم على الحديث: أحاديث صحيح البخاريّ كلّها صحيحة
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 6291
حَدَّثَنَا عَبْدَانُ، عَنْ أَبِي حَمْزَةَ، عَنِ الْأَعْمَشِ، عَنْ شَقِيقٍ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ، قَالَ: قَسَمَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَوْمًا قِسْمَةً، فَقَالَ رَجُلٌ مِنَ الْأَنْصَارِ: إِنَّ هَذِهِ لَقِسْمَةٌ مَا أُرِيدَ بِهَا وَجْهُ اللَّهِ، قُلْتُ: أَمَا وَاللَّهِ لَآتِيَنَّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَأَتَيْتُهُ وَهُوَ فِي مَلَإٍ فَسَارَرْتُهُ، فَغَضِبَ حَتَّى احْمَرَّ وَجْهُهُ، ثُمَّ قَالَ:" رَحْمَةُ اللَّهِ عَلَى مُوسَى أُوذِيَ بِأَكْثَرَ مِنْ هَذَا فَصَبَرَ".
ہم سے عبدان نے بیان کیا، ان سے ابوحمزہ محمد بن میمون نے، ان سے اعمش نے، ان سے شقیق نے اور ان سے عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ نے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے ایک مرتبہ کچھ مال تقسیم فرمایا اس پر انصار کے ایک شخص نے کہا کہ یہ ایسی تقسیم ہے جس سے اللہ کی خوشنودی مقصود نہ تھی میں نے کہا کہ ہاں! اللہ کی قسم میں نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں جاؤں گا۔ چنانچہ میں گیا، نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم اس وقت مجلس میں بیٹھے ہوئے تھے میں نے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے کان میں چپکے سے یہ بات کہی تو آپ غصہ ہو گئے اور آپ کا چہرہ سرخ ہو گیا پھر آپ نے فرمایا کہ موسیٰ علیہ السلام پر اللہ کی رحمت ہو انہیں اس سے بھی زیادہ تکلیف پہنچائی گئی لیکن انہوں نے صبر کیا (پس میں بھی صبر کروں گا)۔ [صحيح البخاري/كِتَاب الِاسْتِئْذَانِ/حدیث: 6291]
حضرت عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے ایک مرتبہ کچھ مال تقسیم فرمایا، اس پر انصار کے ایک شخص نے کہا: یہ ایک ایسی تقسیم ہے جس میں اللہ کی رضا مقصود نہیں۔ میں نے (دل میں کہا): اللہ کی قسم! میں نبی صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں جاؤں گا، چنانچہ میں حاضرِ خدمت ہوا تو اس وقت آپ صلی اللہ علیہ وسلم ایک مجلس میں بیٹھے ہوئے تھے، میں نے چپکے سے آپ کے کان میں بات کی، آپ غصے سے بھر گئے حتیٰ کہ آپ کا چہرہ انور سرخ ہوگیا، پھر آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: «یَرْحَمُ اللہُ مُوسٰی» اللہ تعالیٰ حضرت موسیٰ علیہ السلام پر رحم فرمائے، انہیں اس سے بھی زیادہ تکلیف پہنچائی گئی مگر انہوں نے صبر سے کام لیا۔ [صحيح البخاري/كِتَاب الِاسْتِئْذَانِ/حدیث: 6291]
تخریج الحدیث: «أحاديث صحيح البخاريّ كلّها صحيحة»

الحكم على الحديث: أحاديث صحيح البخاريّ كلّها صحيحة
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں