🏠 👥 🔍 🧩 🅰️ 📌 ↩️

مسند احمد سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
حدیث کتب میں نمبر سے حدیث تلاش کریں:

مسند احمد میں ترقیم شاملہ سے تلاش کل احادیث (27647)
حدیث نمبر لکھیں:
حدیث میں عربی لفظ/الفاظ تلاش کریں
عربی لفظ / الفاظ لکھیں:
حدیث میں اردو لفظ/الفاظ تلاش کریں
اردو لفظ / الفاظ لکھیں:

347. حَدِیث خفَافِ بنِ اِیمَاءِ بنِ رَحَضَةَ الغِفَارِیِّ
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 16570
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا يَزِيدُ بْنُ هَارُونَ ، قَالَ: أَخْبَرَنَا مُحَمَّدُ بْنُ إِسْحَاقَ ، عَنْ عِمْرَانَ بْنِ أَبِي أَنَسٍ ، عَنْ حَنْظَلَةَ بْنِ عَلِيٍّ الْأَسْلَمِيِّ ، عَنْ خُفَافِ بْنِ إِيمَاءِ بْنِ رَحَضَةَ الْغِفَارِيِّ ، قَالَ: صَلَّى بِنَا رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ الصُّبْحَ، وَنَحْنُ مَعَهُ، فَلَمَّا رَفَعَ رَأْسَهُ مِنَ الرَّكْعَةِ الْآخِرَةِ، قَالَ:" لَعَنَ اللَّهُ لِحْيَانًا وَرِعْلًا وَذَكْوَانًاَ، وَعُصَيَّةَ عَصَتِ اللَّهَ وَرَسُولَهُ، أَسْلَمُ سَالَمَهَا اللَّهُ، وَغِفَارٌ غَفَرَ اللَّهُ لَهَا" ثُمَّ وَقَعَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ سَاجِدًا، فَلَمَّا انْصَرَفَ قَرَأَ عَلَى النَّاسِ، فَقَالَ:" يَا أَيُّهَا النَّاسُ، إِنِّي لَسْتُ أَنَا قُلْتُهُ وَلَكِنَّ اللَّهَ عَزَّ وَجَلَّ قَالَهُ".
سیدنا خفاف بن ایماء رضی اللہ عنہ سے رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہا ایک مرتبہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے ہمیں فجر کی نماز پڑھائی جب دوسری رکعت کے رکوع سے سر اٹھایا تو (قنوت نازلہ پڑھتے ہوئے) یہ دعاء کہ اللہ تعالیٰ کی لعنت ہو قبیلہ لحیان، رعل اور ذکوان پر اور قبیلہ عصیہ نے اللہ اور اس کے رسول کی نافرمانی کی ہے قبیلہ اسلم کو اللہ سلامت رکھے اور قبیلہ غفار کی اللہ تعالیٰ بخشش فرمائے، پھر سجدے میں چلے گئے اور نماز سے فارغ ہو کر لوگوں سے فرمایا: لوگو! بخدا! یہ جملے میں نے نہیں کہے بلکہ خود اللہ تعالیٰ نے کہے ہیں۔ [مسند احمد/مسنَدِ المَدَنِیِّینَ رَضِیَ اللَّه عَنهم اَجمَعِینَ/حدیث: 16570]

حکم دارالسلام: حديث صحيح، محمد بن إسحاق مدلس، وقد عنعن، لكنه توبع
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 16571
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا يَزِيدُ بْنُ هَارُونَ ، قَالَ: أَخْبَرَنَا مُحَمَّدُ بْنُ إِسْحَاقَ ، عَنْ خَالِدِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ حَرْمَلَةَ ، عَنِ الْحَارِثِ بْنِ خُفَافٍ ، عَنْ أَبِيهِ خُفَافِ بْنِ إِيمَاءِ بْنِ رَحَضَةَ الْغِفَارِيّ ، قَالَ: رَكَعَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فِي الصَّلَاةِ، ثُمَّ رَفَعَ رَأْسَهُ، فَقَالَ:" غِفَارُ غَفَرَ اللَّهُ لَهَا، وَأَسْلَمُ سَالَمَهَا اللَّهُ، وَعُصَيَّةُ عَصَتْ اللَّهَ وَرَسُولَهُ، اللَّهُمَّ الْعَنْ بَنِي لَحْيَانَ، اللَّهُمَّ الْعَنْ رِعْلًا وَذَكْوَانَ" ثُمَّ كَبَّرَ وَوَقَعَ سَاجِدًا، قَالَ خُفَافٌ: فَجُعِلَتْ لَعْنَةُ الْكَفَرَةِ مِنْ أَجْلِ ذَلِكَ.
سیدنا خفاف بن ایماء رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ ایک مرتبہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے ہمیں فجر کی نماز پڑھائی، جب دوسری رکعت کے رکوع سے سر اٹھایا تو (قنوت نازلہ پڑھتے ہوئے) یہ دعاء کہ اللہ تعالیٰ کی لعنت ہو قبیلہ لحیان، رعل اور ذکوان پر اور قبیلہ عصیہ نے اللہ اور اس کے رسول کی نافرمانی کی ہے، قبیلہ اسلم کو اللہ سلامت رکھے اور قبیلہ غفار کی اللہ تعالیٰ بخشش فرمائے، پھر تکبیر کہہ کر سجدے میں چلے گئے۔ [مسند احمد/مسنَدِ المَدَنِیِّینَ رَضِیَ اللَّه عَنهم اَجمَعِینَ/حدیث: 16571]

حکم دارالسلام: حديث صحيح، محمد بن إسحاق مدلس لكنه توبع
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 16572
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا يَعْقُوبُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ ، قَالَ: حَدَّثَنَا أَبِي ، عَنِ ابْنِ إِسْحَاقَ ، قَالَ: حَدَّثْنِي عَنْ افْتِرَاشِ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَخِذَهُ الْيُسْرَى فِي وَسَطِ الصَّلَاةِ، وَفِي آخِرِهَا، وَقُعُودِهِ عَلَى وَرِكِهِ الْيُسْرَى، وَوَضْعِهِ يَدَهُ الْيُسْرَى عَلَى فَخِذِهِ الْيُسْرَى، وَنَصْبِهِ قَدَمَهُ الْيُمْنَى، وَوَضْعِهِ يَدَهُ الْيُمْنَى عَلَى فَخِذِهِ الْيُمْنَى، وَنَصْبِهِ أُصْبُعَهُ السَّبَّابَةَ يُوَحِّدُ بِهَا رَبَّهُ عَزَّ وَجَلَّ" عِمْرَانُ بْنُ أَبِي أَنَسٍ ، أَخُو بَنِي عَامِرِ بْنِ لُؤَيٍّ وَكَانَ ثِقَةً، عَنْ أَبِي الْقَاسِمِ مِقْسَمٍ مَوْلَى عَبْدِ اللَّهِ بْنِ الْحَارِثِ بْنِ نَوْفَلٍ، قَالَ: حَدَّثَنِي رَجُلٌ مِنْ أَهْلِ الْمَدِينَةِ، قَالَ: صَلَّيْتُ فِي مَسْجِدِ بَنِي غِفَارٍ، فَلَمَّا جَلَسْتُ فِي صَلَاتِي افْتَرَشْتُ فَخِذِي الْيُسْرَى، وَنَصَبْتُ السَّبَّابَةَ، قَالَ: فَرَآنِي خُفَافُ بْنُ إِيمَاءِ بْنِ رَحَضَةَ الْغِفَارِيُّ ، وَكَانتَْ لَهُ صُحْبَةٌ مَعَ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَأَنَا أَصْنَعُ ذَلِكَ، قَالَ: فَلَمَّا انْصَرَفْتُ مِنْ صَلَاتِي، قَالَ لِي: أَيْ بُنَيَّ، لِمَ نَصَبْتَ أُِصْبُعَكَ هَكَذَا؟، قَالَ: وَمَا تُنْكِرُ؟ رَأَيْتُ النَّاسَ يَصْنَعُونَ ذَلِكَ، قَالَ: فَإِنَّكَ أَصَبْتَ، إِنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ كَانَ إِذَا صَلَّى يَصْنَعُ ذَلِكَ، فَكَانَ الْمُشْرِكُونَ يَقُولُونَ إِنَّمَا يَصْنَعُ هَذَا مُحَمَّدٌ بِأُصْبُعِهِ يَسْحَرُهَا وَكَذَبُوا، إِنَّمَا كَانَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَصْنَعُ ذَلِكَ يُوَحِّدُ بِهَا رَبَّهُ عَزَّ وَجَلَّ.
اہل مدینہ میں سے ایک صاحب بیان کرتے ہیں کہ ایک مرتبہ میں نے بنوغفار کی ایک مسجد میں نماز پڑھی میں جب دو رکعتیں پڑھ کر بیٹھا تو میں نے بائیں ران کو بچھا لیا اور شہادت والی انگلی کو کھڑا کر لیا (کیونکہ ہمیں یہی بتایا گیا تھا کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم درمیان نماز اور اختتام نماز پر اپنی بائیں ران کو بچھا لیتے تھے، بائیں کو ل ہے پر بیٹھ جاتے تھے، بائیں ہاتھ کو بائیں ران پر رکھتے، دائیں پاؤں کو کھڑا کر لیتے اور دائیں ران پر اپنا داہنا ہاتھ رکھ لیتے اور شہادت والی انگلی کھڑی کر لیتے اور اس سے اللہ کی وحدانیت کی طرف اشارہ فرماتے تھے) مجھے سیدنا خفاف بن ایماء نے ' جنہیں نبی صلی اللہ علیہ وسلم کی صحابیت کا شرف حاصل تھا ' اس طرح کرتے ہوئے دیکھ لیا۔ جب میں نماز سے فارغ ہوا تو وہ مجھ سے کہنے لگے بیٹا! تم نے اپنی انگلی اس طرح کیوں کھڑی رکھی؟ میں نے عرض کیا: کہ اس میں تعجب کی کون سی بات ہے؟ میں نے سب لوگوں کو اسی طرح کرتے ہوئے دیکھا ہے انہوں نے فرمایا: تم نے صحیح کیا نبی صلی اللہ علیہ وسلم بھی جب نماز پڑھتے تھے تو یونہی کرتے تھے مشرکین یہ دیکھ کر کہتے کہ محمد صلی اللہ علیہ وسلم اس طرح کر کے اپنی انگلی سے ہم پر جادو کرتے ہیں حالانکہ وہ غلط کہتے تھے نبی صلی اللہ علیہ وسلم تو اس طرح اللہ کی وحدانیت کا اظہار کرتے تھے۔ [مسند احمد/مسنَدِ المَدَنِیِّینَ رَضِیَ اللَّه عَنهم اَجمَعِینَ/حدیث: 16572]

حکم دارالسلام: إسناده ضعيف الإبهام الرجل الراوي عن خفاف
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں